غیبت(پروفیسر محمد عقیل)


سورۂ حجرات میں غیبت کرنے کو ایک انتہائی ناپسندیدہ فعل قرار دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ غیبت کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کی برائی اور عیب بیان کرنے کا نام ہے۔ وہ برائی جو اس شخص میں موجود ہو۔ اگر کسی کی غیر موجودگی میں اس کے اُن عیوب پر روشنی ڈالی جارہی ہو جو اس میں سرے سے موجود ہی نہ ہوں تو یہ غیبت نہیں بلکہ الزام تراشی اور بہتان تراشی ہوگی، جو غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے اور اس پر قانوناً سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ لوگوں نے دریافت کیا کہ غیبت کیا ہے؟ فرمایا: تو اپنے مسلمان بھائی کی ایسی بات کا ذکر کرے جو اسے بری معلوم ہو۔ پوچھا گیا: اگر وہ عیب اس میں موجود ہو (تب بھی؟) فرمایا: ہاں یہی تو غیبت ہے وگرنہ تو بہتان ہوگا۔ (ابو داؤد) حضرت عائشہ نے ایک مرتبہ (اشارے سے )فرمایا کہ صفیہ تو ایسیہیں (یعنی پست قامت) تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہی کہ اگر سمندر کے پانی میں ملا دی جائے تو اسے بگاڑ دے۔ (ابو داؤد) حضور فرماتے ہیں: معراج کی رات میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ناخن تانبے کے ہیں جن سے وہ اپنے چہرے اور سینے کو نوچ رہے ہیں۔ میں نے جبریل سے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے (یعنی غیبت کیا کرتے تھے) اور ان کی عزتیں لوٹتے تھے۔ (ابوداؤد) اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور نے دو افراد کو کسی کی برائی بیان کرتے ہوئے سنا۔ جب آپ کچھ دور آگے آگئے تو دیکھا کہ راستے میں ایک گدھا مرا ہوا پڑا ہے۔ فرمایا: فلاں اور فلاں شخص کہاں ہیں؟ (جو ابھی برائی بیان کررہے تھے) وہ آئیں اور اس گدھے کا گوشت کھائیں۔ انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ، اللہ آپ کو بخشے۔ یہ تو کوئی کھانے کے لائق چیز نہیں۔ آپ نے فرمایا: ابھی جو تم نے اپنے بھائی کی بدی بیان کی تھی وہ اس سے بھی زیادہ بری چیز تھی۔ (احمد)
معلوم ہوا کہ غیبت ایک انتہائی قبیح قسم کی برائی ہے اور اس کے مندرجہ ذیل لوازمات ہیں:
۱) جس شخص کی برائی کی جارہی ہو وہ اُس وقت وہاں موجود نہ ہو۔ ۲) ایسی برائی کی جائے جو واقعتا اُس شخص میں موجود ہو۔ ۳)برائی کی نوعیت ایسی ہو کہ اگر وہ شخص خود سن لے تو اسے برا لگے۔
غیبت کے لیے ان تینوں شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر احمد اپنے بھائی سے انور کی غیر موجودگی میں کہتا ہے کہ انور انتہائی مطلب پرست انسان ہے اور وہ کبھی وقت پر مدد نہیں کرتا۔ اور اتفاق سے انور میں یہ برائی پائی بھی جاتی ہے تو یہ غیبت ہے۔
ہماری سوسائٹی میں غیبت کیوں اتنی عام ہے؟ اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ہم اپنے بھائی کی برائی اس کے منہ پر بیان کرنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ لہٰذا موقع کی تاک میں رہتے ہیں کہ کسی طرح اس کی غیر موجودگی میں اس کے عیوب اور خامیاں بیان کی جائیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے بھائی کو دوسروں کی نظروں میں گرانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے حسد کے جذبے کو تسکین دی جاسکے۔ اس کی ایک اور وجہ محض زبان کے چٹخارے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم بلاوجہ اپنے بھائی کو تختۂ مشق بنالیتے ہیں۔
غیبت کی کئی دیگر نفسیاتی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔ تاہم کچھ امور ایسے بھی ہیں جن پر ان شرائط کے باوجود غیبت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنی بہن کے لیے آئے ہوئے رشتے کے متعلق دریافت کرے تو اس شخص کی خصوصیات بتانا فرض ہے۔ خواہ ایسا کرتے ہوئے اس شخص کی برائیاں ہی کیوں نہ بیان کرنی پڑیں۔ اسی طرح گواہی بھی غیبت میں شمار نہیں ہوسکتی۔
غیبت کب غیبت شمار ہوتی ہے اور کب نہیں، یہ کوئی اتنا پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے۔ بس ذرا اپنے دل کو گواہ بنا لیجیے۔ درست جواب مل جائے گا۔ دوسروں کی غیر موجودگی میں ان کے متعلق بات کرتے ہوئے محتاط رہیے۔ اور اگر آپ غیبت کے عادی ہیں تو آج سے غائب لوگوں کی باتیں کرنا چھوڑ دیجیے۔ کیوں کہ احتیاط اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے بہتر ہے۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s