<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	xmlns:georss="http://www.georss.org/georss" xmlns:geo="http://www.w3.org/2003/01/geo/wgs84_pos#" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/"
	>

<channel>
	<title>پروفیسر عقیل کا بلاگ</title>
	<atom:link href="http://aqilkhans.wordpress.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://aqilkhans.wordpress.com</link>
	<description>مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنا، ان کے اسباب مختلف اسالیب میں بیان کرنا اور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر  حل تجویز کرنا اس بلاگ کے  مقاصد ہیں۔</description>
	<lastBuildDate>Sat, 25 Feb 2012 08:58:09 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.com/</generator>
<cloud domain='aqilkhans.wordpress.com' port='80' path='/?rsscloud=notify' registerProcedure='' protocol='http-post' />
<image>
		<url>http://s2.wp.com/i/buttonw-com.png</url>
		<title>پروفیسر عقیل کا بلاگ</title>
		<link>http://aqilkhans.wordpress.com</link>
	</image>
	<atom:link rel="search" type="application/opensearchdescription+xml" href="http://aqilkhans.wordpress.com/osd.xml" title="پروفیسر عقیل کا بلاگ" />
	<atom:link rel='hub' href='http://aqilkhans.wordpress.com/?pushpress=hub'/>
		<item>
		<title>بخل</title>
		<link>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/24/%d8%a8%d8%ae%d9%84/</link>
		<comments>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/24/%d8%a8%d8%ae%d9%84/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 24 Feb 2012 14:12:41 +0000</pubDate>
		<dc:creator>پروفیسر محمد عقیل</dc:creator>
				<category><![CDATA[تزکیہ نفس]]></category>
		<category><![CDATA[کنجوسی]]></category>
		<category><![CDATA[بخل]]></category>
		<category><![CDATA[بخل کا علاج]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://aqilkhans.wordpress.com/?p=1331</guid>
		<description><![CDATA[تعارف بخل ایک ایسی بیماری ہے جس کی بنا پر ایک شخص خود کو اور اپنے متعلقین کودستیاب نعمتوں سے بھی محروم رکھتا ہے ۔ اس کے باوجود وہ اپنی اس عادت کو درست گردانتا اور اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ کیونکہ اکثر اوقات اسے علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1331&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Jameel Noori Nastaleeq" size="4"><br />
<strong>تعارف</strong><br />
بخل ایک ایسی بیماری ہے جس کی بنا پر ایک شخص خود کو اور اپنے متعلقین کودستیاب  نعمتوں سے  بھی محروم رکھتا ہے ۔ اس کے باوجود وہ اپنی  اس عادت کو درست گردانتا  اور اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ کیونکہ اکثر اوقات اسے علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس لعنت میں گرفتار ہے۔<span id="more-1331"></span><br />
بخل  اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے جیسا کہ قرآن کی اس آیت میں بیان ہوتا ہے:<br />
&#8220;جو لو گ بخل کریں (سو کریں ) اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کرنے کی ترغیب دیں اور اللہ نے اپنے فضل سے جو کچھ انہیں دے رکھا ہے اسے چھپائیں۔ ایسے کافروں کے لئے ہم نے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے&#8221;۔(النساء:۳۷:۴)<br />
بخل کی اہمیت کی بنا پر اس کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ&#8221; بندوں پر کوئی صبح نہیں آتی، مگر اس میں دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطاء فرما اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ بخل کرنے والے کو تباہی عطا کر&#8221;۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1356)<br />
ایک اور مقام پر  حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا &#8220;ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکی ہے اور بخل سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور بخل ہی کی وجہ سے انہوں نے لوگوں کے خون بہائے اور حرام کو حلال کیا&#8221;۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر   2079   )<br />
<strong>کیس اسٹدی</strong> بخل کی نوعیت سمجھنے کے لئے درج ذیل کیس کا مطالعہ کریں۔<br />
&#8220;اسلم کی چار بیٹیاں ہیں۔ اسلم کا تعلق ایک متوسط طبقے سے ہے۔ ایک دن اس کی بچی ایک مہنگے موبائل سیٹ کی فرمائش کرتی ہے۔ لیکن اسلم رقم دستیاب ہونے کے باوجود منع کردیتا ہے۔ اگلے دن اسلم کی بیوی بتاتی ہے کہ پانی موٹر جل گئی ہے نئی موٹر لگے گی۔ اسلم رقم ہونے کے باوجود اس موٹر کے لئے بھی انکار کردیتا ہے  &#8220;۔<br />
<strong>سوالات</strong>: ۱۔کیا اسلم کا موبائل سیٹ نہ دلانا بخل ہے؟<br />
۲۔ کیا اسلم کا پانی کی موٹر نہ خریدنا بخل ہے؟<br />
ان سب سوالات کا جواب اور بخل کی نوعیت جاننے کے لئے درج ذیل مضمون پڑھئیے۔<br />
<strong>بخل کی تعریف</strong>&#8220;خرچ کرنے کے جائز موقع پر خرچ کرنے سے گریز کرنا بخل ہے&#8221;۔خرچ کرنے  کے جائز مواقع  سے مراد انسان کی جائز ضروریات ہیں۔ جن میں جبلی ضرورت، ذوق جمال کی تسکین، معاشرتی ضرویات وغیرہ شامل ہیں۔جبکہ خرچ کرنے کے ناجائز مواقع میں تکاثر، نمائش، ، تفاخر، تقابل ، اسراف وغیرہ شامل ہیں۔<br />
مثال کے طور پر ایک شخص کے بچے سردی  میں لحاف سے محروم ہیں ۔ اس کے سبب وہ بچے  بیمار پڑ جاتے ہیں ۔ لیکن  باپ ہے کہ کنجوسی کی بنا پر  لحاف خرید کر نہیں دے رہا۔ چنانچہ یہ بخل ہے۔ دوسری جانب حامد محمود کو طعنہ دیتا ہے کہ &#8220;کب تک اس چھوٹی سی گاڑی میں زندگی بتا دوگے، بڑی گاڑی لے لو تاکہ دوستوں میں تمہاری دھاک بیٹھ جائے&#8221;۔ لیکن محمود مسکر ا کر یہ کہہ دیتا ہے کہ&#8221; بڑی گاڑی میری ضرورت نہیں بلکہ اسراف ہے&#8221; ۔ چنانچہ محمود کا خرچ کرنے سے رک جا نا بخل نہیں کیونکہ یہ خرچ کرنے کا جائز موقع نہیں ہے۔<br />
<strong>بخل کیا نہیں ہے؟</strong>۱۔<br />
1.کسی ناجائز موقع پر خرچ کرنے سے رک جانا بخل نہیں۔<br />
۲۔ مستقبل کی کسی جائز ضرورت کے تحت حال میں خرچ کرنے سے رک جانا بخل نہیں۔<br />
۳۔ اسراف سے بچنے کے لئے رقم خرچ نہ کرنا بخل نہیں۔<br />
۴۔ سادہ زندگی گذارنا  اور دکھاوے سے گریز کرنا بخل نہیں۔<br />
۵۔اسراف میں مبتلا لوگوں کی کنجوسی کا طعنہ ضروری نہیں کہ بخل ہو۔<br />
<strong>بخل کے طریقے</strong>	: بخل کی اصل درحقیقت مال کو خرچ   کرنے کےجائز موقع پر خرچ کرنے سے روکنا ہے۔چنانچہ بخل یا کنجوسی کا براہ راست یا بالواسطہ اثر مال کی بچت کی صورت ہی میں نمودار ہوتا ہے۔ اس تمہید کو ذہن میں رکھتے ہوئے بخل  کے مختلف طریقوں کا مطالعہ کیجئے۔<br />
۱۔کھانے پینے کے معاملے میں بخل  کرنا اور کم تر درجے کا کھانا استعمال کرنا<br />
۲۔گھٹیا معیار کے ملبوسات استعمال کرنا<br />
۳۔سواری کے معاملے میں ًبخل کرنا<br />
۴۔بیوی یا اولاد کی جائز ضروریات   مثلاً تعلیم یا صحت پر خرچ کرتے وقت کنجوسی کرنا<br />
۵۔ رہائش  کے معاملے میں بخل کرنا<br />
<strong>بخل کے نقصانات</strong><br />
بخل کے در ج ذیل نقصانات ہوتے ہیں۔<br />
۱۔ اللہ کی ناراضگی<br />
۱۔ پست میعار زندگی<br />
۲۔  اپنے متعلقین کے حقوق کی ادائگی سے گریز<br />
۳۔ دنیا کی محبت<br />
۴۔ مال کی محبت<br />
۵۔ دولت کا ارتکاز<br />
۶۔ ضرورت مندوں کے حق پر ڈاکہ<br />
<strong>بخل کے اسباب اور ان کا تدارک</strong><br />
 عام طور پر بخل کے درج ذیل اسباب سامنے آتے ہیں:<br />
<strong>۱۔مال کی محبت</strong><br />
 مال کی محبت بخل کا پہلا سبب ہے۔ ایک بخیل شخص مال کو سینے سے  لگا کر رکھتا ، اسے گن گن کر جمع کرتا رہتا اور دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا رہتا ہے۔چنانچہ جب یہ عزیز شے اس سے جدا ہوتی ہے تو وہ اس کے فراق میں تڑپتا ہے۔ اسی تڑپ کو کم کرنے کے لئے وہ مال کو کم سے کم حد تک خود سے جدا کرنے پر راضی ہوتا ہے۔<br />
اس کا علاج یہ ہے کہ مال کی حقیقت کو جانا جائے کہ یہ زندگی گذارنے کا ذریعہ ہے مقصد نہیں۔ اس کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کیا جائے نیز اپنی اور اہل و عیال کی جائز ضرورتوں پر بھی فراخ دلی سے خرچ کیا جائے ۔اسی طرح بار بار مال گننے سے پرہیز کیا جائے۔<br />
<strong>۲۔ طویل زندگی کی خواہش:</strong>	ایک اور سبب دنیا کی محبت اور موت کی فراموشی ہے۔ ایک بخیل شخص اس مغالطے میں رہتا ہے کہ وہ اور اس کا مال ہمیشہ رہے گا۔ وہ موت کو بھول جاتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی دانست میں دنیا  کی سب سے قیمتی شے یعنی مال کو اپنے پاس سینت سینت کر رکھنے میں سکون محسوس کرتا ہے ۔<br />
اس کا علاج یہی ہے کہ موت کو زیادہ سے زیادہ یاد رکھا جائے، اس دنیا کو عارضی سمجھا جائے اور آخرت کے اعلیٰ مقام کو منزل مقصود بنایا جائے۔<br />
<strong>۳۔مستقبل کا خوف:</strong><br />
مستقبل کے لئے بچانا ایک اچھی عادت ہے لیکن حال کی  یقینی ضروریات کا  گلا گھونٹ کر مستقبل کے غیر یقینی اندیشوں کے لئے مال بچا کر رکھنا بخل کی ایک علامت ہے۔<br />
اس کا تدارک یہ ہے کہ مستقبل کے خوف سے نجات حاصل کی جائے۔ مستقبل کے اندیشے خواہ کتنے ہی بھیانک کیوں نہ ہوں ، غیر یقینی ہوتے ہیں ۔چنانچہ ایک غیر یقینی مستقبل کے لئے یقینی حال کو برباد کرنا بے عقلی ہے۔<br />
