مسلمان کے مدارج(پروفیسر محمد عقیل)

سورۂ حجرات میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’یہ دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، تو کہہ دو کہ درحقیقت تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اسلام قبول کرلیا۔ ایمان تو ابھی تمہارے دلوں میں داخل بھی نہیں ہوا۔‘‘ (آیت: 14)
مندرجہ بالا آیت اسلام اور ایمان کے فرق کو بتا رہی ہے۔ اسلام لانا درحقیقت زبان سے قبولیتِ حق کا اظہار کرنا ہے جب کہ ایمان کا مطلب ہے دل و جان سے حق کو تسلیم کرلینا۔ یہی بات مندرجہ ذیل حدیث سے بھی معلوم ہوتی ہے:
حضرت عمر بن الخطاب بیان کرتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آن پہنچا۔ جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال انتہائی کالے تھے۔ یہ محسوس نہ ہوتا تھا کہ ابھی سفر سے آیا ہے اور ہم میں سے کوئی اس کو پہچانتا بھی نہ تھا۔ وہ آں حضورﷺ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور اپنے گھٹنے حضور کے گھٹنوں سے ملا لیے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے (جیسے شاگرد باادب استاد کے سامنے بیٹھتا ہے) پھر وہ بولا: اے محمدﷺ! بتلائیے کہ اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے اس بات کی کہ کوئی معبود سچا نہیں سوائے اللہ کے اور محمد اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور استطاعت ہونے پر حج کرے۔ اس پر وہ شخص بولا: سچ کہا آپ نے۔ ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ یہ شخص خود ہی پوچھتا ہے اور خود ہی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر وہ شخص بولا: مجھ کو بتائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تو یقین کرے (دل سے) اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے پیغمبروں پر، اس کی کتابوں پر، قیامت کے دن پراور تقدیر کے خیر و شر پر کہ بر اور اچھا سب خدا ہی کی طرف سے ہے۔ وہشخص بولا: سچ کہا آپ نے۔ پھر اس نے کہا: مجھ کو بتلائیے کہ احسان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور (ورنہ اس بات کا یقین تو رکھ کہ) اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے (پھر چند مزید سوالات کے بعد وہ شخص چلا گیا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ (حضرت عمر) سے پوچھا: جانتے ہو یہ کون تھے؟ میں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل تھے، تم کو تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الایمان)
اس حدیث میں ایک مسلمان کے تین مدارج بیان ہوئے ہیں۔ پہلا درجہ ہے اسلام۔ یعنی زبان سے توحید و رسالت اور آخرت کا اقرار اور ظاہری اعمال سے اس اقرار کی توثیق۔ یہ وہ کم از کم قانونی حد ہے جس کے بغیر کوئی شخص اسلام کی حدود میں داخل نہیں ہوسکتا۔ دوسرا درجہ ایمان ہے۔ اللہ، فرشتوں، کتابوں، پیغمبروں اور یومِ آخرت اور تقدیر پر دل کی گہرائیوں سے یقین رکھنا۔ اور جب یہ یقین مؤمن کے رگ و پے میں سرایت کرجاتا ہے تو لامحالہ اس کے اعمال سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔ تیسرا درجہ احسان ہے۔ اور یہ احسان وہ آخری درجہ ہے جس پر خدا کے پیغمبر اور انتہائی مخلص بندے ہی فائز ہوتے ہیں۔ ان کا کمال یہ ہوتا ہے کہ یہ خدا کی حضوری میں جیتے ہیں۔ خدا کا تصور کبھی ان کے دل و دماغ سے اوجھل نہیں ہوتا۔ یہ دین کے کنارے پر کھڑے رہ کر رسمی عبادات نہیں کرتے بلکہ اپنا تن، من، دھن سب کچھ قربان کرکے خدا کے حضور سجدہ ریز رہتے ہیں۔
وہ طالبِ علم جو محض Passing Marks کی تگ و دو میں رہتے ہیں اکثر فیل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو محض قولی ایمان اور ظاہری اعمال کی رسمی ادایئگی پر اکتفا کرلیتے ہیں، نقصان اٹھاتے ہیں۔ جو طالبِ علم 100 میں سے 100 نمبر لینے کی سعی کرتا ہے وہ کم از کم پاس تو ضرور ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ہم میں سے ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ’احسان‘ کا درجہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ تو امید کی جاسکتی ہے کہ ’اسلام‘ کے درجے میں تو قبولیت مل ہی جائے گی (انشاء اللہ)۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s