مذاق اور تمسخر(پروفیسر محمد عقیل)

سورۂ حجرات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اے ایمان والو! نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے۔۔۔۔۔۔اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا ہی برا ہے۔ اور جو ان حرکتوں سے باز نہ آئیں گے تو وہی ظلم کرنے والے ہیں‘‘۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کا مذاق اڑانے، طعنہ زنی کرنے اور ایک دوسرے کو برے القابات سے پکارنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ وہ اخلاقی برائیاں ہیں جو آج ہمارے معاشرے میں بری طرح سرایت کرچکیں اور تقریباً ہر چھوٹے بڑے کو اپنا شکار بنا چکی ہیں۔ لوگ دوسروں کو اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں لہٰذا مجالس میں لوگ دوسروں کی برائیوں کا تذکرہ کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے اور انہیں برے القاب سے مخاطب کرکے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لوگ نہیں جانتے کہ انکی یہ حرکت معتوب شخص کو نفسیاتی خلجان میں مبتلا کرسکتی ہے۔
اس مطلب یہ نہیں کہ مذاق کرنا بالکل ہی ممنوع ہے۔ مذاق کرنا الگ چیز ہے اور کسی کا مذاق اور تمسخر اڑانا بالکل دوسری چیز۔ صاف ستھرا مذاق کبھی کسی کی دل آزاری کا سبب نہیں بنتا جبکہ تمسخر سے جذبات بری طرح مجروح ہوتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ جو لوگ ان حرکتوں سے باز نہیں آتے وہ درحقیقت ظالم ہیں۔
یہ اخلاقی آداب اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو سکھائے ہیں۔ یہ وہ اوصاف ہیں جنھیں اپنا کر ہم اپنے معاشرے کو خیر و فلاح کا گہوارہ بناسکتے ہیں۔ جبکہ ان کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ خود غرضی، نفسا نفسی، نفرت و عداوت، باہمی رنجش اور جھگڑوں کی شکل میں نکلتا ہے۔ کوشش کریں کہ کسی کا مذاق نہ اڑائیں اور اگر اس پر قابو مشکل ہو تو خا موشی کلام سے بہتر ہے

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s