<strong>۴۔نفسیاتی عارضہ:</strong><br />
مال کا زیادہ ہونا عام طور پر امارت اور شان و شوکت کی علامت ہے۔چنانچہ ایک کنجوس شخص امیر بننے کے لئے زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنا چاہتا ہے۔ اور اس چکر میں وہ ایک نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہوجاتا ہے۔اس کا علاج یہی ہے کہ دنیا کی امارت کو نظر انداز کرتے ہوئے آخرت کے اعلیٰ مقامات کا تصور کیا جائے۔<br />
<strong>بخل سے نجات پانے کے عملی طریقے</strong><br />
۱۔ بخل سے نجات پانے کا پہلا قدم تو یہ ہے  کہ اس بات کا ادراک کیا جائے کہ آپ بخل میں مبتلا ہیں یا نہیں۔ ایک بخیل شخص  یہ بات ماننے سے انکاری ہوتا ہے کہ وہ بخیل یا کنجوس ہے۔ اگر آپ کو شک ہے کہ آپ واقعی کنجوس ہیں تو اپنے قریب ترین دوست ، بیوی، شوہر یا کسی اور قریبی عزیز سے کھل کر اپنے بارے میں رائے معلوم کریں۔ اگر اکثریت آپ کو بخیل قرار دے رہی ہے تو پھر مان لیں کہ آپ بخیل ہیں۔<br />
۲۔ جب اس بات کا ادراک ہوجائے کہ آپ بخل جیسی عادت میں مبتلا ہیں تو دوسرے اسٹیپ میں اس کا سبب معلوم کریں۔بخل کے اسباب جیسا کہ اوپر بیان کئے گئے ہیں وہ مال کی محبت، طویل زندگی کی خواہش، مستقبل کا خوف یا نفسیاتی عارضہ کی شکل میں سامنے آسکتے ہیں۔<br />
۳۔ سبب معلوم ہونے کے بعد اللہ سے دعا کریں کہ  وہ آپ کو اس گناہ سے نجات دے دیں۔اس سلسلے میں نبی کریم ؐ کی دعائیں پڑھ  کر بھی اللہ سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔<br />
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ<br />
(ترجمہ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں، غم ورنج سے اور عاجزی اور سستی سے اور بخل سے اور نامردی سے اور قرض کے بارے میں اور لوگوں کے غلبہ سے)( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 155)<br />
۴۔دعا مانگنے کے بعد متعلقہ سبب کا علاج پڑھیں۔ اور اس پر عمل درآمد کی کوشش کریں۔ ناکامی کی صورت میں اپنے اوپر جرمانہ مقرر کرلیں۔<br />
۵۔اپنی اور متعلقین کی  ضروریات کا تعین کریں اور ہر حال میں ان پر خرچ کرنے کی عادت ڈالیں۔<br />
۶۔ دولت کو ہر لمحے گننا  اور اس سے محظوظ ہونا کم یا بالکل ترک کردیں۔ بس موٹا موٹا حساب کتاب رکھ لیں اس کے بعد پیسوں کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں۔<br />
۶۔ ہر ماہ اپنی بچت کا  دس فی صد یا زائد حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔</p>
<p><strong>سوالات</strong>1۔<br />
مندرجہ بالا کیس میں کیا اسلم کا موبائل سیٹ نہ دلانا بخل ہے؟<br />
۲۔ کیا اسلم کا پانی کی موٹر نہ خریدنا بخل ہے؟<br />
۳۔ ایک شخص کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ وہ ایک مہنگا موبائل سیٹ خرہد سکتا ہے ۔ اس کے باوجود وہ ایک سستا سیٹ رکھتا ہے کیونکہ وہ منگے سیٹ کو پیسوں کا ضیاع سمجھتا ہے۔ کیا اس کا یہ طرز عمل بخل ہے؟<br />
۴۔اسلم پیزا کھانے کے لئے پیز اہٹ پر رکتا ہے لیکن اس کا دوست واحد کہتا ہے کہ چھوڑو یہ فضول خرچی ہے۔ کیا واحد کا طرز عمل بخل ہے؟<br />
۵۔اکبر جہیز کو ایک لعنت سمجھتا ہے چنانچہ وہ اپنی بیٹی کی شادی بغیر کسی جہیز دئیے کردیتا ہے، اس پر لڑکے والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ کیا اکبر کا جہیز نہ دینا بخل ہے؟<br />
<strong>جوابات</strong><br />
۱۔مندرجہ بالا کیس میں کیا اسلم کا موبائل سیٹ نہ دلانا بخل ہے؟<br />
جواب۔ نہیں کیونکہ مہنگا موبائل سیٹ اس بچی کی ضرورت نہیں<br />
۲۔ کیا اسلم کا پانی کی موٹر نہ خریدنا بخل ہے؟<br />
جواب۔ ہاں کیونکہ موٹر لگوانا ضرورت ہے<br />
۳۔ ایک شخص کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ وہ ایک مہنگی کار خرہد سکتا ہے ۔ اس کے باوجود وہ ایک سستی کار رکھتا ہے کیونکہ وہ مہنگی کار کو پیسوں کا ضیاع سمجھتا ہے۔ کیا اس کا یہ طرز عمل بخل ہے؟<br />
جواب: نہیں کیونکہ وہ مہنگی کار کو اسراف سمجھتا ہے<br />
۴۔اسلم پیزا کھانے کے لئے پیز اہٹ پر رکتا ہے لیکن اس کا دوست واحد کہتا ہے کہ چھوڑو یہ فضول خرچی ہے۔ کیا واحد کا طرز عمل بخل ہے؟<br />
جواب۔نہیں کیونکہ واحد کے نزدیک پیزا کھانا ضرورت نہیں بلکہ فضول خرچی ہے۔<br />
۵۔اکبر جہیز کو ایک لعنت سمجھتا ہے چنانچہ وہ اپنی بیٹی کی شادی بغیر کسی جہیز دئیے کردیتا ہے، اس پر لڑکے والوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ کیا اکبر کا جہیز نہ دینا بخل ہے؟<br />
جواب۔ نہیں بلکہ اکبر جہیز کو ضرورت نہیں سمجھتا ہے۔<br />
از پروفیسر محمد عقیل</p>
<p>http://aqilkhans.wordpress.com</p>
<p>aqilkhans@gmail.com</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/aqilkhans.wordpress.com/1331/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/aqilkhans.wordpress.com/1331/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/aqilkhans.wordpress.com/1331/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/aqilkhans.wordpress.com/1331/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/aqilkhans.wordpress.com/1331/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/aqilkhans.wordpress.com/1331/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/aqilkhans.wordpress.com/1331/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/aqilkhans.wordpress.com/1331/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/aqilkhans.wordpress.com/1331/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/aqilkhans.wordpress.com/1331/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/aqilkhans.wordpress.com/1331/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/aqilkhans.wordpress.com/1331/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/aqilkhans.wordpress.com/1331/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/aqilkhans.wordpress.com/1331/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1331&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/24/%d8%a8%d8%ae%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		<georss:point>0.000000 0.000000</georss:point>
		<geo:lat>0.000000</geo:lat>
		<geo:long>0.000000</geo:long>
		<media:content url="" medium="image">
			<media:title type="html">aqilkhans</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>میں وہی ہوں مومن مبتلا</title>
		<link>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/22/%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%db%81%db%8c-%db%81%d9%88%da%ba-%d9%85%d9%88%d9%85%d9%86-%d9%85%d8%a8%d8%aa%d9%84%d8%a7/</link>
		<comments>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/22/%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%db%81%db%8c-%db%81%d9%88%da%ba-%d9%85%d9%88%d9%85%d9%86-%d9%85%d8%a8%d8%aa%d9%84%d8%a7/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 22 Feb 2012 17:31:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>پروفیسر محمد عقیل</dc:creator>
				<category><![CDATA[گیسٹ پوسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلق با اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[Allah]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ کی محبت]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ کی آزمائش]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ کی حکمت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://aqilkhans.wordpress.com/?p=1328</guid>
		<description><![CDATA[ایک صاحب کا معمول تھا کہ عام حالات میں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کرتے کہ پروردگار مجھے اس وقت کوئی غم کوئی پریشانی نہیں ۔ میں نہ بیمار ہوں اور نہ تنگدست۔ یہ وہ حال ہے جس میں اکثر لوگ تجھے بھو ل جاتے ہیں ۔ مگر میرے مولیٰ [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1328&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Jameel Noori Nastaleeq" size="4"><br />
ایک صاحب کا معمول تھا کہ عام حالات میں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کرتے کہ پروردگار مجھے اس وقت کوئی غم کوئی پریشانی نہیں ۔ میں نہ بیمار ہوں اور نہ تنگدست۔ یہ وہ حال ہے جس میں اکثر لوگ تجھے بھو ل جاتے ہیں ۔ مگر میرے مولیٰ میں اس حال میں بھی تجھے یاد رکھے ہوئے ہوں اور کسی بیمار اور پریشان حال شخص سے بڑ ھ کرتجھے پکارتا ہوں اور تیری تعریف، تسبیح اور شکر کرتا ہوں ۔<span id="more-1328"></span><br />
  کچھ عرصے بعد ان صاحب کو ایک بہت شدید مسئلے کا سامنا ہو گیاجس کا حل کرنا ان کے بس میں نہیں تھا۔اب انہوں نے پروردگار سے صبح و شام اس طرح دعا کرنا شروع کر دی کہ پروردگار میں وہی خوشحال شخص ہوں جو آسانی و راحت میں تجھے نہیں بھولا تھا۔تیری یاد اور عبادت میری زندگی رہی۔ تیرے بندوں پر خرچ کرنا اور ان کی خدمت میری عادت رہی۔ اب میں مشکل میں گھر گیا ہوں ۔ میری مدد فرما۔ کچھ ہی عرصے میں معجزانہ طور پر ان کا مسئلہ حل ہو گیا۔ میں نے یہ واقعہ سنا تو مجھے اردو کے کلاسیکل شاعرمومن کا ایک بے مثال شعر یاد آ گیا۔ یہ شعر ان کی ایک انتہائی خوبصورت غزل کا مقطع ہے جس میں وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں ۔<br />
جسے آپ گنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے باوفا<br />
