تصور آخرت(پروفیسر محمد عقیل)


دنیا کی یہ ساٹھ ستر سالہ زندگی ایک مختصر اور عارضی عرصہ ہے ،جبکہ دائمی زندگی موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔اس زندگی کا مسکن یا تو جنت کا باغ ہے یا جہنم گڑھا۔موت کے بعد اس ابدی زندگی کو ’آخرت‘ کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ تصور آخرت کیا ہے؟ اس کی مختصر سی تفصیل یوں ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ دنیا ایک باارادہ مخلوق سے آباد کی تاکہ وہ ان پاکیزہ روحوں کا انتخاب کر سکے جو ابدی طور پر اس کے انعامات کے مستحق ٹھہریں۔ اس انتخابی عمل کو خدا نے امتحان سے منسلک کر دیا۔ چنانچہ جو بھی خدا کی مرضی کے مطابق چلا، وہ آخرت میں جنت کا وارث بن گیااور جو بھی اس آزمائش میں ناکام ہو گیا وہ جہنم کی آگ کی نذر ہو گیا۔
یہ ’تصورِ آخرت‘ محض ایک فلسفہ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے ۔یہ تصور انسان کے نفسیاتی خلا کو پر کرتا ہے۔ یہ تصور تپتی صحرا میں ایک نخلستان ہے۔ دکھوں کی آگ میں ٹھنڈک کا احساس ہے۔ ناکامیوں کے اندھیروں میں امید کی کرن ہے۔ زہریلے کانٹوں میں گلاب کا پھول ہے اور سسکتی آہوں میں تبسم کی گھڑیہے۔یہ تصور معذوروں کی بیساکھی ،نوعمر بیواؤں کا سہارا ،بن بیاہی لڑکیوں کا آسرا، بھوکے غریبوں کی غذااورمحروم انسان کی آس ہے۔ یہ تصورِ اندھے کی بینائی، بہرے کی سماعت اور گونگے کی گویائی ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخرت کا یہ عظیم الشان نظریہ نا آسودہ لوگوں ہی کے لیے تو نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ کسی پریشان انسان کی ذہنی اختراع ہو؟ کہیں یہ محرومیوں میں گھرے دیوانے کی بڑ تو نہیں؟ کہیں یہ کمزور طبقے کا نفسیاتی خلل تو نہیں؟
نہیں، ہرگز نہیں! یہ نظریہ ناآسودگی، پریشان نفسیات یا ذہنی امراض کا شاخسانہ نہیں۔ شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے افراد، اقتدار کی مسندوں پر براجمان لوگ، دولت کے انباروں میں پرورش پانے والے امرا، ایجادات کا ڈھیر لگا دینے والے سائنسدانوں،دنیا بھر میں شہرت سمیٹنے والے فنکار، خلاؤں کو پیروں تلے روندنے والے خلا باز، یہ تمام لوگ بظاہر بڑے کامیاب، آسودہ اور مطمئن ہیں لیکن ان میں سے ہر شخض کی زندگی محرومیوں، ناآسودگیوں اور ناکامیوں سے رقم ہے۔ یہ تمام حضرات کسی مخصوص میدان میں تو کامیاب ہوگئے لیکن اَن گنت ناآسودہ خواہشات کو سینے میں دفن کرتے رہے۔ اقتدار کی مضبوط ترین مسند پر براجمان بل کلنٹن کی جنسی بے راہ روی، نیوٹن کی احساس کمتری، آئن اسٹائن کے عاشقانہ خطوط، لیڈی ڈیانا کی قبل از وقت موت، شیکسپیئر کا مرغی چرانا اور فلاحی ریاستوں میں لوگوں کا خودکشی کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسا نہیں۔ کیا امیر کیا غریب، کیا بادشاہ اور کیا گدا، کیا جوان کیا بوڑھا، کیا معذور کیا صحت مند، سب کو ان گنت محرومیاں گھیرے ہوئے ہیں۔ سب دکھوں میں مبتلا ہیں۔ سب کو زیاں کا احساس ہے، سب کو آرزوؤں کی عدم تکمیل کی شکایت ہے۔ سب کو ایک اعلیٰ زندگی کی تلاش ہے اور سب کو اس دنیا کے ادنیٰ ہونے کا احساس ہے۔
دوسری جانب اس دنیا کے مدمقابل آخرت کا تصور ہے جہاں کوئی معذوری نہیں، غربت نہیں، بلکتی ہوئی انسانیت نہیں، غربت کی داستانیں نہیں۔ بلکہ وہاں زندگی اپنی کامل صورت میں تمام تر آسائشوں کے ساتھ جلوہ فگن ہے۔
یہ نظریہ ہٹلر، نیرو، ابولہب، ابوجہل، فرعون اور شداد جیسی قماش کے لوگوں کو جہنم کی وعید سناتا اور پاکیزہ نفوس کو جنت کی بشارت دیتا ہے۔ یہ نظریہ ایک حقیقت ہے اور اس سے مفر کا کوئی امکان نہیں۔ اُس کے لیے بھی جو اِس سے آگاہ ہے اور اُس کے لیے بھی جو اِس سے بے خبر ہے۔ جمہوریت، مارکسزم اور آزاد معیشت کے نظریات کو ماننے نہ ماننے کا نتیجہ عارضی ہے جبکہ آخرت کو نہ ماننے کا انجام ابدی ہے۔ آئیے آپ اس دنیا کو خدا کے حوالے کر دیں تاکہ وہ اپنی آخرت ہمارے حوالے کر دے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s