دعوت نامہ(پروفیسر محمد عقیل)

ہماری سوسائٹی میں خوشی منانے کااندازنرالاہے۔ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کی تکالیف بھول جاتے ہیں۔ہم شادی سے قبل بلندآوازمیں گانے بجاتے ہیں،خواہ دوسرے اس سے نالاں ہی کیوں نہ ہوں۔ہم پٹاخے پھوڑتے ہیں خواہ کسی کادل ہی کیوں نہ دہل جائے،ہم فائرنگ کرتے ہیں چاہے کسی کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
ان ہی امورکی طرح ایک اورمعاملہ بھی ہے۔جس سے ہم اپنی خوشی کی خاطردوسروں کو تکلیف دیتے ہیں اوریہ معاملہ ہے تقاریب میں دعوت کا۔جب بھی ہمارے گھرمیں کوئی نکاح، ولیمہ یادیگررسومات منعقدہوتی ہیں توہماری یہ فطری کوشش ہوتی ہے کہ اس خوشی کے موقع پراپنے دوستوں اوررشتہ داروں کو شریک کریں تاکہ ہماری خوشی دوبالاہوجائے۔بظاہرتویہ ایک سادہ سی بات ہے۔لیکن ہمارے معاشرے نے اسے بہت پیچیدہ بنادیاہے۔اس پیچیدگی کی وجہ سے اب کسی تقریب میں شرکت کرناوبال جان ہوتاجارہاہے اوریہ چیزلوگوں کے لیے نہ صرف زحمت کا باعث بن رہی ہے بلکہ اس سے ایک منافقانہ طرزعمل وجودمیںآرہاہے۔چناچہ اس معاملے کا تجزیہ کیاجانااشدضروری ہے۔
اس ضمن میں پہلامسئلہ یہ ہے کہ عموماًیہ تقاریب رات کودیرتک جاری رہتی ہیں اورکراچی میں رات کے1یا2بجے تقریب کاشروع
ہوناایک معمول ہے۔پھرگھرپہنچتے پہنچتے 3،4بج جاتے ہیں۔اس کی وجہ سے صبح آفس جانے والے حضرات ،اسکول جانے والے بچے اورصبح اٹھنے والی خواتین بری طرح متاثرہوتی ہیں۔اس دیرکاسبب کیاہے؟اس کے کئی اسباب ہیں۔ ایک بڑی وجہ مووی کابنناہے۔جبکہ دوسری بڑی وجہ خواتین کابیوٹی پارلرجاناہے جس کی وجہ سے لوگ تاخیر کے ساتھ شادی ہال پہنچتے ہیں۔
ان تقاریب سے متعلق ایک دوسرامسئلہ یہ ہے کہ اکثرلوگ تقاریب میں شرکت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ انہوں نے میزبان سے لیے ہوئے تحفے کا احسان اتارناہوتاہے۔یاوہ اس لیے جاتے ہیں تاکہ کل کو دوسرے بھی ان کی تقریب میں شرکت کریں۔چناچہ شرکت کا بنیادی مقصدیعنی خوشی میں شریک ہونافوت ہوجاتاہے۔
ایک اورمسئلہ سیکڑوں افرادکومدعوکرناہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ جب تک400،500افرادکا جم غفیرنہ ہونکاح ہی نہیں ہوتا۔اس جم غفیرکی وجہ سے کھانے پینے اوردیگرانتظامات پرلاکھوں روپے کاضیاع کردیاجاتاہے۔
آخری مسئلہ یہ ہے کہ اگرکسی کوتقریب میں نہ بلایاجائے تووہ برامناتاہے اوراگرکوئی تقریب میں نہ شرکت کرے تومیزبان روٹھجاتاہے۔اس کی وجہ سے کئی رشتہ داریاں ختم ہورہی ہیں۔
ان تمام مسائل کاحل حقیقت پسندانہ رویہ میں ہے۔ہمیںیہ جان لیناچاہیے کہ ہماری خوشی کی کوئی تقریب جتنی اہم ہمارے لیے ہے کسی دوسرے کے لیے نہیں۔لہذااس خوشی کے لیے جو تکلیف ہم اٹھاسکتے ہیں اس کی دوسرے سے توقع کرنازیادتی ہے۔
ان مسائل کاحل قانون سازی میں نہیں بلکہ سمجھ داری میں ہے۔سمجھ داری یہ ہے کہ لوگوں کوآٹھ یانوبجے فارغ کردیاجائے۔پھربیشک گھروالے ساری رات ہال میں بیٹھے رہیں۔ سمجھ داری یہ ہے کہ لوگوں کی تعدادکو سویادوسوقریبی لوگوں تک محدودکیاجائے تاکہ اسراف سے بچا جائے۔سمجھداری یہ ہے کہ کسی کے نہ بلانے پربرانہ ماناجائے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی برانہیں مانا۔

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s