 میں وہی ہوں مومن مبتلا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو<br />
  حکیم مومن خان مومن کی غزل کا محبوب شاید انہیں بھول گیا تھا۔ مگر پروردگار عالم کچھ نہیں بھولتا۔ خاص طورپر جن لوگوں کو وہ ایک دفعہ باوفا کہہ دے اورجن کو وہ اپنے وفاداروں میں گن لے ، ان کی ہر مصیبت اور دکھ میں وہ ان کے ساتھ کھڑ ا رہتا ہے ۔ زندگی کی ہر مشکل وہ ان پر آسان کر دیتا ہے ۔ ہر حال میں ان کی مدد کرتا ہے ۔ کبھی حکمت کا تقاضہ یہ ہو کہ سختی آبھی جائے تب بھی وہ ان کے قلب پر سکینت نازل کر کے انہیں ذہنی سکون سے محروم نہیں ہونے دیتا۔  پروردگار مصیبت میں پکارنے والے ہر شخص کے ساتھ یہی معاملہ کرتے ہیں ، مگر ان لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ خصوصی طور پر کیا جاتا ہے جو خوشی اور آسانی کے لمحات میں رب کریم کو نہیں بھولتے ۔ایسامومن جب کسی سختی میں ’’مبتلا‘‘ ہوجاتا ہے تو اسے پروردگار سے یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑ تی :<br />
جسے آپ گنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے باوفا<br />
 میں وہی ہوں مومن مبتلا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو</p>
<p> بلکہ اس کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی ہر مشکل کو پروردگار پیدا ہونے سے پہلے ہی حل کرنے کا بندوبست کر دیتے ہیں ۔یہ ممکن ہے کہ ان کی حکمت کہ تحت اس مومن کی بھلائی ہی میں وہ مسئلہ حل ہونے میں کچھ وقت لے ، لیکن ایسے کسی شخص کو بے آسرا اور بے سہار ا نہیں چھوڑ ا جاتا۔ اور یہ ممکن بھی کیسے ہے ۔ جو مہربان بے وفاؤں اور احسان فراموش لوگوں پر عنایت سے نہیں رکتا وہ اپنے وفاداروں کوکیسے بھول سکتا ہے ۔  خدا کی یہی صفت ہے جو اسے اپنے بندوں کی نظر میں کائنات کی محبو ب ترین ہستی بنادیتی ہے ۔ بے شک خدا ہی اس قابل ہے کہ اس سے سب سے بڑ ھ کر محبت کی جائے</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/aqilkhans.wordpress.com/1328/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/aqilkhans.wordpress.com/1328/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/aqilkhans.wordpress.com/1328/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/aqilkhans.wordpress.com/1328/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/aqilkhans.wordpress.com/1328/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/aqilkhans.wordpress.com/1328/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/aqilkhans.wordpress.com/1328/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/aqilkhans.wordpress.com/1328/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/aqilkhans.wordpress.com/1328/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/aqilkhans.wordpress.com/1328/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/aqilkhans.wordpress.com/1328/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/aqilkhans.wordpress.com/1328/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/aqilkhans.wordpress.com/1328/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/aqilkhans.wordpress.com/1328/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1328&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/22/%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%db%81%db%8c-%db%81%d9%88%da%ba-%d9%85%d9%88%d9%85%d9%86-%d9%85%d8%a8%d8%aa%d9%84%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		<georss:point>0.000000 0.000000</georss:point>
		<geo:lat>0.000000</geo:lat>
		<geo:long>0.000000</geo:long>
		<media:content url="" medium="image">
			<media:title type="html">aqilkhans</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>قبر کا فقیر</title>
		<link>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/19/%d9%82%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%82%db%8c%d8%b1/</link>
		<comments>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/19/%d9%82%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%82%db%8c%d8%b1/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 19 Feb 2012 09:21:38 +0000</pubDate>
		<dc:creator>پروفیسر محمد عقیل</dc:creator>
				<category><![CDATA[گیسٹ پوسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[آخرت]]></category>
		<category><![CDATA[Akhirat]]></category>
		<category><![CDATA[Hereafter]]></category>
		<category><![CDATA[قبر]]></category>
		<category><![CDATA[موت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://aqilkhans.wordpress.com/?p=1324</guid>
		<description><![CDATA[پچھلے دنوں مجھے یکے بعد دیگرے دو جنازوں میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا۔ پہلا جنازہ ایک بہت صاحب حیثیت شخص کا تھا۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے زندگی میں مادی اعتبار سے غیر معمولی کامیابیاں عطا فرمائی تھیں ۔ وہ اپنے پیچھے بہت بڑ ا کاروبار اور وسیع وعریض گھر چھوڑ گئے تھے ۔ انہوں [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1324&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Jameel Noori Nastaleeq" size="4"><br />
پچھلے دنوں مجھے یکے بعد دیگرے دو جنازوں میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا۔ پہلا جنازہ ایک بہت صاحب حیثیت شخص کا تھا۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے زندگی میں مادی اعتبار سے غیر معمولی کامیابیاں عطا فرمائی تھیں ۔ وہ اپنے پیچھے بہت بڑ ا کاروبار اور وسیع وعریض گھر چھوڑ گئے تھے ۔ انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری، بچوں کی خوشیاں دیکھیں اور اپنی طبعی عمر پوری کر کے اس دنیا<span id="more-1324"></span> سے رخصت ہوئے ۔جبکہ دوسرا جنازہ ایک ایسے صاحب کا تھا جن کے پاس ملازمت تھی نہ اپنا گھر۔ ڈاکٹروں نے ان کے ایک معمولی مرض کی غلط تشخیص کی۔آپریشن ہوا۔ان کے جسم میں انفیکشن پھیل گیا اور وہ اپنی طبعی عمر سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے ۔</p>
<p>یہ محض میرے جاننے والے دو افراد نہیں ، بلکہ دو کردار ہیں جو آزمائش کی اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو تفویض کیے ہیں ۔غربت اور امارت، پانا اور کھونا، خوشی اور غمی ، آزمائش کی اس دنیا میں امتحان کے پرچے ہیں ۔اس آزمائش میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس نے اچھے برے حالات پیش آنے پر کیا رویہ اختیار کیا۔ اس نے اللہ اور بندوں کے حقوق کس حد تک پورے کیے ۔اس نے حق ، انصاف اور احسان کا رویہ اختیار کیا یا ظلم ، جہالت اور تعصب کا۔</p>
<p>اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی شخص کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار اس پر نہیں کہ دنیا میں اس نے کیا کمایا۔ اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کرتے ہیں ۔ وہ انسان کی مادی دنیا ، اس کے جسم کی طرح، خود تخلیق کرتے ہیں ۔ وہی طے کرتے ہیں کہ دنیا میں اسے کس قسم کے حالات سے گزرنا ہے ۔البتہ ایمان واخلاق کی دنیا انسان کو خود تشکیل دینا ہوتی ہے ۔یہی وہ روحانی دنیا ہے جو کل قیامت کے دن ابد تک باقی رہنے والی ایک مادی دنیا میں بدل جائے گی۔<br />
 انسان جب اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو پیدائش کے وقت کی طرح، ایک دفعہ پھر غربت و امارت کے سارے فرق مٹ جاتے ہیں ۔ہرانسان کے پاس پہننے کو صرف کفن کا اور رہنے کو محض قبر کا گڑ ھارہ جاتا ہے ۔ قبر کا یہ گڑ ھا پکار پکار کر ہر انسان کو بتاتا ہے کہ مادی دنیا میں خالی ہاتھ آنے والا انسان ، خالی ہاتھ ہی دنیا سے رخصت ہوتا ہے ۔ہاں جو چیز ساتھ جاتی ہے وہ حسنِ عمل کا سرمایہ ہے ۔جس کے پاس یہ سرمایہ ہے وہ قبر میں بھی امیر ہے ۔ جس کے پاس یہ نہیں وہ قبر میں فقیر ہے۔اورقبر کا فقیر دنیا کا سب سے بدنصیب فقیر ہوتا ہے<br />
(By ریحان احمد یوسفی)</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/aqilkhans.wordpress.com/1324/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/aqilkhans.wordpress.com/1324/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/aqilkhans.wordpress.com/1324/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/aqilkhans.wordpress.com/1324/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/aqilkhans.wordpress.com/1324/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/aqilkhans.wordpress.com/1324/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/aqilkhans.wordpress.com/1324/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/aqilkhans.wordpress.com/1324/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/aqilkhans.wordpress.com/1324/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/aqilkhans.wordpress.com/1324/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/aqilkhans.wordpress.com/1324/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/aqilkhans.wordpress.com/1324/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/aqilkhans.wordpress.com/1324/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/aqilkhans.wordpress.com/1324/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1324&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/19/%d9%82%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%82%db%8c%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		<georss:point>0.000000 0.000000</georss:point>
