بادشاہ(پروفیسر محمد عقیل)


دربار لگا ہوا ہے۔ بادشاہ اپنے تمام تر جاہ و جلال کے ساتھ تخت پر براجمان ہے۔ سب درباری ادب سے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ قاری صاحب قرا ء ت کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ اجازت دے دی گئی۔ قاری نے تلاوت شروع کی، یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچ گئے:
لمن الملک الیوم۔ لللّٰہ الواحد القھار۔
’’آج (یعنی قیامت کے دن) حکومت کس کی ہے؟ اللہ کی جو واحد اور قہّار ہے۔‘‘
بادشاہ نے جب یہ سنا۔ اس نے سر سے تاج اتار کر زمین پر رکھ دیا اور اس کے جسم پر لرزہ طاری ہوگیا، حتّٰی کہ وہ روتے ہوئے سجدہ میں گرگیا اور کہنے لگا ’’آج بھی بادشاہی تیرے ہی لیے ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے لیے جن صفات کا کثرت سے استعمال کیا ہے، اُن میں ’الملک‘ (بادشاہ) بھی شامل ہے۔ لیکن خدا کی بادشاہی کی نوعیت انسانوں کی بادشاہی سے قطعی مختلف ہے۔ دنیوی بادشاہ بالعموم ظلم و عدوان کے حامل ہوتے ہیں، انہیں مشوروں کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہر وقت خارجی بادشاہ کے حملے سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ جب کہ خداوندِ کائنات ان تمام کمزوریوں سے پاک ہے۔ وہ ایک ایسا بادشاہ ہے جس کی بادشاہت حقیقی بھی ہے اور ابدی بھی۔ وہ عادل ہے، ذرہ برابر کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ وہ یہ سارا کارخانۂ کائنات الل ٹپ نہیں چلا رہا بلکہ اس کے پیچھے ایک شاندار حکمت کارفرما ہے۔ اسے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں، وہ کسی دوسرے بادشاہ کی یلغار سے خائف نہیں۔ وہ متکبر ہے، کیوں کہ تکبر اُسی کو زیبا ہے۔ وہ حمد و ثنا کے لائق ہے، کیوں کہ وہی ساری اچھائیوں اور خوبیوں کا منبع ہے۔ وہ جو چاہے کرسکتا ہے، کیوں کہ کوئی اُسے پوچھنے والا اور اُس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ اُس کے ہاتھ میں ساری قدرت ہے،وہی سب کی تقدیر بنانے والا ہے۔ وہ سورج کو مشرق سے بھی نکال سکتا ہے اور مغرب سے بھی۔ وہ قادر ہے کہ رات کی تاریکی ہمیشہ رہے اور دن کبھی نہ نکلے۔ وہ چاہے تو سورج ہمیشہ چمکتا رہے اور کبھی غروب نہ ہو۔ وہی زندگی دیتا اور مارتا ہے، وہی ہنساتا اور وہی رلاتا ہے۔وہ اسباب کا پابند نہیں، مسبب الاسباب ہے۔ اُس کی بادشاہی محدود نہیں، لامحدود ہے۔ سمندروں کی تہہ میں پیدا ہونے والے کیڑوں کا خالق بھی وہی ہے اور آسمان میں اڑنے والے پرندوں کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بادشاہِ حقیقی ہے، وہی بادشاہ ہے اور بس وہی اکیلا بادشاہ ہے۔ زمین و آسمان کی ہر شے اُس کی مٹھی میں ہے اور اِس نادان اور غافل انسان کے سوا ہر چیز اُس کی پاکی اور بڑائی بیان کر رہی ہے۔

جدید دور کا نادان انسان اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی جرأت کر رہا ہے۔ وہ خدا کو ایک بے اختیار ہستی ثابت کرنے کی سعی میں مصروف ہے۔ خدا کی زمین پر اپنی ملکیت کے دعوے کر رہا ہے۔ خدا کی خدائی کو محض ایک ’اتفاق‘ کہہ رہا ہے۔ خدا کے وجود کو ’ارتقا‘ کی پیداوار قرار دیتا ہے۔ اِس کی آنکھیں شہوت کے نشے میں مخمور ہیں۔ اس کا جسم ڈسکو کی تھاپ پر تھرک رہا ہے۔ اس کا شاطردماغ اسی دنیا میں جنت کی تعمیر میں مصروف ہے۔ آج کے نادان انسان نے ہر اس شے سے اپنا ناطہ توڑ لیا ہے جو اسے خدا کی بادشاہی سے آگاہی دیتی ہو، وہ اپنی بڑائی کے زعم میں مست ہے۔ اسے کسی کی بادشاہی سے کچھ لینا دینا نہیں۔ وہ بس اپنے نفس کی خواہشات اور اپنے حقیر مفادات کا غلام بن چکا ہے۔
شتر مُرغ اگر آنے والے طوفان سے بچنے کے لیے اپنا منہ ریت میں چھپا لے تو اس سے آنے والا خطرہ ٹل نہیں جاتا۔ اسی طرح آج کا یہ بھٹکا ہوا انسان کتنا ہی خدا کی بادشاہی کا انکار کرے، حقیقت اپنی جگہ برقرار رہے گی۔ قیامت کا وہ دن آکر رہے گا جب خدا اپنے فرشتوں کے جُلو میں جلوہ افروز ہوگا۔ آج جبریلِ امین اور دوسرے فرشتے دربارِ خداوندی میں قطار بنائے حاضر ہیں۔ زبانیں گنگ ہوچکیں ، سرگوشیاں تھم گئیں، ساری بادشاہتیں فنا ہوچلیں اور جھوٹی غلامیاں آزاد ہوگئیں۔ آج کے دن وہ بادشاہِ حقیقی، احکم الحٰکمین‘ تنہا سارے اختیارات کا مالک ہے۔اب لوگ الگ الگ کیے جائیں گے کہ کون خدا کا بندہ اور فرماں بردار تھا اور کون خدا کا باغی اور نافرمان۔ کس نے خدا کی بادشاہی کو مان کر زندگی گزاری اور کون اپنی جھوٹی طاقت کے نشے میں بدمست رہا۔
صرف خدا کی بادشاہی ہی سچی بادشاہی ہے۔ باقی ساری بادشاہتیں جھوٹی ہیں۔سو آئیے! اور آج یہ فیصلہ کر کے اٹھیے کہ آپ کس کے غلام ہیں اور کون آپ کا بادشاہ ہے۔

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s