تجسس و بدگمانی(پروفیسر محمد عقیل)

سورۃ الحجرات میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ’’بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو‘‘، (آیت 12)۔یہ دین کی ایک ایسی بنیادی ہدایت ہے جس کی خلاف ورزی ہماری زندگی میں بہت زیادہ عام ہے۔ ذیل میں ہم کچھ تفصیل سے اس مسئلے کا جائزہ لیں گے۔
شہری زندگی کی دشواریو ں میں ایک مشکل تکلفات کی کثرت اور سادگی کا فقدان ہے۔ معاشرتی معاملات بہت پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں اور سماجی تقریبات میں رسمیں اور نت نئے رواجوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ آپس میں سماجی تعلقات کی نوعیت بھی تبدیل ہورہی ہے۔ چنانچہ آج ا لفاظ کی بجائے اشاروں سے کام لیا جاتا ہے ۔ مختلف ترکیبوں سے بولے بنا اپنا پیغام دوسروں تک پہنچادیا جاتا ہے۔ کسی کا مذاق اڑانے کے لیے زیرِ لب مسکرادینا کافی ہے، نگاہوں کا مخصوص استعمال سامنے والے کو بہت کچھ سمجھا دینے کے لیے کفایت کرتا ہے۔
باڈی لینگویج کا یہ استعمال کوئی ممنوع چیز تو نہیں ہے مگر اس کے استعمال میں جب کثرت اور بے احتیاطی شامل ہوجاتی ہے تو کئی طرح کی برائیاں جنم لینے لگتی ہیں۔ سامنے والا آپ کی باڈی لینگویج سے آپ کے منشا کے برخلاف معانی اخذ کرنے لگتا ہے۔ جس سے طرح طرح کی بدگمانیاں اور غلط فہمیاں جنم لیتی اور باہمی رنجشیں اور دوریاں پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔
میرا ایک دوست جو جرمنی سے آیا تھا اس نے بتایا کہ جرمنی میں بعض اوقات ایک اجنبی دوسرے اجنبی کو دیکھ کر مسکراتا ہے تو جواب میں سامنے والا بھی مسکرادیتا ہے۔ اور کسی کے ذہن میں کوئی غلط فہمی نہیں ہوتی کہ یہ شاید منہ چڑا رہا ہے یا مذاق اڑانے کے لئے ہنس رہا ہے۔ مگر ہمارے ہاں اگر کوئی کسی اجنبی کو محبت یا خیر سگالی کے جذبے کے تحت سے دیکھ کر بھی مسکرادے تو وہ حیران ہوگا، ہوسکتا ہے کہ وہ یہ سمجھے کہ آپ اُس کا مذاق اڑا رہے ہیں اور شاید وہ آپ سے پوچھ بھی بیٹھے کہ میاں! کیوں مسکرا رہے ہو؟
اسی طرح ہمارے یہاں لوگوں کو دوسروں کے عیوب اور کمزوریوں کو جاننے کی جستجو لگی رہتی ہے۔ دوسرے کے معاملات کی ٹوہ میں لگا جاتا اور اس پر نظر رکھی جاتی ہے کہ کہاں جاتا ہے؟ کس کس سے ملتا اور کیا کرتا ہے؟ خصوصاً خواتین کو تو ان چیزوں سے کچھ زیادہ ہی دلچسپی ہوتی ہے اور پھر وہ جھوٹی سچی معلومات کی بنا پر اپنی مجلسوں میں ایک دوسرے کی برائیاں بیان کرتی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’بدگمانی سے بچو، گمان سب سے بڑی جھوٹی بات ہے اور بھید نہ ٹٹولو۔ ایک دوسرے کی ٹوہ حاصل کرنے کی کوشش میں نہ لگ جاؤ۔ حسد، بغض اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے سے بچو اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو‘‘۔ (بخاری) ایک اور حدیث میں ہے کہ ’’ایک دوسرے سے روٹھ کر نہ بیٹھ جاؤ اور میل جول ترک نہ کرو۔ ایک دوسرے کا حسد اور بغض نہ کیا کرو‘‘۔ (مسلم)ایک بار فرمایا: ’’میری امت میں تین خصلتیں رہ جائیں گی۔ ایک شخص نے پوچھا کہ ان کا تدارک کیا ہے؟ فرمایا: جب حسد کرے تو استغفار کرلے، جب گمان پیدا ہو تو اسے چھوڑ دے اور یقین نہ کرے اور جب شگون لے، خواہ نیک نکلے یا بد اپنے کام سے نہ رکے‘‘۔ (طبرانی) ایک جگہ فرمایا: ’’اگر تو لوگوں کے باطن اور راز ٹٹولنے کے درپہ ہوگا تو تو انہیں بگاڑ دے گا‘‘، (ابوداؤد)۔
یہ قرآنی تعلیم اور احادیث بتاتی ہیں کہ کثرت سے دوسروں کے متعلق گمان رکھنا اور خوامخواہ دوسروں کی ٹوہ میں لگنا اور ہر ایک کے معاملات میں تجسس سے کام لینابری اخلاقیات کا حصہ ہیں۔ ان کے باعث دلوں میں بلا وجہ شکوک و شبہات اور طرح طرح کی بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ باہمی نفرتوں اور رنجشوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ باہمی اخوت و محبت میں کمی ہوتی ہے اور اسلامی اخوت و بھائی چارے کو نقصان پہنچتا ہے۔
زیادہ بدگمانی اکثر باڈی لینگویج سے غلط نتائج اخذ کرنے کانتیجہ ہوتی ہے۔ ٹوہ میں لگنے اور دوسروں کی زندگیوں میں غیر ضروری حد تک تجسس رکھنے سے بھی یہ چیزیں پھیلتی ہیں۔ اور پھر آگے بڑھ کر غیبت اور دوسروں کی تحقیر اور تمسخر جیسی برائیوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ ان چیزوں کا تدارک یہ ہے کہ لوگوں سے حسن ظن رکھا جائے۔ مثلاً کوئی آپ کی بات سن کر خاموش ہوجائے تو آپ بس اس کا یہ مطلب نہ لیجیے کہ وہ ناراض ہے، یا مغرور ہے یا آپ کو بے وقعت سمجھتا ہے وغیرہ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ گھریلو پریشانیوں کا شکار ہو یا اس نے آپ کی بات سنی سمجھی ہی نہ ہو۔ اسی طرح دوسروں کی کمزوریوں کو جاننے کی کوشش مت کیجیے بلکہ اپنی خامیوں کو دریافت کرکے ان کی اصلاح کی کوشش کیجیے۔ اور یاد رکھیے کہ یہ سارے گناہ کے کام ہیں جو خدا کو ناپسند ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی وجہ سے خدا آپ سے ناراض ہوجائے کیوں کہ جس سے خدا ناراض ہوجائے اس کے لیے فلاح و کامرانی کا کوئی امکان نہیں

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s