		<geo:lat>0.000000</geo:lat>
		<geo:long>0.000000</geo:long>
		<media:content url="" medium="image">
			<media:title type="html">aqilkhans</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>گالی اور لڑائی</title>
		<link>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/16/%da%af%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%da%91%d8%a7%d8%a6%db%8c/</link>
		<comments>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/16/%da%af%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%da%91%d8%a7%d8%a6%db%8c/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 16 Feb 2012 12:14:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>پروفیسر محمد عقیل</dc:creator>
				<category><![CDATA[سماجیات]]></category>
		<category><![CDATA[لڑائی جھگڑا]]></category>
		<category><![CDATA[گالی]]></category>
		<category><![CDATA[لڑائی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://aqilkhans.wordpress.com/?p=1320</guid>
		<description><![CDATA[شقیق، حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑائی جھگڑا کرنا کفر ہے( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1954) اس حدیث کی روشنی میں اگر ہم اپنی سوسائٹی کا جائزہ لیں تو علم ہوگا [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1320&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Jameel Noori Nastaleeq" size="4"><br />
شقیق، حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑائی جھگڑا کرنا کفر ہے( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1954)<br />
اس حدیث کی روشنی میں اگر ہم اپنی سوسائٹی کا جائزہ لیں تو علم ہوگا<span id="more-1320"></span>  ہم اس گناہ میں کتنے زیادہ ملوث ہیں۔  اس گناہ کی پہلاشکار ہماری سوشل لائف ہے ۔ مثال کے طور پرٹریفک میں ذرا سی گاڑی ٹچ ہوجانے پر تو تڑاک، اور ہاتھا پائی کی نوبت آجاتی ہے حالانکہ اکثر اوقات نقصان معمولی اور قابل برداشت ہی ہوتا ہے۔ گھریلو جھگڑوں میں بھی یہ بات دیکھی گئی ہے کہ لوگ ایک دوسر ے کو برا بھلا کہتے اور آپس میں لڑائی جھگڑا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔<br />
اس گنا ہ میں سیاست دان بھی ملوث ہیں ۔ آج کی سیاست میں ایک  دوسرے پر کیچڑ اچھالنا، انہیں برے القابات سے پکارنا اور ٹاک شوز  میں لڑنا جھگڑنا بہت عام ہوگیا ہے۔المناک بات یہ ہے کہ اس گناہ سے ہمارے قانون سازی کے ادارے یعنی پارلیمنٹ بھی محفوظ نہیں ہے۔<br />
گالم گلوج  اور لڑائی میں ہمارے مذہبی حلقے بھی پیچھے نہیں۔ فروعی مسائل میں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا، فرقہ بازی کرکے دوسرے فریق کو طنزو تشنیع کا نشانہ بنانا اور سب سے بڑھ کر دوسرے مکتب فکر کے لوگوں کو کافر قرار دینا انتہائی زیادتی کی بات ہے۔جبکہ نبی کریم ؐ کا واضح ارشار ہے کہ اگر کوئی کسی کو کافر قرار اور وہ سامنے والا کافر نہ ہو تو یہ بات کہنے والے پر ہی پلٹ آتی ہے یعنی وہ کہنے والا ہی کافر ہوجاتا ہے۔<br />
اس گناہ کا شکا ر ہمارے سرکاری و غیر سرکاری ادارے بھی ہیں جہاں کسٹومر اور اہلکار دست و گریباں ہوتے اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے نظر آتے ہیں۔ ان اداروں میں سب سے اہم کردار میڈیا کا ہے ۔ آج ٹی وی اور ریڈیوپر شوبز ، کھلاڑی اور سیاستدانوں پر پھبتی کسی جاتی ، ان کا مذاق اڑایا اتا ، انکی نجی زندگی میں مداخلت کی جاتی اور انہیں مختلف قسم کے القابات سے نوزا جاتا ہے۔ اس ضمن میں جائز حدود میں رہ کر تنقید کرنے کو کوئی برا نہیں بولتا لیکن ایک حد سے آگے بڑھنا مناسب نہیں۔<br />
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اس گناہ بچنے کا اہتما م کریں۔ اپنے غصے کو قابو میں رکھیں اور سامنے والے کی زادتی اور سختی کا جواب نرمی سے دیں۔ ورنہ ممکن ہے کہ ہم بھی اس فسق اور کفر کا شکار ہوکر آخرت میں نمراد ہوجائیں۔<br />
از پروفیسر محمد عقیل</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/aqilkhans.wordpress.com/1320/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/aqilkhans.wordpress.com/1320/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/aqilkhans.wordpress.com/1320/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/aqilkhans.wordpress.com/1320/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/aqilkhans.wordpress.com/1320/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/aqilkhans.wordpress.com/1320/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/aqilkhans.wordpress.com/1320/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/aqilkhans.wordpress.com/1320/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/aqilkhans.wordpress.com/1320/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/aqilkhans.wordpress.com/1320/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/aqilkhans.wordpress.com/1320/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/aqilkhans.wordpress.com/1320/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/aqilkhans.wordpress.com/1320/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/aqilkhans.wordpress.com/1320/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1320&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/16/%da%af%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%da%91%d8%a7%d8%a6%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		<georss:point>0.000000 0.000000</georss:point>
		<geo:lat>0.000000</geo:lat>
		<geo:long>0.000000</geo:long>
		<media:content url="" medium="image">
			<media:title type="html">aqilkhans</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>ویلنٹائن ڈے</title>
		<link>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/11/%d9%88%db%8c%d9%84%d9%86%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%88%db%92/</link>
		<comments>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/11/%d9%88%db%8c%d9%84%d9%86%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%88%db%92/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 11 Feb 2012 13:27:14 +0000</pubDate>
		<dc:creator>پروفیسر محمد عقیل</dc:creator>
				<category><![CDATA[گیسٹ پوسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سماجیات]]></category>
		<category><![CDATA[ویلنٹائن ڈے]]></category>
		<category><![CDATA[Valentine's Day]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://aqilkhans.wordpress.com/?p=1318</guid>
		<description><![CDATA[مرد و عورت کا تعلق اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ہے(روم21:30)۔اس تعلق کی بنیاد اُس کشش پر ہے جو انسانی جبلت (Instinct) میں رکھ دی گئی ہے تاکہ نسلِ انسانی آگے بڑھ سکے ۔ یہ کشش نہ ہو تو صرف ایک نسل بعد پوری انسانیت دم توڑدے گی۔مردو زن کی باہمی کشش انہیں [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1318&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Jameel Noori Nastaleeq" size="4"><br />
مرد و عورت کا تعلق اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ہے(روم21:30)۔اس تعلق کی بنیاد اُس کشش پر ہے جو انسانی جبلت (Instinct) میں رکھ دی گئی ہے تاکہ نسلِ انسانی آگے بڑھ سکے ۔ یہ کشش نہ ہو تو صرف ایک نسل بعد پوری انسانیت دم توڑدے گی۔مردو زن کی باہمی کشش انہیں مجبور کرتی ہے کہ وہ اکٹھے ہوں اور خاندان کا ادارہ تشکیل دیں۔ خاندان نہ ہو تو <span id="more-1318"></span>معصوم بچے اور ناتواں بزرگ زمانے کی سختیوں کو جھیلنے کے لیے تنہا رہ جائیں گے۔ مردوزن کے اس تعلق کی ایک اور بڑی اہمیت بھی ہے۔ دوسری تمام نعمتوں کی طرح یہ بھی انسانوں کو خالقِ کائنات کی ان بے کراںعنایات کا ایک ادنیٰ سا تعارف کراتا ہے جو اس نے جنت کی ابدی زندگی میں ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔</p>
<p>مگر مرد و زن کی یہ کشش بارہا اپنے ان مقاصد تک محدود نہیں رہتی۔شیطان انسان کی راہ میں بیٹھتا ہے اور خود اس کو ایک مقصود بنادیتا ہے۔اس کا سب سے بڑا نمونہ مغربی معاشروں کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ وہاں حیا کا فطری جذبہ بہت محدود اور عفت و عصمت (Chastity)ایک قدر کے طور پر باقی نہیں رہے۔میاں بیوی کا محدود اور پاکیزہ تعلق مرد و زن کے بے قید شہوانی تعلق میں بدل چکا ہے۔اس تعلق میں دو انسان’’ رفع حاجت ‘‘کے لیے باہم ملاقات کرتے ہیں اور دل بھر جانے کے بعد اگلے سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں۔</p>
