اسکریچ کارڈ(Scratch Card) (پروفیسر محمد عقیل)

آپ نے اپنی زندگی میں کئی اسکریچ کارڈز استعمال کیے ہونگے۔ یہ وہ کارڈز تھے کہ جن پر لکھا ہوا کوڈ جب آپ نے موبائل میں لوڈ کرلیا تو رقم آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوگئی۔ پھر اس کے بعد وہ کارڈز پھینک دیے گئے کیونکہ وہ بے مصرف ہو چکے تھے۔ اگرکوئی شخص ان استعمال شدہ کارڈز کو قیمتی سمجھ کر جمع کرنے لگ جائے تو لوگ اسے بیوقوف گردانیں گے۔ یا اگر کوئی شخص ان کارڈز کو خرید کرجمع کرتا رہے اور استعمال نہ کرے تو اسے بھی لوگ بیوقوف ہی سمجھیں گے۔
کاغذی کرنسی کے نوٹ بھی درحقیقت اسکریچ کارڈز کی مانند ہیں۔ یہ نوٹ اللہ نے ہمیں اس لیے عطا کیے ہیں تاکہ ہم انہیں لوڈ کرکے (خرچ کرکے) اپنی ضروریات کی تکمیل کرسکیں۔ ان نوٹوں کا حقیقی مصرف ضروریات کی تکمیل ہے وگرنہ ان نوٹوں کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑوں سے زیادہ نہیں۔
ضروریات کی دو اقسام ہیں۔ ایک حال (Present) کی ضرویات اور ایک مستقبل کی ضروریات۔حال کی ضروریات میں کھانے پینے کی اشیا، لباس، اپنی یا بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، یوٹلٹی بلز وغیرہ شامل ہیں۔ دوسری قسم کی ضروریات مستقبل سے متعلق ہوتی ہیں۔جن میں عام طور پراپنی یا بچوں کی شادی، رہائش کی تگ ودو، تعلیمی اخراجات، سواری کا حصول اور میعار زندگی کی بہتری وغیرہ کی ترجیحات ہوتی ہیں۔
چناچہ ایک شخص اپنی آمدنی کو دوحصوں میں منقسم کرکے کچھ رقم حال کی ضروریات پر لگادیتاہے اور باقی مستقبل کی ضروریات کے لیے بچالیتا ہے۔ چونکہ مستقبل غیر یقینی ہے اس لیے مستقبل کی ضروریات بھی غیر یقینی ہی رہتی ہیں۔ یہ غیر یقینی کیفیت انسان کے ذہن میں خوف پیداکرتی ہے جس سے نجات کے لئے انسان دولت کمانے اور بچانے کے لامتناہی سلسلے کا آغاز کربیٹھتا ہے۔
اگر ایک شخص محض اس اندیشے کی بنا پراسکریچ کارڈ خرید خرید کر اکھٹے کرتا رہے کہ کہیں یہ کارڈز مارکیٹ میں شارٹ نہ ہوجائیں یا کہیں بوقت ضرورت اس کے پاس بیلنس نہ ہو یا کہیں یہ نہ ہوجائے اور وہ نہ ہوجائے۔ تو ایسا شخص وہمی سمجھا جائے گا۔ ہم میں سے ہر دوسرا شخص کاغذ کے نوٹ مستقبل کے خوف کی وجہ سے جمع کر رہاہے اور بے تحاشہ جمع کررہاہے کہ کہیں یہ نہ ہوجائے اور وہ نہ ہوجائے۔ لیکن ایسے شخص کو کوئی وہمی نہیں سمجھتا۔ حالانکہ ایک اسکریچ کارڈز جمع کرنے والا اور ضرورت سے زائد دولت جمع کرنے والادونوں نوعیت کے اعتبار سے یکساں ہیں۔ مگر اول الذکرپاگل اور آخرالذکر عقل مند۔ سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے کہ:
’’یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو وہ خدا کی راہ میں خرچ کرو۔‘‘
ہم میں سے ہر شخص کو اپنے مستقبل کی ضروریات کا ایک عمومی علم ہونا ضروری ہے۔ پھر جو آمدنی اوپر بنے اسے خدا کی راہ میں لگا دینا اور پھر خدا پر توکل کرنا ہی عقل مندی ہے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s