خداسے محبت(پروفیسر محمد عقیل)


دل کی پیاس یہ تقاضا کرتی ہے کہ کسی کی محبت کاجام پیاجائے،کسی آقا کی غلامی میں سب کچھ لٹادیاجائے،کسی محبوب کی ہر شے سے بے انتہا پیار کیا جائے ، جس کابظاہر ’’ناٹھیک‘‘ بھی ’’ٹھیک‘‘ لگے، جس کی دی ہوئی مشکل میںآسانی ہوجس کی دھوپ سایہ کی مانند ہو،جس کاچھینناعطاہو،جس کی کڑواہٹ میں شیرینی ہو۔جس کی بے ترتیبی ہم آہنگ ہو۔جوپوجاجائے،چاہاجائے،جس کے گن گائے جائیں،جس کے چرچے کیے جائیں،جس کی باتیں صبح وشام ہوں،جوسوتے جاگتے من میں سمایارہے اورکبھی نہ بھلایاجائے۔
اس محبت کاحقداراگرکوئی ہے تووہ اللہ رب ذوالجلال ہے کیونکہ اسی نے پیدا کیا، پروان چڑھایا، کھلایا ، پلایا، سلایا، جگایا، ہنسایا رلایا،چلا یا پھرایا۔ ان احسانات کے علاوہ وہ ایسی صفات سے متصف ہے جس کا ادراک انسان کو اس کے آگے جھک جانے اور اس سے محبت کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ لیکن لوگوں نے اس محبت کاحق ادا نہیں کیا بلکہ اس محبت کوانہوں نے خالق کی بجائے مخلوق پرنچھاور کیا۔کسی نے عورت کواپنامحبوب بنالیا،کسی نے وطن پرجان نچھاورکردی ، کسی نے بزرگ ہستی کو اپنی محبت کا مرکز بنایا اورکوئی مادی لذتوں میں کھوکراپنے خداکوبھلابیٹھا۔
خداسے محبت کاکسی اورکی محبت سے موازنہ نہیں کیاجاسکتا،خداکی محبت ایک روحانی تجربہ ہے۔اس چاہت میں ہرمنزل کے بعدایک اورمنزل ہے،اس محبت میں بے زاری کے بجائے سکون ہے۔اس میں بے خوابی نہیں خوابناکی ہے،اس میں کچھ لینانہیں بلکہ سپردگی ہے۔اس میں خواہشات کی تکمیل نہیں ان کاابطال ہے،اس میں نفس کی لذت نہیں روح کی سرورہے،اس میں مادے کاانکاراورروحانیت پر ایمان ہے۔اس کی وضاحت حدیث پاک میں بخوبی ہوتی ہے۔
’’میرے کان،میری آنکھیں،میراخون،میراگوشت ، میری کھال،میری ہڈیاں،میرے پٹھے اوروہ پورا وجودجس کومیرے قدموں نے اٹھا رکھا ہے سب کے سب پروردگارعالم کے آگے جھکے ہوئے ہیں‘‘۔(نسائی)
مندرجہ بالاحدیث میں بظاہرتویہ محسوس ہورہاہے کہ یہ اطاعت کااظہارہے لیکن اطاعت میں توفقط پیشانی زمین پرٹکتی ہے لیکن محبت میں دل جھکتاہے اورجب دل جھکے توتمام اعضا خود بخود سربسجودہوجاتے ہیں۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s