حادثہ(پروفیسر محمد عقیل)


مئی2008ء ؁بروزجمعرات میرے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔میں اپنے گھرکے قریب بینک گیااورکم وبیش10’000روپے کی رقم نکلوائی۔پھرمیں اپنی گاڑی میں بیٹھ کرگھرکی جانب روانہ ہواجوکہ قریب ہی تھا۔راستہ میں گاڑی روکی اورایک حجام سے علیک سلیک کی اس کے بعدگھرکے سامنے گاڑی پارک کی ۔جونہی میں گاڑی سے اتراتودیکھاکہ دولڑکے اسکوٹرروک کر کھڑے ہوئے ہیں ان میں سے ایک شخص نے ٹی ٹی پستول لوڈکی اورمیرے قریب آگیا اور مغلظات بکنے لگا۔میں سمجھ گیاکہ کیاہونے والاہے۔اس لڑکے نے میری جیب سے تمام نقدی،موبائل سیٹ اوروالٹ نکال لیا۔میں نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔بس ان سے اتناعرض کیاکہ بھائی اس والٹ میں کچھ نہیں ہے یہ مجھے واپس کردو۔انہوں نے والٹ کوالٹ پلٹ کردیکھااوروہ واپس کردیا۔پھر انہوں نے میرے ہاتھ سے گاڑی کی چابی چھین لی۔اس گاڑی کی ریموٹ کنٹرول چابی پہلے بھی چھن چکی تھی لہذامیں نے دوبارہ ان سے درخواست کی کہ یہ چابی آگے کہیں پھینک دیں۔لڑکے نےT.Tسیدھی کی اوردھمکی آمیزلہجے میں بولاکہ’’ہاں پھینک دوں گا‘‘۔اس کے بعدوہ فرار ہوگئے لیکن مجھے گاڑی کی چابی نہیں ملی۔میں نے خداکاشکراداکیاکہ والٹ بچ گیا۔جس میں میرے کئی قیمتی کاغذات تھے اورسب سے بڑھ کرجان بچ گئی۔
میں جب اس واقعہ کاتجزیہ کرنے بیٹھاتوکئی پہلوسامنے آئے۔میں نے سوچاکہ خدانے غالباًمیری مددنہیں کی وہ چاہتاتویہ واقعہ ظہورپذیرنہ ہوتا۔وہ چاہتاتوفرشتوں کوحکم دیتااوران ڈاکوؤں کی آنکھیں اندھی ہوجاتیں اوروہ پکڑمیںآجاتے۔وہ چاہتاتوان کی پستول فضامیں ناچنے لگ جاتی ،وہ چاہتاتووہ ڈاکوفرش پرگرکرتڑپنے لگتے یہاں تک کہ مرجاتے یاوہ چاہتاتوان کی اسکوٹرخراب ہوجاتی اوروہ پکڑمیںآجاتے۔لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔اورجوکچھ ہواوہ وہی تھاجوڈاکو چاہتے تھے۔’’کیاخداکائنات کوبناکراس کے امورسے لاتعلق ہوگیاہے؟‘‘میں نے خودسے یہ سوال کیا۔کیااس نے ظالموں کوکھلا چھوڑدیاہے کہ وہ لوگوں کی جان ان کے مال اوران کی آبروسے کھیلتے رہیں؟کیاوہ آسمان پربیٹھ کرزمین والوں کی مددنہیں کرناچاہتا؟
لیکن حقیقت میں ایساکچھ بھی تونہیں۔خداخودقرآن میں ارشادفرماتاہے کہ ’’ہماری اجازت کے بغیرایک پتّا بھی نہیں ہل سکتا۔پھریہ جوکچھ ہواکیااس کے اذن(اجازت)کے بغیرہوا؟نہیں یہ اس کی اجازت ہی سے ہوا۔ بات اصل میں یہ ہے کہ اس نے یہ دنیاہمارے سکون اورآرام کی تکمیل کے لیے نہیں بنائی۔ اس نے یہ محفل ہماری عیاشیوں کے لیے بھی آراستہ نہیں کی۔اس نے یہ زمین جزاوسزاکے اصول پربھی نہیں بنائی کہ یہاں کوئی جیسے ہیجرم کرے،فرشتے اسے پکڑکرخداکے حضورپیش کردیں۔اس نے تویہ بزم آزمائش کے لیے بنائی تاکہ اربوں کھربوں انسانوں کی آبادی کے بھس میں سے چندقیمتی دانے منتخب کرلے جوآزمائش کی بھٹی میں پک کرپختہ ہوگئے،جنہوں نے مصائب میں صبرکادامن نہ چھوڑا،جوناموافق حالات میں بھی خدا سے متعلق بدگمانی کاشکارنہ ہوئے ،جنھوں نے خداکی جانب سے ملنے والے کڑوے پھل کوبھی محبت کی نگاہ سے دیکھا۔جوبدامنی اورخوف کے عالم میں بھی خداکواپنی پشت پرپاتے رہے۔ وہ جواس کے وجودکواس وقت بھی دل سے مانتے رہے جب ظاہری حالات کائنات میں اس کی غیر موجودگی کو ظاہر کررہے تھے۔
اچانک مجھے یہ محسوس ہواکہ وہ ڈاکومجھ سے کچھ چھین کرنہیں لے گئے بلکہ مجھے ایک موقع فراہم کرگئے ہیں کہ میں خداکی قربت،اس کی محبت اوراس کی عنایت کامتمنی بن سکوں اوراس امتحان میں کامیابی حاصل کرکے مسائل سے پاک جنت کاشہری بن سکوں۔

Advertisements

2 responses to this post.

  1. اردو فونٹ آپکے بلاج میں صحیح نہیں لکھ پاتا اسلئے اکثر علطی رہ جاتی ہے

    انا للہ وانا الیہ راجعون

    جواب دیں

  2. انا للہ وانا الیہ راجعون

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s