خدائی عدالت(پروفیسر محمد عقیل)


حضرت نوح علیہ السلام نے کم وبیش نوسوسال اپنی قوم کوتبلیغ کی۔انہوں نے اپنی قوم کودن کے اجالے میں بھی پکارا اور رات کی تاریکی میں بھی بلایا۔لیکن قوم نے ان کی بات نہ سنی اورانکی تعلیمات کا انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام مایوس ہوکرخداسے دعاگو ہوئے۔جس کاخلاصہ یہ ہے:
’’اے رب تواس کافرقوم کوتباہ کردے۔کیونکہ ان میں حق کی قبولیت کاکوئی امکان نہیں حتیٰ کہ ان کی اولادسے بھی قبولیت حق کی کوئی توقع نہیں‘‘۔
حضرت نوح کی دعاقبول ہوئی اوراللہ تعالیٰ نے انہیں کشتی بنانے کاحکم دیاتاکہ وہ اپنے چندماننے والے افرادکے ساتھ اس پرسوارہوجائیں۔بالآخروہ دن آگیااورتنورابل پڑا۔اس سیلاب نے سب کچھ تہس نہس کردیااورخدانے اپنے ماننے والوں کو بچالیا۔
یہی حشرقوم عاد،قوم ثموداورقوم لوط کاہوا۔ان سب کامعاملہ یہ تھاکہ انہوں نے پیغمبرکی موجودگی میں حق کوجانتے بوجھتے جھٹلادیا۔ان پرحجت تمام کردی گئی لیکن ان کے تعصب،تکبر،مفادات اورہٹ دھرمی نے انہیں قبول حق سے روک دیا۔چناچہ ان کاوجودصفحۂ ہستی سے مٹادیاگیا۔
یہ تمام تباہ شدہ اقوام آج سے چندہزارسال پرانی ہیںآج اکیسویں صدی میں بھی بے شمارقومیں انہی گناہوں میں ملوث ہیں۔آج لواطت کوچندقوموں نے قانونی درجہ دے دیاہے۔لیکن یہ قومیں کسی بھی عذاب سے محفوظ ہیں۔آج بھی بہت سی اقوام مادیت پرستی میں قومِ ثمودکے نقشِ قدم پرچل رہی ہیں۔ لیکن ان پرابھی تک آندھی کاعذاب نہیںآیا۔
اس سطحی مشاہدہ سے یوں لگتاہے کہ حق وباطل کے معیارات بدل گئے ہیں۔ایک سطحی انسان کے دماغ میںیہ ساری جنگ چل رہی ہوتی ہے اوروہ یہ سوچتاہے کہ شایداخلاقی اقداربدل چکے ہیں۔اب عریانیت،لہوولعب،دھوکہ دہی،چوربازاری، ڈکٹیٹرشپ اورمادیت پرستی وغیرہ جائزہوچکی ہیں۔اب سچائی اوردیانت داری بیوقوفوں کاوصف ہے۔اب اخلاقیات کمزوروں اوردھتکارے ہوئے لوگوں کی ضرورت ہے اورمذہب اب ایک ثقافتی قدرہے۔اگرایسانہیں ہے توخداان اقوام کوہلاک کیوں نہیں کر دیتا۔یہ تجزیہ اسے ایک گناہ کی زندگی کی دعوت دیتاہے۔چنانچہ وہ بھی انہی کے نقش قدم پرچلنے کا فیصلہ کرلیتاہے۔
لیکن وہ یہ بھول گیاکہ خدانے دنیامیں عدالتیں لگانے کاعمل بندکردیا۔حضرت محمدصلّی اللہ علیہ وسلم سے قبل جن اقوام پر رسول بھیجے گئے انہیں انکارپردنیاہی میں فناکردیاگیاکیونکہ رسول خداکی عدالت دنیا میں لگاتاہے۔رسول کی موجودگی میں انکارکا مطلب صریح کفرہے۔لہذاخدااپنی نگرانی میں ان کافراقوام کوتباہ کردیتاہے کیونکہ انکارخداکے نزدیک ثابت ہوچکاہوتاہے۔
حضرت محمدصلّی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعدپیغمبروں کاسلسلہ ختم ہوگیا۔اس کے ساتھ ہی خدائی عدالتوں کادنیامیں سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔خداکاعذاب آج انفرادی واجتماعی سطح پرآتاتوضرورہے لیکن یہ ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ تنبیہ یا آزمائش کا طریقہ ہے۔ اب قوم کی عدالت کادن آخرت تک موخرکردیاگیاہے۔لیکن دونوں عدالتوں میں کامیابی و ناکامی کے معیارات یکساں ہیں۔حق پرستی ، تقویٰ، سچائی، صل�ۂرحمی،حیا،انصاف وغیرہ وہ صفات ہیں جو کامیابی کے لئے لازم ہیں جبکہ لواطت،زنا، چوربازاری، حق کاانکار اورشرک وغیرہ تباہی کے عوامل ہیں۔آج برے لوگوں پرسے خداکی عدالت ہٹانہیں لی گئی بلکہ اس عمل کومؤخرکردیا ہے۔لیکن نادان لوگ خدائی عدالت کی تاخیرکومعدومیت سے تعبیرکررہے ہیں۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s