دیوالیہ(پروفیسر محمد عقیل)


ماہِ اکتوبر میں ایک افواہ گردش کررہی تھی کہ چندبڑے بینک دیوالیہ ہوگئے ہیں۔ بعدازاں حکومتی عہدیداروں نے اس کی تردیدکردی۔چونکہ میراتعلق بزنس ایجوکیشن کے شعبے سے ہے اس لیے اکثردوست پوچھنے لگے کہ یہ بینک دیوالیہ کیوں ہوتے ہیں؟درحقیقت تجارتی بینک عوام سے ان کی رقومات (Deposits)وصول کرکے مختلف اکاؤنٹس(Accounts)میں جمع رکھتے ہیں۔ان جمع شدہ رقومات کوبینک آگے قرضے کی شکل میں فراہم کرتے ہیں۔پھرایک مخصوص مدت کے بعدیہ قرضے سودکے ساتھ وصول کرلیے جاتے ہیں۔اب اگربینک ان قرضوں کوکسی وجہ سے واپس حاصل کرنے سے قاصررہے تواس کے پاس اصل زر کاانتظام نہیں ہوتا۔چنانچہ بینک اعلان کردیتے ہیں کہ وہ اپنے کھاتے داروں کوان کی رقم واپس کرنے سے قاصرہیں۔اس کے بعدان کاکیس عدالت (Court)میں جاتاہے اوربینک کے اثاثے بیچ کرکھاتے داروں کورقومات واپس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔بعض اوقات حکومت بھی رقم کی واپسی میں ان کی مددکرتی ہے جیساکہ NDFCکے کیس میں ہوا۔یاجیساکہ امریکہ میں ہواہے جہاں حکومت نے بینکوں کی مدد کے لیے Bail Out Planمنظورکیاہے۔
چناچہ 8اکتوبرکوجب یہ افواہ پھیلی توحکومتی تردید کے باوجودبے شمارکھاتے داراپنی رقومات نکلوانے بینک پہنچ گئے تاکہ وہ اپنی رقم کومحفوظ کرسکیں۔یااس رقم کوغیرملکی کرنسی اورسونے سے تبدیل کرکے روپے کی گرتی ہوئی قدرکے نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔
آج لوگ اپنے خزانوں کوبچانے کے لیے محفوظ راستے تلاش کررہے ہیں۔وہ اپنے اکاؤنٹس (Accounts)اورلاکرز(Lokers)خالی کرکے اپناسرمایہ گھروں میں منتقل کر رہے ہیں۔ لیکن ہرکوئی اس بینک کوبھلائے بیٹھاہے جس کے دیوالیہ ہونے کاکوئی امکان نہیں، جس کی کرنسی کی قدرمیں کمی ممکن نہیں،جس کے لاکرزمحفوظ ہیں،جہاں جمع کیے ہوئے Depositsکی واپسی Guarantedہے۔جس کی ضمانت خودخالق کائنات نے دے رکھی ہے۔جس کی گواہی نبیوں اورفرشتوں نے دی ہے۔یہ بینک خداکی جنت ہے۔اس کے Depositsکاغذی کرنسی نہیں بلکہ نیک اعمال ہیں۔ان نیک اعمال پرمنافع کی شرح لامحدود ہے۔اس کے لاکرزسونے سے بھی زیادہ قیمتی دھاتوں سے بھرے ہوئے ہیں جس کی چابی خداکی بندگی بجالانے سے ملتی ہے۔
افسوس ان انسانوں پرجودنیوی بینک کے دیوالیہ ہونے سے توخوفزدہ ہیں لیکن آخرت میں خوددیوالیہ ہونے کی کوئی فکرنہیں رکھتے،جن کی آنکھیں پیلی دھات(سونے)کی چمک سے تو خیرہ ہورہی ہیں لیکن جہنم کی سرخ بھڑکتے شعلوں سے بے پرواہ ہو چکی ہیں۔
جنت کی بستی محض ان کھاتے داروں کے لیے مختص( Booked)ہے جن کے اکاؤنٹس خداکی وفاداری،اس کی اطاعت،اس کی تسلیم ورضاسے پرہیں۔یہ وہ کھاتے دارہیں جو مصیبتوں کومن جانب اللہ سمجھ کر ان پرصبرکرتے اورنعمتوں کوعارضی سمجھتے ہوئے ان پرشکربجالاتے ہیں۔
س آرٹیکل کوپڑھنے کے بعدہوسکتاہے کہ آپ اگلے آرٹیکل پرچلے جائیں لیکن ایک لمحہ رکیے۔قلم اورصفحہ اٹھائیے اورلکھ کراپنے آپ کوبتائیے کہ آپ نے آخرت کے اکاؤنٹ میں کیا کیاجمع کیاہواہے؟کتنی نیکیاں ہیں اورکتنی بدیاں؟اوراگرآپ یہ یادنہیں کرسکتے توپھرسمجھ لیں کہ آپ آخرت کے وجود پرشک کاشکارہیں کیونکہ دنیوی کھاتوں کاحساب توآپ خوب رکھتے ہیں مگرآخرت کے کھاتوں کاکوئی حساب کتاب نہیں رکھتے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s