ہزاروں خواہشیں ایسی(پروفیسر محمد عقیل)


معاشیات میں ایک قانون ہے’’قانون تقلیل افادہ مختتم‘‘یعنیLaw of Diminishing Marginal Utility۔اس کااگرسادہ الفاظ میں ترجمہ کیا جائے تو یہ مارجنل یوٹلٹی(Marginal Utility)کے کم ہونے کاقانون ہے۔یہ قانون بیان کرتاہے کہ کسی شے استعمال میں اضافہ کیاجائے تواس سے حاصل ہونے والی مارجنل یوٹلٹی کم ہوتی رہتی ہے۔مثال کے طورپراگرہم افطارکرتے وقت پانی کاگلاس پیتے ہیں توہمیں سکون ملتاہے۔دوسراگلاس پینے سے بھی سکون ملتاہے۔لیکن دوسرے گلاس سے حاصل ہونے والافائدہ پہلے گلاس کے مقابلے میں کم ہوگا۔اب ہم جتنے پانی کے گلاس مسلسل پیتے جائیں گے۔توہرنیاگلاس پچھلے گلاس کے مقابلے میں کم فائدہ پہنچائے گا۔یہاں تک کے ہمارادل بھرجائے گااورمزیدپانی ہمارے لیے نقصاندہ ہوجائے گا۔
یہ قانون ہماری مادی زندگی کے ہرپہلوپرلاگوہوتاہے۔ایک بچے کوسائیکل کاشوق ہے وہ سمجھتاہے کہ اگراسے سائیکل مل جائے تواس کی تمام خواہشات پوری ہو جائیں گی اوروہ مزیدکسی شے کی خواہش نہیں کرے گا۔ایک دن وہ سائیکل حاصل کرلیتاہے۔وہ اسے چلاتا،چمکاتا، پیار کرتا اور لوگوں کو دکھاتا ہے۔پہلے دن اس کی خوشی کاٹھکانا نہیں ہوتا۔لیکن جوں جوں دن گزرتے ہیں توسائیکل میں کشش کم ہونے لگتی ہے۔یہاں تک کہ یہ عزیز ترین سائیکل اس کے لیے ایک عام سی شے بن جاتی ہے اوروہ کسی اورچیزکی خواہش کرنے لگتاہے۔
اگرہم اپنی زندگی کاجائزہ لیں توہماری کیفیت اس بچے سے مختلف نہیں۔ہرنیادن ہمارے لیے نئی خواہشات کی تمنادل میں پیداکرتاہے۔جب وہ خواہش پوری ہو جاتی ہے توکچھ عرصے بعدہمارادل بھرجاتاہے۔پھرنئی خواہشات ہماری زندگی کے سکون کودرہم برہم کررہی ہوتی ہیں۔جب کارکی خواہش پوری ہوجاتی ہے نت نئے ماڈل اورسائزکی کاریں ہمیں دعوت دیتی ہیں۔جب کپڑے مل جاتے ہیں توان میں تنوع کی خواہش انگڑائی لیتی ہے۔جب120گزکے گھرمیں ٹھکانہ میسرآتاہے تو بڑے گھرمنزل مقصودبن جاتے ہیں۔اورجنسی معاملات کاتوذکرہی فضول ہے:
ہزاروں خواہش اپنی کہ ہرخواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھربھی کم نکلے
یہ سب کچھ کیوں ہوتاہے؟یہ ایک بہت بڑاسوال ہے۔اس کاجواب یہ ہے کہ یہ مادی دنیا محدودہے ۔خالق کائنات نے اس دنیا کے وسائل کو محدودبنایااور انسان کی خواہشات کولامحدودکردیا۔بظاہریوں لگتاہے کہ انسان اپنی لامحدودخواہشات کے ساتھ اس محدوددنیامیں مس فٹ(Misfit)ہے۔وہ ان لامحدودخواہشات کومحدودمادی اشیاء سے پوراکرناچاہتاہے۔لیکن ہرمادی شے کاحصول اس کی کوشش کوناکام بنادیتاہے۔انسان بچپن سے جوانی اورجوانی سے بڑھاپے میں داخل ہوتاہے۔لیکن وہ سکون حاصل نہیں کرپاتاجواس نے مادی دنیاسے مانگاتھا۔
سکون ایک غیرمادی کیفیت ہے مادی چیزوں سے حاصل ہونے والی خوشی عارضی ہے۔یہ ہماری لامحدودخواہشات اورلامحدودسکون کے حصول کوممکن نہیں بناسکتی۔ اس سکون کامرجع ومرکزمحدودیت نہیں بلکہ لامحدودیت ہے لہذاسکون کے منبع کالامحدودہوناضروری ہے۔یہ منبع خداکی ذات ہے۔خداسے محبت،خداسے لگاؤ،خداکی اطاعت،خداسے مکالمہ اورخداکی خواہش یہی سب کچھ ہماری لامحدودخواہشات کاجواب ہے۔اگرخدامل جائے تودنیاکی زندگی میں ایک سکون اورقرارہے اورایک ٹہراؤآجائے ۔اور اس سکون پرمارجنل یوٹلٹی کاقانون لاگونہیں ہوتا۔دوسری جانب خداکی اطاعت کانتیجہ اس ادنیٰ زندگی سے ایک اعلیٰ زندگی میں منتقلی ہے۔جس کانتیجہ جنت کی شکل میں ظاہرہوتاہے۔وہاں اگرخواہشات لامحدودہونگی توان کی تکمیل کے مواقع بھی لامحدودہونگے۔
کیاہم اب بھی اس محدوددنیاسے اپنے لامحدودسکون کوحاصل کرناچاہتے ہیں؟

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s