<p>ویلنٹائن ڈے اس آزاد تعلق کو منانے کا دن ہے۔اس کی ابتدا کے متعلق یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بت پرست رومی تہذیب سے شروع ہوا یا تثلیث کے فرزندوں کی پیداوار ہے مگر اس کا فروغ ایک ایسے معاشرے میں ہوا جہاں حیا کی موت نے ہر (Love Affair) کو (Lust Affair) میں بدل دیا ہے۔ مغرب کا یہ تحفہ اب کرسمس کے بعددنیا کا سب سے زیادہ مقبول تہوار بن چکا ہے۔ہر گزرتے سال ، میڈیا کے زیر اثر، ہمارے ملک میں بھی اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>ہم مغرب سے آنے والی ہر چیز کے مخالف نہیں۔مگر کسی دوسری قوم کے وہ تہوار ،جن کا تعلق کسی تہذیبی روایت سے ہو، انہیں قبول کرتے وقت بڑا محتاط رہنا چاہیے۔یہ تہوار اس لیے منائے جاتے ہیں تاکہ کچھ عقائد وتصورات انسانی معاشروں کے اندر پیوست ہوجائیں۔ مسلمان عیدالاضحیٰ کے تہوار پر حضرت ابراہیم ؑ کی خدا سے آخری درجہ کی وفاداری کی یاد مناتے ہیں۔آج ہم ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں تو گویا ہم اس نقطۂ نظر کو تسلیم کررہے ہیں کہ مردو عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عصمت مطلوب نہیں۔اپنے نوجوانوں سے ہم پاکدامنی کا مطالبہ نہیں کریں گے۔</p>
<p>کوئی ہندو عید الاضحی کے موقع پر گائے کو ذبح کرکے مسلمانوں کے ساتھ شامل ہونے کا تصور نہیں کرسکتا۔ لیکن ہندوؤں کی موجودہ نسل گائے کے تقدس سے بے نیاز ہوکر عید کی خوشیو ںمیں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوجائے تو عین ممکن ہے کہ ان کی اگلی نسلیں صبح سویرے مسلمانوں کے ساتھ گائیں ذبح کرنے لگیں۔ٹھیک اسی طرح آج ہم ویلنٹائن ڈے پر خوشیاں منارہے ہیں اور ہماری اگلی نسلیں حیا و عصمت کے ہر تصور کو ذبح کرکے ویلنٹائن ڈے منائیں گی۔</p>
<p>اسے دور کی کوڑی مت خیال کیجیے ۔ ہماری موجودہ نسلیں صبح و شام اپنے گھروں میں مغربی فلمیں دیکھتی ہیں۔ عریاں اور فحش مناظر ان فلموں کی جان ہوتے ہیں۔ان میں ہیرو اور ہیروئن شادی کے بندھن میں جڑے بغیر ان تمام مراحل سے گزر جاتے ہیں جن کا بیان میاں بیوی کے حوالے سے بھی ہمارے ہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ایسی فلمیں دیکھ دیکھ کر جو نسلیں جوان ہوں گی وہ ویلنٹائن ڈے کو ایسے نہیں منائیں گی جیسا کہ آج اسے منایا جارہا ہے۔جب وہ نسلیں اس دن کو منائیں گی تو خاندان کا ادارہ درہم برہم ہوجائے گا۔اپنے باپ کا نام نہ جاننے والے بچوں سے معاشرہ بھر جائے گا۔مائیں حیا کا درس دینے کے بجائے اپنی بچیوں کو مانع حمل کے طریقوں کی تربیت دیا کریں گی۔سنگل پیرنٹ (Single Parent) کی نامانوس اصطلاح کی مصداق خواتین ہر دوسرے گھر میں نظر آئیں گی۔</p>
<p>آج سے چودہ سو برس قبل مدینہ کے تاجدار نے جو معاشرہ قائم کیا تھا اس کی بنیاد حیا پر رکھی گئی تھی۔جس میں زنا کرنا ہی نہیں اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم تھا۔ جس میں زنا ایک ایسی گالی تھا جو اگر کسی پاکدامن پر لگادی جائے تو اسے کوڑے مارے جاتے تھے۔جس میں عفت کے بغیر مرد و عورت کا معاشرہ میں جینا ممکن نہ تھا۔ اس معاشرے کے بانی نے فیصلہ کردیا تھا:<br />
 ’’جب تم حیا نہ کرو تو جو تمھارا جی چاہے کرو‘‘<br />
  تاجدار مدینہ کے امتیوں نے کبھی حیا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔مگر اب لگتا ہے کہ امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیر تک اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔اب وہ حیا نہیں کریں گے بلکہ جو ان کا دل چاہے گاوہی کریں گے۔ ویلنٹائن ڈے کسی دوسرے تہوار کا نام نہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ وہ تہوار ہے جب امتی اپنے آقا کو بتاتے ہیں کہ ہم وہ کریں گے جو ہمارا دل چاہے گا۔</p>
<p>(By ریحان احمد یوسفی)</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/aqilkhans.wordpress.com/1318/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/aqilkhans.wordpress.com/1318/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/aqilkhans.wordpress.com/1318/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/aqilkhans.wordpress.com/1318/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/aqilkhans.wordpress.com/1318/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/aqilkhans.wordpress.com/1318/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/aqilkhans.wordpress.com/1318/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/aqilkhans.wordpress.com/1318/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/aqilkhans.wordpress.com/1318/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/aqilkhans.wordpress.com/1318/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/aqilkhans.wordpress.com/1318/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/aqilkhans.wordpress.com/1318/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/aqilkhans.wordpress.com/1318/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/aqilkhans.wordpress.com/1318/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1318&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/11/%d9%88%db%8c%d9%84%d9%86%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%88%db%92/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		<georss:point>0.000000 0.000000</georss:point>
		<geo:lat>0.000000</geo:lat>
		<geo:long>0.000000</geo:long>
		<media:content url="" medium="image">
			<media:title type="html">aqilkhans</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>اقتدار</title>
		<link>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/10/%d8%a7%d9%82%d8%aa%d8%af%d8%a7%d8%b1/</link>
		<comments>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/10/%d8%a7%d9%82%d8%aa%d8%af%d8%a7%d8%b1/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 10 Feb 2012 12:29:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>پروفیسر محمد عقیل</dc:creator>
				<category><![CDATA[تعلق با اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[Governance]]></category>
		<category><![CDATA[Government]]></category>
		<category><![CDATA[اقتدار]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[حاکم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://aqilkhans.wordpress.com/?p=1316</guid>
		<description><![CDATA[کہتے ہیں کہ تمام نشوں میں اقتدار کا نشہ سب سے زیادہ پر اثر ہوتا ہے۔ عام طور پرانسان اس نشے میں بدمست ہوکر اپنی اوقات بھول جاتا اور خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے۔ جس حاکم کے تسلط میں وسیع و عریض علاقہ، کثیر فوج، مال و دولت کی فراوانی اور اطاعت گذار رعایاہو [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1316&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Jameel Noori Nastaleeq" size="4"><br />
کہتے ہیں کہ تمام نشوں میں اقتدار کا نشہ سب سے زیادہ پر اثر ہوتا ہے۔ عام طور پرانسان اس نشے میں بدمست ہوکر اپنی اوقات بھول جاتا اور خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے۔ جس حاکم کے تسلط میں وسیع و عریض علاقہ، کثیر فوج، مال و دولت کی فراوانی  اور اطاعت گذار رعایاہو اس کا اقتدار اتنا ہی مضبوط گردانا جاتا ہے۔ لیکن اقتدار مضبوط ہو یا کمزور، اس کی خامی یہ ہے کہ یہ ہمیشہ نہیں رہتا۔ایک نہ ایک دن یہ کسی<span id="more-1316"></span>  دوسرے حاکم کی یلغار سے ڈھ جاتا ہے یا پھر موت کا ہرکارہ اسے حکمران سے چھین لیتا ہے۔<br />
انسانوں کی حاکمیت کے برعکس  خدا کا اقتداربھی ہے۔یہ اقتدار عارضی نہیں دائمی ہے، یہ اقتدار کسی زمین کے مخصوص ٹکڑے پر نہیں بلکہ زمین ، آسمان، چاند سورج، ستاروں ، کہکشاؤں غرض پوری کائنات پر ہے۔یہ اقتدار کسی دوسرے حاکم کی یلغار سے ختم نہیں ہوسکتا۔اس کا حکم ہر شے پر جاری ہے ۔ عالم اصغر میں الیکٹران اسی کے حکم سے محوگرد  ش ہے تو  عالم اکبر میں سورج زمین کے پھیرے لگانے میں مصروف ہے۔نباتات اسی کے حکم پر پھل اور پھول سے پیدا کررہے ہیں تو رنگ برنگے پرندے تعمیل ِحکم میں دنیا کو رنگین کررہے ہیں۔کہیں پہاڑ کی ایستادگی خدا کی اطاعت کا مظہرہے تو کہیں  بہتے دریا  اس کے اقتدار کو اپنے اوپر نافذ کئے ہوئے  بہہ رہےہیں۔<br />
اس لامتناہی طاقت اور اقتدار کے باوجود خدا بڑا عالی ظرف ہے۔ وہ انسانوں کی طرح اپنی طاقت کے نشے سے مغلوب نہیں ہوتا۔ وہ اس بے پناہ قوت ، شان اور شوکت کے باوجود اپنی مخلوق کے ساتھ بہت رحیم، شفیق، مہربان اور نرمی برتنے والا ہے۔چنانچہ آج ملحدین اس کا انکار کررہے ہیں لیکن وہ انہیں رزق دے رہا ہے۔ آج لوگ اس کی نافرمانی میں شراب و کباب کی محفل جمائے بیٹھے ہیں لیکن وہ صرف نظر کررہا ہے۔ آج وحشی اسکی مخلوق کو ناحق قتل کررہے ہیں لیکن وہ قاتلوں کو ڈھیل دے رہا ہے۔ آج لوگ اسے بھول کر دنیا میں مست ہیں لیکن وہ اپنا جودو کرم جاری رکھے ہوئے ہے کہ شاید یہ نافر مان لوگ مان جائیں اور پلٹ کر اپنے رب کی بندگی میں آجائیں۔ کوئی ہے ایسا بادشاہ جو اتنا شفیق اور مہربان ہو؟ کوئی ہے ایسا حاکم جو قہر کرنے میں اتنا دھیما ہو؟ کوئی ہے ایسا مقتدر جو اپنے نافرمانوں کو اتنا موقع دے؟<br />
لیکن یہ خدا کے اقتدار کا ایک رخ ہے۔ اس کا دوسرا پہلو آخرت ہے۔ اس روز یہ بادشاہ حقیقی مہلت ختم کرکےاپنی شفقت و مہربانی صرف اپنے فرمانبرداروں کے لئے مخصوص کردے گا ۔دوسری جانب ناہنجاروں کو اس شفقت سے محروم کردیا جائے گا۔چنانچہ آئیے اور آج اس مہلت سے فائدہ اٹھالیجئے ۔<br />
