حلال وحرام(پروفیسر محمد عقیل)

غالباً دسمبر کے مہینے میں ایکسپریس اخبار میں ایک خبر پڑھی کہ چین میں ایک سرکاری ملازم کو اس کی ملازمت سے برطرف کر دیاگیا ۔ وہ ملازم انتہائی قیمتی سگار پیتا، انتہائی شاہانہ لباس زیب تن کرتا اور بہترین قسم کی رہائش و سواری کا دلدادہ تھا۔ چنانچہ سرکار نے اسے محض اس بنا پر برخاست کر دیا کہ اس کا رویہ سرکاری ملازم اور عوام کے خادم جیسا نہیں تھا۔غور طلب بات یہ ہے کہ وہ ملازم کسی بد عنوانی کا مرتکب نہیں ہوا تھا۔ بلکہ اس کا طرز زندگی سرکار کو ناپسند تھا۔ چناچہ سرکار نے محض ناپسندیدگی کی بنیاد پر اس کو فارغ کردیا۔
مسلمانوں میں دو گروہ بڑے واضح ہیں، ایک وہ ہے جو حلال و حرام میں تفریق کرتا، جائز امور کو اختیار کرتا اورناجائز سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو حلال و حرام میں تفریق روا نہیں رکھتا۔ البتہ ان دو گروہوں کے علاوہ ایک اور بھی گروپ ہے۔ یہ گروپ حلال و حرام میں تفریق تو کرتا ہے مگر ان کے درمیان متشابہ امور میں لاپرواہی اختیار کرتا ہے۔ اس گروپ کا ایک شخص نماز تو پڑھتا ہے مگرپھر بھی اس کے شب و روز خدا کی یاد سے خالی رہتے ہیں۔ یہ روزہ تو رکھتا ہے مگر بھوکا رہنے کے لیے، یہ حج تو کرتا ہے مگر ریا کاری کے ساتھ۔ غرض یہ خدا کی ظاہری حدود کی تو پاسداری کرتا ہے لیکن باطنی حدود کو نظر انداز کردیتا ہے۔ یہ محض وہاں حلال اختیار کرتا اور حرام سے بچتا ہے جہاں وہ ظاہری قانون کی پکڑ میں آسکتا ہے۔ باقی معاملات میں یہ اپنی مرضی اختیار کرتا اور خدا کی مرضی سے اعراض کرتا ہے۔
اس کی مثال اوپر بیان کیے گئے سرکاری ملازم کی طرح ہے کہ جو ملازم تو سرکار کا ہے لیکن اس کی پسند اور ناپسند کا خیال نہیں رکھ رہا۔ وہ قانون میں تو پکڑ میں نہیں آرہا لیکن اپنے طرز عمل سے ظاہر کر رہا ہے کہ وہ سرکار کی ترجیحات اور اسپرٹ کو درخور اعتنا نہیں سمجھتا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:’’بیشک حلال کھلا ہے اور حرام کھلا ہے۔ مگر ان دونوں کے بیچ کچھ امور ہیں پس جو شخص حرمت و حلت کے درمیان کی چیزوں میں محتاط نہیں رہتا اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو جنگل کی حدود کے قریب اپنے مویشی چراتا ہے (اس خوف کے بغیر کے کوئی وحشی جانور اس کے گلہ کو اچک لے جائے)‘‘۔
اپنے طرز عمل سے یہ ظاہر کیجیے کہ آپ خدا کے بندے ہیں۔ آپ اس کی سرکار میں جیتے ہیں اور آپ اس کے غلام ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ بھی اس ملازم کی طرح راندۂ درگاہ ہوجائیں جو بظاہر بے قصور تھا۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s