بدنگاہی: قرآن و حدیث کی روشنی میں(پروفیسر محمد عقیل)


ہماری سوسائٹی میں بدنگاہی ایک عام مرض ہے۔ بیش تر لوگ خواتین کو اس بری طرح گھورتے ہیں کہ شریف قسم کے مردوں کو بھی شرم آجاتی ہے۔ اس بدنگاہی کی ایک جدید شکل فلموں اور انٹرنیٹ پر فحش مناظر سے لطف اندوز ہونا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس شہوت پرستانہ عمل کی تاویل( Justify ) کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اکثر لوگ تو اس برے عمل کو گناہ ہی نہیں سمجھتے۔ حالانکہ قرآن میں پرودگارِ عالم کا ارشاد ہے کہ:
’’بے حیائی کے قریب بھی مت جاؤ، خواہ وہ کھلی ہو یا چھپی۔‘‘، (انعام: 151)
اسی طرح ایک دوسری جگہ ارشاد ہے کہ:
’’مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے۔ لوگجو کچھ کریں گے اللہ سب سے خبردار ہے۔ اور مؤمن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کا اظہار نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں لیے رکھیں۔‘‘، ( سورۂ نور: 30-31)
یہ آیات بالکل دوٹوک انداز میں بدنگاہی کی مذمت کررہی ہیں۔ احادیث میں بھی اس ضمن میں بڑی وضاحت موجود ہے۔ مثلاً حضرت جریرؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نگاہ پڑجانے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اپنی نگاہ فوراً ہٹالو (مسلم) حضرت علیؓ سے آپﷺ نے فرمایا کہ راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ لوگوں نے پوچھا کہ اگر کام کاج کے لیے ضروری ہوتو فرمایا کہ تو پھر راستوں کو حق ادا کرتے رہو۔ لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ فرمایا: نگاہیں نیچی رکھنا، کسی کو ایذا نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کی تلقین کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔ (بخاری) اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا: جب کسی کی نگاہ عورت کے حسن و جمال پر پڑجائے اوروہ اپنی نگاہ ہٹالے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایک ایسی عبادت عطا فرماتا ہے جس کی لذت وہ دل میں محسوس کرتاہے۔ (احمد) ایک روایت میں ہے کہ جو زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کی ضمانت لے میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔ (بخاری) ایک اور حدیث ہے کہ ابنِ آدم کا زنا اس کے ذمہ لکھ دیا گیا ہے۔ جسے وہ لامحالہ پالے گا؛ آنکھوں کا زنا (شہوت سے) دیکھنا ہے۔ زبان کا زنا (شہوت کی بات) بولنا ہے۔ کانوں کا زنا (شہوت کی بات) سننا ہے۔ ہاتھوں کا زنا (شہوت سے) تھامنا ہے اور پیروں کا زنا (شہوت کی ناجائز تکمیل کے لیے) چلنا ہے۔ دل خواہش، تمنا اور آرزو کرتا ہے۔ پھر شرم گاہ یا تو سب کو سچا کردیتی ہے یا جھوٹا بنادیتی ہے۔ (بخاری)
ان آیات و احادیث کی روشنی میں ذرا اپنی سوسائٹی پر نگاہ ڈالیے تو معلوم ہوگاکہ آج بدنگاہی ایک عام مرض بن چکی ہے اور ہمارا ہر چھوٹا بڑا اس بیماری میں مبتلا نظر آتاہے۔ پھر ہماری خواتین نے جو رنگ ڈھنگ، فیشن اور لباس اختیار کررکھے ہیں انہوں نے بھی اس مرض کو پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ہمارا اسکول ہو یا کالج، آفس ہو یا پارک اور بازار ہو یا کوئی تقریب، یہ مناظرہر جگہ عام نظر آتے ہیں۔ میڈیا کا اس معاملے میں رول سب سے اہم ہے۔ اشتہار بازی، ڈرامہ ، ٹاک شو اور دیگر پرگراموں کو کامیاب بنانے کے لئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بے دریغ صنفِ نازک کی کشش کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ کسی کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم مسلمان ہیں۔ یہ مسلمانوں کا معاشرہ ہے جہاں ان چیزوں کو رواج دینا ایک شیطانی اور ناپسندیدہ عمل ہے ۔ اآج لوگ خدا کے خوف، آخرت کی جوابدہی اور اسلام کی تعلیمات سے اتنے دور جاپڑے کہ انہیں گناہ گناہ ہی محسوس نہیں ہوتا۔
یہ حقیقت ہے کہ ہم بد نگاہی اور بے حیائی کے جس کلچر کے عادی ہو چلے ہیں وہ تباہی اور بربادی کا کلچر ہے۔ آنکھ کی کھڑکی کھلی رہے تو بے شمار وسوسے پیدا ہوتے ہیں، دل صنفِ مخالف کی جانب راغب ہوتا اور دیگر اعضا کو زنا کی جانب مجبور کرتا ہے۔ پھر قدم گناہ کی راہ پر اٹھتے، اورزبان گناہ کا کلام کرتی ہے ۔ پھر موبائل فون پر راتوں میں چوری چھپے باتیں ہوتی ہیں، انٹرنیٹ پر ای میل اور تصاویر کا تبادلہ ہوتاہے۔ تعلیمی ادارے عشق و محبت کی نرسری بن جاتے ہیں۔پھر تفریحی مقامات پر نوجوان جوڑے دنیا و ما فیہا سے بے خبر بیٹھے نظر آتے ہیں اور تنہائی میسر آنے پر وہ گناہ بھی سرزد ہوجاتا ہے جس کا عذاب قیامت میں دوگنا ہے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ جب زنا سے دل بھرجاتا ہے تو پھر اجتماعی زیادتی، نشہ ور اشیا کا استعمال اور جرائم کی جانب بھی رغبت ہونے لگتی ہے۔ یوں یہ بدنگاہی بعض اوقات ایک ایسے موڑ پر لے آتی ہے جس میں واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔
اس ضمن میں ہر ایک نے اپنا رول ادا کرنا ہے۔ ہماری خواتین کو اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے اور زینت و آرائش کے نام پر وہ جس بے اعتدالی کا شکار ہوگئیں ہیں، اس سیوہ بچیں اور توبہ کریں۔ میڈیا سے متعلق لوگوں کو بھی احساس کرنا چاہیے کہ وہ سوسائٹی میں صالح رویوں کو فروغ دینے کا باعث بنیں۔ قرآن و حدیث کے ان بیانات کے باوجود اگر ہم ان کاموں سے باز نہیں آتے تو پھر اُس دن کاانتظار کرنا چاہیے جب خداوندِ ذو الجلال اپنے پورے جلال و جبروت کے ساتھ ظاہر ہو گا اور ایسی ساری نگاہیں الٹ دی جائیں گی۔

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s