از پروفیسر محمد عقیل   </p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/aqilkhans.wordpress.com/1316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/aqilkhans.wordpress.com/1316/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/aqilkhans.wordpress.com/1316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/aqilkhans.wordpress.com/1316/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/aqilkhans.wordpress.com/1316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/aqilkhans.wordpress.com/1316/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/aqilkhans.wordpress.com/1316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/aqilkhans.wordpress.com/1316/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/aqilkhans.wordpress.com/1316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/aqilkhans.wordpress.com/1316/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/aqilkhans.wordpress.com/1316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/aqilkhans.wordpress.com/1316/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/aqilkhans.wordpress.com/1316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/aqilkhans.wordpress.com/1316/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1316&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/10/%d8%a7%d9%82%d8%aa%d8%af%d8%a7%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		<georss:point>0.000000 0.000000</georss:point>
		<geo:lat>0.000000</geo:lat>
		<geo:long>0.000000</geo:long>
		<media:content url="" medium="image">
			<media:title type="html">aqilkhans</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>مردوں کے کان</title>
		<link>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/08/%d9%85%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%a9%d8%a7%d9%86/</link>
		<comments>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/08/%d9%85%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%a9%d8%a7%d9%86/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 08 Feb 2012 14:01:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>پروفیسر محمد عقیل</dc:creator>
				<category><![CDATA[گیسٹ پوسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سماجیات]]></category>
		<category><![CDATA[گھریلو جھگڑے]]></category>
		<category><![CDATA[ساس بہو]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://aqilkhans.wordpress.com/?p=1314</guid>
		<description><![CDATA[اردو زبان میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ مردوں کے کان ہوتے ہیں آنکھیں نہیں ہوتیں ۔ یہ کہاوت ظاہرہے خاندانی جھگڑ وں میں مردوں کے کردار کا بیان ہے ، مگر درحقیقت یہ ایک ایسی انسانی کمزوری کا بیان ہے جس پر اگر قابو نہ پایاجائے تو معاشرہ ہر پہلو سے انتشار کا شکار [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1314&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Jameel Noori Nastaleeq" size="4"><br />
اردو زبان میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ مردوں کے کان ہوتے ہیں آنکھیں نہیں ہوتیں ۔ یہ کہاوت ظاہرہے خاندانی جھگڑ وں میں مردوں کے کردار کا بیان ہے ، مگر درحقیقت یہ ایک ایسی انسانی کمزوری کا بیان ہے جس پر اگر قابو نہ پایاجائے تو معاشرہ ہر پہلو سے انتشار کا شکار ہو سکتا ہے ۔ <span id="more-1314"></span></p>
<p> ساس بہو کا جھگڑ اہماری معاشرت کا ایک حصہ ہے ۔ اس جنگ میں فریقین کی خواہش ہوتی ہے کہ مرد جو کہ ماں کا بیٹا اور بیوی کا شوہر ہوتا ہے ، اسے اپنی طرف کر لیا جائے ۔ کسی بھی اختلاف کی شکل میں دونوں طرف کی خواتین بات کو اپنے انداز سے بیان کرتی ہیں ۔ ایسے میں مرد اگر صرف اپنے کانوں کا استعمال کرے اورجو فریق زیادہ چرب زبان اور ہوشیار ہو اس کی باتوں کو درست مان کر اس کی طرفداری کرنے لگے تو وہ زیادتی کا مرتکب ہو گا۔ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی آنکھیں بھی استعمال کرے ۔یعنی حقائق کا جائزہ لے ، ہر معاملے کی پوری تحقیق کرے اور اس کے بعد ہی کوئی رائے قائم کرے ۔</p>
<p> سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے پوری معلومات، مکمل چھان بین اور غیر جانبدارانہ تحقیق کے بعد رائے قائم کرنا نہ صرف ہمارے دین کی ایک بنیادی تعلیم ہے بلکہ علم، اخلاق اور عقل کا بھی ایک لازمی تقاضہ ہے ۔ بدقسمتی سے اس دور انحطاط میں مسلمان جن اعلیٰ اخلاقی اور دینی صفات سے محروم ہو چکے ہیں ، ان میں سے ایک وصف یہ بھی ہے ۔ اس کے نتائج ہم خاندانی جھگڑ وں کی شکل میں بھی دیکھتے ہیں اور معاشرے میں روز افزوں انتشار، عناد، باہمی نفرت اور تعلقات کی خرابی کی شکل میں ہر روز ہمارے سامنے آتے ہیں ۔<br />
 لیکن ایک حقیقی مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کانوں کے ساتھ آنکھوں کا بھی استعمال کرے اور تعصب سے دور رہ کر مکمل تحقیق کے بعد ہی کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم کرے ۔<br />
 (By ریحان احمد یوسفی)</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/aqilkhans.wordpress.com/1314/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/aqilkhans.wordpress.com/1314/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/aqilkhans.wordpress.com/1314/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/aqilkhans.wordpress.com/1314/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/aqilkhans.wordpress.com/1314/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/aqilkhans.wordpress.com/1314/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/aqilkhans.wordpress.com/1314/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/aqilkhans.wordpress.com/1314/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/aqilkhans.wordpress.com/1314/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/aqilkhans.wordpress.com/1314/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/aqilkhans.wordpress.com/1314/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/aqilkhans.wordpress.com/1314/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/aqilkhans.wordpress.com/1314/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/aqilkhans.wordpress.com/1314/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1314&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/08/%d9%85%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%a9%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		<georss:point>0.000000 0.000000</georss:point>
		<geo:lat>0.000000</geo:lat>
		<geo:long>0.000000</geo:long>
		<media:content url="" medium="image">
			<media:title type="html">aqilkhans</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>قصر الزہرہ</title>
		<link>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/06/%d9%82%d8%b5%d8%b1-%d8%a7%d9%84%d8%b2%db%81%d8%b1%db%81/</link>
		<comments>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/06/%d9%82%d8%b5%d8%b1-%d8%a7%d9%84%d8%b2%db%81%d8%b1%db%81/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 06 Feb 2012 11:40:57 +0000</pubDate>
		<dc:creator>پروفیسر محمد عقیل</dc:creator>
				<category><![CDATA[گیسٹ پوسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[آخرت]]></category>
		<category><![CDATA[جنت]]></category>
		<category><![CDATA[جنت کی نعمت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://aqilkhans.wordpress.com/?p=1311</guid>
		<description><![CDATA[عبد الرحمن ثالث اسپین کا ایک عظیم حکمران تھا۔وہ 300ھ میں اس وقت اقتدار میں آیا جب اسپین کی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوکر یورپ کی مسیحی طاقتوں کا نوالہ بننے والی تھی۔مگر نصف صدی کے اس کے اقتدار کے بعد350ھ میں جب اس کا انتقال ہوا تو اسپین یا اندلس پورے یورپ سے زیادہ طاقتور [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1311&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Jameel Noori Nastaleeq" size="4"><br />
عبد الرحمن ثالث اسپین کا ایک عظیم حکمران تھا۔وہ 300ھ میں اس وقت اقتدار میں آیا جب اسپین کی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوکر یورپ کی مسیحی طاقتوں کا نوالہ بننے والی تھی۔مگر نصف صدی کے اس کے اقتدار کے بعد350ھ میں جب اس کا انتقال ہوا تو اسپین یا اندلس پورے یورپ سے زیادہ طاقتور اور دنیا کی خوشحال ترین ریاست بن چکی تھی اور یہاں مسلم اقتدار مزید500برس قائم رہا۔<span id="more-1311"></span></p>
