کیاآپ کوخداسے محبت ہے؟(پروفیسر محمد عقیل)

کیا آپ کو خدا سے محبت ہے؟ میں نے ایک صاحب سے سوال کیا۔ چند لمحوں کے لیے تو وہ میرا چہرہ ہی دیکھتے رہے تاکہ میری دماغی حالت کا تعین کر سکیں، پھر بدقت تمام انہوں نے کہا ’’شاید ہاں‘‘۔ لیکن ان کا رد عمل یہ اعلان کر رہا تھا کہ میں نے انتہائی غیر متعلق سوال پوچھا ہے۔ کچھ دیر بعد میں نے ان کے چھوٹے بیٹے کی خیریت دریافت کی۔ جواب میں وہ بے دریغ بولتے گئے وہ اس کی شرارتیں، اس کی عادات اور اس کی تعلیم پر بے حد دلچسپی کے ساتھ گفتگو کرتے رہے۔ دوران گفتگو ان کی باڈی لینگویج (Body language) یہ بتارہی تھی کہ وہ کسی محبوب ہستی سے اپنے تعلق کا اظہار فرمارہے ہیں۔
کچھ عرصے بعد میں نے یہی سوال ایک مذہبی شخص سے کیا۔ ’’کیا آپ کو خدا سے محبت ہے؟‘‘ لیکن اس کا رد عمل بھی مندرجہ بالا دنیا پرست انسان سے مختلف نہ تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اسے بزرگوں اور معروف مذہبی شخصیات سے محبت تھی۔ اسے ان کی کرامات میں تو دلچسپی تھی لیکن خدا کے معجزات سے وہ بے خبر تھا۔ اسے ولیوں کے ہواؤں میں اڑنے پر تو حیرت تھی لیکن پرندوں کی پرواز پر کوئی اچنبھا نہ تھا۔
غرض میں نے یہی سوال مختلف مکاتب فکر کے افراد سے کیا۔ لیکن کسی نے بھی اس سوال کو سنجیدہ نہ لیا۔مجھے یہ جان کر بڑی حیرت ہوئی کہ وہ خدا جس نے اس کائنات کو عدم سے وجود بخشا اور جس نے انسان کو شعور کی دولت سے آراستہ کیا۔وہ خدا آج اس کائنات میں سب سے زیادہ نظرانداز ہستی ہے۔ آج لوگ اپنی اولاد کی محبت میں گم ہیں۔ انہیں اپنی آسائشوں سے محبت ہے۔ یہاں تک کہ ان کی کوئی قیمتی چیز کھوجاتی ہے تو وہ اس کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ مگر خدا کی تلاش سے وہ بالکل ناآشنا ہیں۔
زمانۂ قدیم میں لوگوں کی دلچسپی کا مرکز چاند، سورج، تارے اور پتھروں سے بنے بت تھے جبکہ خدا کو انہوں نے پس پشت ڈال رکھاتھا۔ چناچہ خدا نے اپنے وجود کا احساس دلایا اور ان پر آسمانوں اور زمین سے عذاب نازل کیا۔ اس دور جدید میں لوگوں کی دلچسپی مٹی کے گھروں سے ہے، آج لوگ موبائل فون کے فنکشنز (Functions) میں گم ہیں، آج کار کی چمک ان کی آنکھیں خیرہ کررہی ہے، آج اولاد کی مسکراہٹ پر جانیں قربان کی جارہی ہیں، آج کنزیومرازم (Consumerism) کا عفریت لوگوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اور آج دولت کی محبت دلوں میں گھر کر چکی ہے۔ مگر خدا کی محبت عنقا ہے۔
خدا نے کبھی یہ گوارا نہیں کیاکہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کرکے اور اس کے برابر کھڑا کرکے اسے پوجا جائے۔ چناچہ خدا یہ کیسے برداشت کر سکتاہے کہ اس کو نظر انداز کرکے مخلوق کو خدا کا درجہ دے دیاجائے، مخلوق کو محبت کا مرکز مان لیا جائے، اگر خدا کو ساجھے داری یا برابری بری لگتی ہے تو یہ بات بدرجہ اولیٰ ناپسند ہے کہ کسی مخلوق کی چاہت کو خالق کی محبت پر ترجیح دی جائے۔ وہ اگر کسی کی برابری پسند نہیں کرتا تو کسی کی فوقیت اور برتری کیسے برداشت کر سکتا ہے۔
خدا ہی اس بات کا حقدار ہے کہ وہ چاہا جائے ، اس کی عظمت کے گن گائے جائیں، اس کی عنایتوں کا چرچا کیا جائے، اس کی عطاؤں کا ذکر کیا جائے، اس کی ربوبیت کے قصے بیان ہوں، اس کی محبت پر اشعار کہے جائیں، اس کی یادوں کو دل میں بسایاجائے۔ لیکن آج مخلوق سے محبت جتائی جارہی اور خالق کو نظر انداز کیا جارہاہے۔ یہ جرم شاید شرک سے بھی بڑا جرم ہے۔ شرک کی بنا پر ماضی میں کئی بستیاں اجڑ چکی ہیں جبکہ اس شدید تر جرم کی وجہ سے پوری انسانیت کا وجود خطرے میں ہے۔ شاید وہ وقت قریب ہے جب کہ اس مادی دنیا کی ہر اس شے کو تباہ کر دیا جائے جو انسان کی محبت کا مرکز تھی۔اور پھر خدا وند غیب کے پردے سے عیاں ہوکر آپ سے یہ سوال کرے:
’’کیا تمھیں مجھ سے محبت تھی‘‘؟

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s