بے کردارلوگ(پروفیسر محمد عقیل)


رات کاسناٹاہے اورہرطرف اندھیرے کاراج ہے۔چاندکی آخری تاریخوں نے تاریکی میں اضافہ کردیاہے۔البتہ تاروں کی چھاؤں میں ایک سایہ حرکت کرتادکھائی دیتاہے۔غالباًکوئی چور ہے جو مکان میں داخل ہورہاہے۔یہ نقاب پوش گن مین آہستہ سے کمرے میں داخل ہوتاہے۔ سامنے ایک بچہ اپنی ماں کے ساتھ چمٹاہواسورہاہے۔ نقاب پوش نے اپنی گن سیدھی کی اورفائرسے ماں اوربچے کوموت کی آغوش میں دھکیل دیا۔میراجی چاہاکہ میں اس مکروہ فعل سے اسے بازرکھ سکوں، لیکن پھرخیال آیاکہ یہ توفلم کاایک سین ہے۔مجھے کوئی اختیارنہیں کہ اس سین میں مداخلت کرسکوں۔فلم بنانے والے پروڈیوسرنے جیساچاہافلم کوبنایا۔یہ فلم دراصل پروڈیوسرکی ہے ،میری نہیں۔
یہی معاملہ اس دنیاکاہے۔اس دنیاکے اسٹیج کاخالق خدائے بزرگ وبرترہے جو کامل علم او ر حکمت رکھتا اور سب کچھ کرنے پر قادر ہے ۔اس نے جس طرح چاہا اس دنیاکوبنایا۔لہٰذامیرے یاآپ کے چاہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہوتاوہی ہے جو خدا چاہتا ہے۔ ہم میں سے کوئی شخص بھی بیماری،غربت،رنج والم،مجبوری اوربے کسی کاشکارنہیں ہوناچاہتا۔ہرکوئی امارت،صحت،آسانی اورغموں سے پاک زندگی کاخواہش مندہے۔لیکن دنیاکی کئی ارب آبادی میں کوئی ایک فردبھی ایسانہیں کہ جس نے جوچاہاوہ اسے ہمیشہ مل گیا۔ہرشخص کی زندگی میں محرومیاں زیادہ ہیں اورتکمیل شدہ خواہشات کم۔
کیاخداہمارادشمن ہے؟کیاوہ ہمیں لاچار ومجبوردیکھ کرخوش ہوتاہے؟کیاخداہمیں خوش نہیں دیکھناچاہتا؟آخروہ ہمیں محروم ہی رکھنے پرکیوں مصرہے؟ان سوالات کاجواب میں اورآپ نہیں دے سکتے۔جس طرح فلم کاپروڈیوسرہی کسی سین کی ضرورت جانتاہے اسی طرح خداہی وہ واحدہستی ہے جوانتہائی کامل کائنات میں اس تشنہ زندگی کی وضاحت کرسکتاہے۔ فلم کے رازوں سے پردہ اس کے اختتام پر اٹھتا ہے اور خدا کی حکمتوں سے آگاہی آخرت میں ہوگی۔
خدانے اپنے صحیفوں کے ذریعے یہ بات بتادی کہ یہ دنیاعطاکے اصول پرنہیں بلکہ آزمائش کے اصول پربنائی گئی ہے ۔لہٰذاانسان کی یہ مختصرزندگی خواہشات کی تکمیل کے پہلوسے توغیرکامل ہے۔البتہ آزمائش کے پہلوسے کامل ہے۔انسان اٹھتے بیٹھتے،سوتے جاگتے آزمایاجارہاہے۔وہدفتر،گھر،راستے غرض ہرجگہ آزمایاجارہاہے۔ہرگزرتاہوالمحہ انسان کے لیے ایک نئی آزمائش لے کرآرہاہے۔
امیروغریب،کمزوروطاقتور،بادشاہ وگدا،صحت مندوبیمارغرض ہرایک کوخدانے الگ الگ امتحانی پرچہ دے رکھاہے۔لہٰذاکوئی غربت میں جانچاجارہاہے توکوئی امارت میں۔کوئی مجبوریوں میں گھرا ہوا ہے توکسی کاامتحان اقتدارکی مسندپرہورہاہے۔
اب کوئی سرپھرایہ سوال بھی کرسکتاہے کہ مجھے آزماناہی تھاتوتنگدستی میں کیوں آزمایا؟امیرہی بنادیاہوتا۔یامجھے پاکستان میں کیوں آزمایا؟امریکہ بہترتھا۔یابیمارکیوں بنادیا؟صحت دی ہوتی۔یامجھے کالی رنگت سے کیوں آزمایا؟تھوڑاگوراہی کردیاہوتا۔اس کاجواب اس مضمون کے شروع میں موجودہے۔خدااس دنیاکے اسٹیج کاایک داناپروڈیوسرہے۔یہ زمین وآسمان،گھربار،درودیوارسب ہمارے نہیں اسی کے ہیں۔حتیٰ کہ ہماراوجودبھی اپنانہیں اسی کاہے۔وہی بہترجانتاہے کہ ہماری بہتری کس میں ہے۔
فلم کے ہرکردارکوپروڈیوسرکی مرضی کے مطابق عمل کرناہوتاہے۔چلناپھرنا،اٹھنابیٹھناسب اسی کے اشارے پرہوتاہے۔اپنی مرضی کرنے والے کردارفلم سے باہرکردیئے جاتے ہیں۔کیونکہ فلم میں فرداہم نہیں ہوتا۔ اہم یہ ہوتا ہے کہ اس کردار کو کس طرح ادا کیا گیا ہے۔
دنیاکے اس اسٹیج پرہمیں کئی کرداراداکرنے ہیں۔بہن بھائی، اولاد و والدین، استاد شاگرد ، افسر ماتحت وغیرہ ان کرداروں کے نام ہیں۔اب جو شخص اپناکردارپروڈیوسرکی مرضی کے مطابق اداکرے گا وہ ’باکردار‘ہے۔اورجو شخص اپنی مرضی سے یہ کردار ادا کرے گا ’وہ بے کردار‘۔باکردارلوگ جنت کے وارث بن کرابدی بادشاہت کے حقدارٹھہریں گے۔جبکہ بے کردارلوگ جہنم کے باسی بن کرازلی محرومی کا شکار ہوجائیں گے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s