<p>عبدالرحمن کے عہد میں اسپین عظمت اور ترقی کے جس مقام پر پہنچا اس کا ایک اظہار وہ محل ہے جو اس نے اپنی بیوی زہرہ کے لیے قرطبہ کے نزدیک بنوایا۔یہ محل جس کا نام قصر الزہرہ تھا،12مربع میل کے رقبے پر پھیلا ایک شہر جتنا وسیع تھا۔اس میں 15000بلند اور شاندار دروازے تھے۔اس کی تعمیر کے لیے دنیا بھر سے اعلیٰ تعمیری سامان منگوایا گیا اوربے دریغ سونا چاندی ، ہیرے جواہرات اور انتہائی شفاف سنگ مرمر کا استعمال کیا گیا تھا۔دس ہزار معماروں نے دن رات کام کرکے اس محل کو 25برس میں مکمل کیا ۔ اس کے تعمیری حسن، صناعی اور دلکشی کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے تھے اور اپنے زمانے میں اس سے زیادہ بہتر تعمیر دنیا میں موجود نہ تھی۔مگراتفاق کی بات ہے کہ یہ محل جس برس مکمل ہوا اسی سال عبدالرحمن کا انتقال ہوگیا۔اس کی بیوی بھی نہ رہی اور جب مسیحیوں نے قرطبہ پر قبضہ کیا توقصر الزہرہ کا نام و نشان مٹادیا۔</p>
<p> خدا نے یہ دنیا انسانوں کے امتحان کے لیے بنائی ہے۔اس دنیا میں ایک طرف یہ مواقع ہیں کہ ایک تنہا انسان تاریخ کا دھارا موڑ دے اور قصر الزہرہ جیسا محل بناڈالے، دوسری طرف یہاں موت اور گردش زمانہ کی وہ رکاوٹیں ہیں جو انسان کے ہر کارنامے کو کھاجاتی ہیں۔یہ صرف آخرت کی دنیا ہے جہاں کی بادشاہی میں عظمت اور ابدیت ایک ساتھ جمع ہوجاتی ہیں۔یہ دنیااصل میں اُس آنے والی بادشاہی کوحاصل کرنے کا بہترین موقع ہے ۔جس شخص نے ایمان، صبر اور عمل صالح کی مدد سے اس موقع کا فائدہ اٹھایااصل میں وہی آزمائش کی یہ بازی جیت گیا۔ باقی لوگوں کے حصے میں سوائے خسارے کے، کچھ نہیں آتا۔<br />
By ریحان احمد یوسفی</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/aqilkhans.wordpress.com/1311/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/aqilkhans.wordpress.com/1311/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1311&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/06/%d9%82%d8%b5%d8%b1-%d8%a7%d9%84%d8%b2%db%81%d8%b1%db%81/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		<georss:point>0.000000 0.000000</georss:point>
		<geo:lat>0.000000</geo:lat>
		<geo:long>0.000000</geo:long>
		<media:content url="" medium="image">
			<media:title type="html">aqilkhans</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>عورت اورگوشت کی تھیلی</title>
		<link>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/03/%d8%b9%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%da%af%d9%88%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%da%be%db%8c%d9%84%db%8c/</link>
		<comments>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/03/%d8%b9%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%da%af%d9%88%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%da%be%db%8c%d9%84%db%8c/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 03 Feb 2012 10:05:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>پروفیسر محمد عقیل</dc:creator>
				<category><![CDATA[گیسٹ پوسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سماجیات]]></category>
		<category><![CDATA[Ladies]]></category>
		<category><![CDATA[پردہ]]></category>
		<category><![CDATA[بے حیائی]]></category>
		<category><![CDATA[عورت]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://aqilkhans.wordpress.com/?p=1309</guid>
		<description><![CDATA[پچھلے دنوں آسٹریلیا کے ایک مسلم عالم دین مفتی شیخ تاج الدین حامد الہلالی، جن کا تعلق مصر سے ہے، نے کہا کہ جو عورتیں اپنا سر نہیں ڈھانپتیں وہ اپنے ساتھ ہونے والی کسی بھی جنسی زیادتی کی ذمہ دار خود ہیں۔ یہ عالمِ دین آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی سب سے بڑی جامع [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1309&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Jameel Noori Nastaleeq" size="4"><br />
پچھلے دنوں آسٹریلیا کے ایک مسلم عالم دین مفتی شیخ تاج الدین حامد الہلالی، جن کا تعلق مصر سے ہے، نے کہا کہ جو عورتیں اپنا سر نہیں ڈھانپتیں وہ اپنے ساتھ ہونے والی کسی بھی جنسی زیادتی کی ذمہ دار خود ہیں۔ یہ عالمِ دین آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی سب سے بڑی جامع مسجد میں پیش امام ہیں۔انہوں نے ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں<span id="more-1309"></span> خطبے کے دوران میں مذکورہ بالا بات ارشاد فرمائی۔اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ گوشت سے بھری تھیلی بغیر ڈھکے باہر رکھ دیں گے تو ظاہر ہے کہ بلیاں اسے کھالیں گی۔پھر اس میں قصور بلیوں کا نہیں ہوگا بلکہ گوشت کھلا رکھنے والوں کا ہوگا۔انہوں کہا کہ عورت اگر گھر میں اور باہر حجاب پہنے رہے تو اسے کوئی مسئلہ نہیں ہو۔عالم دین کے اس بیان کی اشاعت کے بعد آسٹریلیا میں ایک تنازع پیدا ہوگیا ہے۔وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جبکہ دنیا بھر کے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیاوغیرہ نے بھی اس بیان پر تبصرے اور رپورٹیں شائع کی ہیں۔</p>
<p>عالم دین کا یہ ارشاد بظاہر اس قابل نہیں کہ اس پر کوئی سنجیدہ گفتگو کی جائے، مگر بدقسمتی سے یہ کسی فرد واحد کی رائے نہیں، بلکہ ہمارے مذہبی لوگوں کا عام نقطہ نظر یہی ہے۔ہمارے کانوں نے بارہا مذہبی مجالس میں اہل علم سے اسی قسم کے خیالات کو سنا ہے۔ گوشت کی تھیلی نہ سہی وہ خواتین کو کسی اور ’’چیز‘‘ سے تشبیہ دے کر مردوں کو یہی سمجھاتے ہیں کہ اپنی خواتین کو’’بند‘‘کرکے رکھیں۔اسی لیے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ دینی تعلیمات کی روشنی میں ا س رائے کا جائزہ لے لیا جائے۔</p>
<p>اس مضمون میں ہمارے پیش نظر یہ نہیں کہ مردو زن کے اختلاط کے حوالے سے پردہ و حجاب کے جو احکام قرآن کریم میں آئے ہیں ان کی تفصیل کی جائے۔یہاں ہم صرف ان احکام کا  خلاصہ اس طرح بیان کریں گے کہ دین مرد و زن دونوں پر باہمی اختلاط کے وقت کچھ پابندیاں لگاتا ہے ۔خواتین کی کچھ خصوصیات چونکہ انہیں مردوں کے لیے باعث کشش بناتی ہیں، اس لیے ان پر کچھ اضافی پابندیاں اس حوالے سے لگائی گئی ہیں کہ وہ مردوں کے سامنے اپنی زینت اور نسوانیت کا کھلم کھلا اظہار نہ کریں۔</p>
<p>مسلمان اہل علم کو دین کا یہ حکم خواتین تک پہنچانا چاہیے،ان کے پروردگار کے ایک حکم اور ایک پاکیزہ مطالبے کے طور پر بیان کرنا چاہیے۔مگر دین کے احکام سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ جو خواتین پردہ نہ کریں، ان پر ہونے والے جنسی تشدد کی ذمہ داری ان کی اپنی ہے ، دین و انسانیت دونوں کے فہم سے عاری ہونے کا ایک ثبوت ہے۔</p>
<p>اس طرح کی باتیں کرنے والے لوگ اپنی ذہنی ساخت کی بنا پر پہلے مرحلے پر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ ایک بے پردہ عورت اور ایک فاحشہ میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔انہیں اپنے غیر دعوتی ذہن کی بنا پر یہ اندازہ نہیں ہوپاتا کہ اکثر و بیشترمسلم مرد و خواتین دین کی بنیادی دعوت ہی سے واقف نہیں ہوتے۔ ان کا نام مسلمانوں جیسا ضرور ہوتا ہے مگر وہ دینی تعلیم کے اعتبار سے بالکل کورے ہوتے ہیں۔ایسے میں پہلے مرحلے میں ان سے پردے کا مطالبہ کرنا ٹھیک نہیں ہے، اور اگر کیا بھی جائے تو اس لب و لہجہ میں کہ خواتین گوشت کی تھیلی قرار پائیں اور اوباشوں کی جگہ وہ خود مجرم ٹھہرائی جائیں، ایسا مطالبہ کبھی موثر نہیں ہوسکتا۔</p>
<p>اس معاملے سے یہ بات بالکل واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ مسلمان اہل علم دعوت کی زبان میں گفتگو کرنا نہیں جانتے۔ان میں دردمندی اور لوگوں کی محبت کا مادہ باقی نہیں رہا ہے۔وہ نفرت اور دھمکی کی زبان میں بات کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔وہ سر تا سر ردعمل کی نفسیات میں مبتلا ہیں۔ان کیفیات میں مبتلا ایک مذہبی آدمی جو زمانے کی ہوا اور میڈیا کے اثرات سے واقف نہیں ہوتا، جب خواتین کو بے پردہ اور نیم عریاں لباس پہنے دیکھتا ہے تو ساری اخلاقی حدود کو عبور کرکے ا س لب و لہجے میں گفتگو شروع کردیتا ہے ، جس کا ایک نمونہ اوپر گزرا ہے۔</p>
<p>اس طرح کے بیانات نہ صرف اوباشوں کو ان کی بے راہ روی کا ایک سرٹیفیکیٹ دینے کے مترادف ہیں، بلکہ انٹرنیشنل میڈیا کے اس دور میں یہ  بیانات بین الاقوامی سطح پر اسلام کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔اس بیان کے بعد سی این این اور دیگر بڑے بین الاقوامی نشریاتی اداروں نے اس پر تفصیلی پروگرام اور رپورٹیں نشر کی ہیں۔چنانچہ اس طرح کی باتیں نہ صرف جگ ہنسائی کا سبب بنتی ہیں بلکہ دین سے لوگوں کی دوری کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔</p>
<p>اس طرح کے خیالات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ہمارے اہل علم خواتین کو ابھی تک کوئی چیز سمجھتے ہیں۔ اہل مغرب نے اگر خواتین کو ’’چیز‘‘ سمجھ کر میڈیا کے بازار میں بیچا ہے تو ان سے شکایت نہیں، مگر اپنے لوگ بھی جب عورتوں کو ’’شے‘‘ سمجھ کراسی طرح ان سے معاملہ کرتے ہیں تو یہ بات باعث عار ہے۔ ہمارے مذہبی لوگوں کا یہ علانیہ موقف ہے کہ وہ جب کبھی اقتدار میں آئیں گے تو خواتین کو گھروں میں بند کردیں گے۔ اس کا ایک نمونہ دور جدید میں طالبان نے قائم بھی کیا تھا۔اوراس وقت بھی سعودی عرب میں خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر اسی بنا پر پابندی ہے۔</p>
