اسباب اور مسبّب الاسباب(پروفیسر محمد عقیل)


سڑک پر ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں ایک شخص بے ہوش پڑا ہے۔ بہت سے لوگ جمع ہیں۔ ہر ایک بھانت بھانت کی بولی بول رہا ہے۔ اکثر لوگ محض تماشائی کی حیثیت سے ہجوم کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ کچھ سنجیدہ لوگ آگے بڑھتے ہیں اور زخمی کو کار میں ڈال کر ہسپتال روانہ ہوتے ہیں۔ ہسپتال آپہنچا، اسٹریچر لایا گیا اور زخمی کو آپریشن تھیٹر منتقل کرکے آپریشن کی تیاری شروع کردی گئی۔ دو ڈاکٹر اپنے معاونین کے ساتھ آپریشن میں مصروف ہیں۔ باہر دو آدمی کھڑے ہیں جو زخمی کو ہسپتال لے کر آئے تھے۔ ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح زخمی کے گھر والوں کو اطلاع کردی جائے۔ اسی دوران ڈاکٹر باہر آتے ہیں اور مژدہ سناتے ہیں کہ آپریشن کامیاب رہا اور اب زخمی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ کچھ ہی دیر بعد زخمی کو ہوش آگیا۔ اس نے ان افراد کا بے حد شکریہ ادا کیا جو اسے سڑک سے اٹھا کر لائے تھے۔ اس نے دونوں ڈاکٹروں، نرسوں اور معاونین سے بھی اپنی ممنونیت کا اظہار کیا۔ لیکن اس نے ان اوزاروں کا شکریہ ادا نہیں کیا جنہیں استعمال کرکے ڈاکٹروں نے اس کی زندگی بچائی تھی۔ اس نے اس ایمبولینس سے اپنی ممنونیت کا اظہار نہیں کیا جو اسے ہسپتال لے کر آئی تھی۔ اس نے اس اسٹریچر کو شاباشی نہیں دی جو اسے اپنے اوپر لاد کر آپریشن تھیٹر تک لے گیا تھا۔ غور کیجیے کہ اس شخص نے ہر صاحبِ شعورا ور با ارادہ انسان کا شکریہ ادا کیا مگر تمام بے ارادہ اشیا و اسباب کو نظر انداز کردیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ اشیا اسے بچانے کا اصل سبب نہیں بلکہاصل محرک تو ان انسانوں کا اردہ و عمل تھا جو اسے یہاں لائے اور جنہوں نے اس کا علاج اور آپریشن کیا۔
لیکن یہی زخمی جب اپنے گھر پہنچتا ہے اور اس کا ننھا بچہ اس سے سوال کرتا ہے کہ ’’ ابو: جب آم اور سیب کے درختوں کو ایک ہی پانی پلایا جاتا ہے تو پھر وہ دونوں مختلف پھل کیوں دیتے ہیں؟‘‘ تو اس کا جواب ہوتا ہے کہ بیٹا یہ فطرت کا بنایا ہوا خوبصورت اور حیرت انگیز نظام ہے۔ جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
غور کیجیے، وہ شخص کتنی آسانی سے یہ بات سمجھ گیا تھا کہ اس کو بچانے والے صاحبِ شعور و ارادہ انسان تھے نہ کہ ایمبولینس، اسٹریچر اور دوسرے آلات۔ لیکن وہ اس سوال میں اسباب ہی میں الجھ کر رہ گیا، مسبب الاسباب(خدا) کو پہچان ہی نہ پایا۔ تو پھر وہ اس کی حمد اور تعریف کی توفیق کہاں سے پاتا!
ہم میں سے اکثر لوگوں کا یہی حال ہے کہ وہ اسباب کے پردے کے پیچھے کارفرما ہاتھ کو نہیں سمجھتے یا نہیں سمجھنا چاہتے۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ پینے کا پانی گلیشئر سے گزر کر ڈیم اور دریا میں اسٹور ہوکر پائپوں کے ذریعے ہم تک پہنچتا ہے۔ لیکن یہ پانی گلیشئر پر کیسے آتا ہے۔ تو جواب ہوتا ہے کہ وہاں برف گرتی ہے۔ پھر یہی برف پانی بن کر بہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ برف کیوں گرتی ہے۔ تو جواب آتا ہے کہ درجۂ حرارت بہت منفی ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ درجۂ حرارت منفی کیوں ہوتا ہے۔ تو جواب آتا ہے کہ یہ مقام بہت زیادہ اونچائی پر ہوتا ہے اس لیے۔ سوال یہ ہے کہ اونچائی پر درجۂ حرارت کی منفیت سے برف کیوں بنتی ہے، آگ کیوں نہیں بنتی؟ درجۂ حرارت اونچائی پر منفی کیوں ہوتا ہے؟ برف پگھلتی ہی کیوں ہے؟ وغیرہ۔ تو ان سب کا جواب یہ ہوتا ہے کہ یہ فطرت کا نظام ہے۔ اس طرح ایک انسان ان سارے اسباب کے پرے اصل کارفرما ہستی اور خدائی شعور و ارادے کو نظر انداز کردیتا ہے۔
سائنسی امور کے علاوہ روزمرہ کے معمولات میں بھی انسان اسی شانِ بے نیازی کا اظہار کرتا ہے۔ مثلاً وہ سمجھتا ہے کہ رزق وہ اپنے بل بوتے پر کماتا، لباس اپنی کمائی کا پہنتا، ترقی اپنی تدبیر سے حاصل کرتا، خوشی اپنی سرگرمیوں سے پاتا اور زندگی کی گاڑی اپنے علم سے چلاتا ہے۔ حالانکہ وہ تو اس پر بھی قادر نہیں کہ جو سانس اندر گئی ہے اسے مجرد اپنے ارادہ و اختیار سے باہر نکال سکے۔
قرآن میں خدا ہر سبب کی نفی کرکے تمام امور کو اپنی نسبت سے بیان کرتا ہے۔ وہ اپنا تعارف اسباب سے ماورا مسبب الاسباب کی حیثیت سے کراتا ہے۔ وہ اعلان کرتا ہے کہ یہ ساری کائنات اس کی مٹھی میں ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ یہاں رونما ہونے والا ہر چھوٹا بڑا واقعہ اسی کے اذن اور مرضی سے ہوتا ہے۔ لیکن انسان خدا کو بھول کر اسباب ہی میں گم رہتا ہے۔ کیا ایسا انسان مستحق مہیں کہ یہ اپنے معبودوں (اسباب) کے ساتھ جہنم کی بے اسباب وادیوں میں جھونک دیا جائے۔
Back to Conversion Tool
Back to Home Page

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s