<p> جبکہ ہمارے دین نے تو خواتین کو ’’شے‘‘ سے اٹھاکر انسانیت کے مرتبے پر رکھا ہے۔ انہیں بیوقوف سمجھنے کے بجائے انہیں صاحب عقل جان کر شریعت کے احکام کا مکلف بنایا ہے۔زندگی کے کسی شعبے میں بھی ان پر کسی قسم کی روک ٹوک نہیں لگائی گئی ہے۔صرف انہیں یہ بتایا گیا ہے کہ معاشرے میں عفت و عصمت کا ماحول برقرار ر کھنے کے لیے مردوں سے زیادہ ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں۔یہ ذمہ داریاں انہیں ایک باشعور مسلمان سمجھ کر تفویض کی گئی ہیں، نہ کہ گوشت کی تھیلیاں سمجھ کر۔اور اس کا بدلہ یہ نہیں کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے ممکنہ جنسی تشدد کی ذمہ داری سے بری ہیں بلکہ اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کی ابدی بادشاہی ہے<br />
مصنف۔ :ریحان احمد یوسفی</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/aqilkhans.wordpress.com/1309/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/aqilkhans.wordpress.com/1309/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/aqilkhans.wordpress.com/1309/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/aqilkhans.wordpress.com/1309/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/aqilkhans.wordpress.com/1309/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/aqilkhans.wordpress.com/1309/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/aqilkhans.wordpress.com/1309/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/aqilkhans.wordpress.com/1309/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/aqilkhans.wordpress.com/1309/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/aqilkhans.wordpress.com/1309/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/aqilkhans.wordpress.com/1309/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/aqilkhans.wordpress.com/1309/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/aqilkhans.wordpress.com/1309/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/aqilkhans.wordpress.com/1309/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1309&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/02/03/%d8%b9%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%da%af%d9%88%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%da%be%db%8c%d9%84%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>9</slash:comments>
		<georss:point>0.000000 0.000000</georss:point>
		<geo:lat>0.000000</geo:lat>
		<geo:long>0.000000</geo:long>
		<media:content url="" medium="image">
			<media:title type="html">aqilkhans</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>حمل -رحمت یا زحمت</title>
		<link>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/01/28/%d8%ad%d9%85%d9%84-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%d8%b2%d8%ad%d9%85%d8%aa/</link>
		<comments>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/01/28/%d8%ad%d9%85%d9%84-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%d8%b2%d8%ad%d9%85%d8%aa/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2012 11:14:30 +0000</pubDate>
		<dc:creator>پروفیسر محمد عقیل</dc:creator>
				<category><![CDATA[گیسٹ پوسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سماجیات]]></category>
		<category><![CDATA[Pregnancy]]></category>
		<category><![CDATA[حمل]]></category>
		<category><![CDATA[حاملہ خواتین کے مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[حاملہ عورت اور خدا کا قرب]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://aqilkhans.wordpress.com/?p=1306</guid>
		<description><![CDATA[&#8220;اسلام عليكم باجي۔ وہ ميں نے آپ كو اس ليے زحمت دي كہ سارہ اميد سے ہے۔ آپ برائے مہرباني كچھ وقت نكال كر اسے كچھ ضروري مشورے دے سكيں گي۔ وہ كچھ پوچھنا بھي چاہ رہی تھی غالبا۔&#8221; اپنے كام كے شعبے كي وجہ سے يہ دوست احباب كے حلقے ميں ميرے ليےايك معمول [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1306&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><font face="Jameel Noori Nastaleeq" size="4"><br />
&#8220;اسلام عليكم باجي۔ وہ ميں نے آپ كو اس ليے زحمت دي كہ سارہ اميد سے ہے۔ آپ برائے مہرباني كچھ وقت نكال كر اسے كچھ ضروري مشورے دے سكيں گي۔ وہ كچھ پوچھنا بھي چاہ رہی تھی غالبا۔&#8221; </p>
<p>اپنے كام كے شعبے كي وجہ سے يہ دوست احباب كے حلقے ميں ميرے ليےايك معمول ہے۔ ديني اور سماجي كاموں کے حوالے سے جن بھائيوں سے تعلق رہتا ہے، جب ضرورت ہوتي ہے وہ اس طرح کے معاملات  ميں بذات خود يا اپنی اہليہ كے ذريعے مشورہ ليتے رہتے ہيں۔<span id="more-1306"></span></p>
<p>جب كبھي خواتين سے حمل اور اس سے متعلقہ مسائل كے بارے ميں بات چيت ہوتي ہے، يوں محسوس ہوتا ہے كہ جیسے زيادہ تر خواتين حمل كو ايك بيماري، سزا يا انتہائي مشكل عمل تصور كرتي ہيں۔ بس كسي طرح جلد سے جلد يہ نو ماہ كا عرصہ گزرے اور جان چھوٹے۔ عموماً شروع كے دنوں ميں طبيعت بھي گري گري رہتي ہے۔ جي متلانا اور ابكائياں آنا، قے وغيرہ روزانہ كا معمول بھي بن سكتا ہے۔ منہ كا ذائقہ خراب، جسم ميں درد ، روز مرہ كي عادات ميں تبديلي۔ غرض ايسا بالكل ممكن ہے كہ زندگي ايك انتہائي رومانوي موڑ سے ايك دم انتہائي عذاب كي وادي ميں جاتي دكھائي دينے لگے۔ شوہر بھي بيگم صاحبہ كي روز روز كي &#8216;نزاكتوں&#8217; سے اكتا جائيں۔ اور بيوي محسوس كرے كہ جو سپنوں كا راجہ تھا اب صرف ايك باجہ بن كے رہ گيا ہے!</p>
<p>يہ حالات عموماً اس وقت پيش آتے ہيں جب يہ نعمت بڑي آساني سے شادي كے شروع ميں ہي بغير كسي تردد كے مل جاتي ہے۔ ليكن اس ساري صورت كا ايك سادہ اور آسان حل موجود ہے۔ وہ يہ كہ اس تمام صورت حال كو ايك دوسري نظر سے ديكھنا شروع كر ديں۔ مثلاً &#8220;يہ كتنا اونچا مقام ہے۔ يہ كتني مقدس حيثيت ہے۔ تخليق كے اس عظيم كام ميں ميرے رب نے مجھے ایک ذریعہ بنايا ہے۔ مجھے اپنے سے كس قدر قريب كيا ہے۔ اس انتہائي اہم تخليقی عمل كے ليے اس نے ميرے اس ناچيز جسم كا انتخاب كيا ہے۔ مجھے ساري انسانيت سے اس قدر اوپر اٹھا كر اپنے ساتھ اس اہم كام كي انجام دہي ميں شامل كيا ہے۔ يہ دن اس عظيم ترين اور حسين ترين ذات سے قريب تر ہونے كے ہيں۔ اپني ساري پريشانياں اور تكليفيں بھول كر ميں اس بات كي خوشياں منا رہي ہوں كہ مجھے &#8216;ماں&#8217; جيسي عظيم ہستي كا درجہ ديا جا رہا ہے۔ ابھي سے ميرے بچے كي تربيت شروع ہو چكي ہے۔ ميں صبح سے شام تك جو كچھ كر رہي ہوں يہ كسي كي ذات اور شخصيت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ميري عبادات اور خدمات ہر ہر چيز ميرے خون كے ذريعے كسي اور كے خون ميں شامل ہو رہي ہيں- كيا ميں روتے دھوتے اور منہ بسورتے وقت گذار رہي ہوں يا بہادري اور محبت سے اس مشكل مگر حسين ذمہ داري كو نبھانے كي كوشش ميں ہوں-&#8221; دوا اور دعا كے سہارے يہي تكليف راحت بن سكتي ہے اگر سوچ كا دھارا درست ہو۔ نعمت كا احساس ہو۔ حقيقت كو پہچاننے والي دل كي نظر ہو۔ ان بھائيوں كو بھي ميرا يہي مشورہ ہوتا ہے كہ اس مشكل گھڑي كو ان سوچوں كے ساتھ اپنے ساتھي اور اپنے ليے راحت بنائيں- خود بھي يہ راز سمجھيں اور انہيں بھي سمجھائيں۔</p>
<p>(ڈاکٹر حنا، برطانیہ)</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/aqilkhans.wordpress.com/1306/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/aqilkhans.wordpress.com/1306/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/aqilkhans.wordpress.com/1306/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/aqilkhans.wordpress.com/1306/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/aqilkhans.wordpress.com/1306/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/aqilkhans.wordpress.com/1306/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/aqilkhans.wordpress.com/1306/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/aqilkhans.wordpress.com/1306/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/aqilkhans.wordpress.com/1306/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/aqilkhans.wordpress.com/1306/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/aqilkhans.wordpress.com/1306/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/aqilkhans.wordpress.com/1306/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/aqilkhans.wordpress.com/1306/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/aqilkhans.wordpress.com/1306/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=aqilkhans.wordpress.com&amp;blog=14095271&amp;post=1306&amp;subd=aqilkhans&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://aqilkhans.wordpress.com/2012/01/28/%d8%ad%d9%85%d9%84-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%d8%b2%d8%ad%d9%85%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		<georss:point>0.000000 0.000000</georss:point>
		<geo:lat>0.000000</geo:lat>
		<geo:long>0.000000</geo:long>
		<media:content url="" medium="image">
			<media:title type="html">aqilkhans</media:title>
		</media:content>
	</item>
	</channel>
</rss>
