ہٹلرخداکے حضور(پروفیسر محمد عقیل)


ایڈولف ہٹلر(Adolf Hitler)20اپریل1889میں آسٹریاکے قصبے برینو (Brainue) میں پیداہوا۔اس کاباپ آلیوس(Alios)ایک کسٹم افسرتھا۔ہٹلرکی ماں کلارااپنے شوہرکی تیسری بیوی تھی۔ آلیوس انتہائی سخت مزاج اورپرتشددباپ ثابت ہوا۔ہٹلراکثراس کے ہاتھوں جسمانی تشدد کاشکاربنتا۔وہ ہٹلرکوسول سروس میں لاناچاہتاتھاجبکہ ہٹلرآرٹ میں دلچسپی رکھتاتھا۔
زندگی ابھی ابتدائی مرحلے ہی میں تھی کہ ہٹلرباپ کے سائے سے محروم ہوگیا۔اس وقت وہ13برس کاتھا۔کچھ عرصے بعدماں بھی کینسرکاشکارہوکرچل بسی۔اب ہٹلردنیامیں اکیلاتھا۔چنانچہ ویانا جاکر قسمت آزمانے کافیصلہ کیا۔ہٹلرنے وہاں زندگی کاآغازفٹ پاتھ پررہنے والے قلی اورنقشہ نویس کی حیثیت سے کیا۔مالی حالت انتہائی خراب تھی اوراکثرفاقہ کشی کی نوبت آجاتی ۔وہ جاڑوں کی ٹھٹرتی راتوں میں دیکھا کرتا کہ یہودی سرمایہ دارمزے سے سگارسلگاکراسٹڈی روم میں آگ تاپ رہا ہے۔ یہیں سے یہودیوں کے خلاف نفرت نے جنم لیا۔ویاناکے پانچ سالہ قیام میں اس نے نسل پرستی اور یہودی دشمنی پرمبنی Semitism Anti -۔نظریات کی تعلیم حاصل کی۔
24برس کی عمرمیں وہ بویریارچمنٹ میں بھرتی ہوااورجنگ میں شرکت کی۔انتہائی جرات کامظاہرہ کرنے کے باوجودوہ لانس کارپورل(Lance karporal)کے معمولی عہدے سے آگے نہ بڑھ سکا۔اتحادیوں کے ہاتھوں شکست پروہ دل برداشتہ ہوگیا۔پہلی جنگ عظیم کے بعداتحادیوں نے جرمنی کامعاشی اورسیاسی بائیکاٹ کردیا۔لہٰذااس نے سیاست میں آنے کافیصلہ کرلیا۔جلدہی ہٹلرنے اپنی مسحورکن تقریروں سے عوام میں پذیرائی حاصل کرلی۔اس کے نظریات کامحورآریائی نسل کی برتری،یہودیوں کی مخالفت اوران کاانخلاتھا۔وہ معاشی وسیاسی طورپرتباہ حال جرمنی کوایک فاتح قوم بناناچاہتاتھا۔
ہٹلراپنی نازی پارٹی کے ذریعے سے بتدریج جرمن قوم کے قریب ہوتاگیا۔اوربالآخر1933میں وہ جرمنی کاچانسلربن گیا۔جرمن صدروان ہنڈن برگ (Von Hindenburg)کے انتقال کے بعد ہٹلر جرمنی کاسپریم لیڈربنااورتمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔آہستہ آہستہ اس نے تمام بین الاقوامی معاہدے کالعدم کردئیے اوریورپ پرحملہ آورہوا۔جنگ کے ابتدائی مرحلے میں جرمن افواج کوبرتری حاصل تھی۔ برطانیہ کے سوایورپ کے تمام بڑے ملکوں پرجرمنی کاقبضہ ہوگیا۔لیکن کئی محاذِ جنگ کھول دینے کے سبب جرمنی سیاسی اوراقتصادی میدان میں سنبھل نہ سکااورشکست کے دہانے پرپہنچ گیا۔شکست یقینی دیکھ کر ہٹلر نے 30 اپریل 1945کوخودکشی کرلی۔
ہٹلرنے لاکھوں انسانوں کوزندگی سے محروم کیا۔لاتعدادبچوں کے سرسے باپ کاسایہ چھینا،بے شمارعورتوں کوان کے شوہروں سے جداکردیا۔لہٰذادنیاکے اجتماعی ضمیرنے ہٹلرکوایک فاشسٹ اورجنونی قاتل قراردیا۔ہٹلر کی نفسیات پرلاتعدادکتابیں لکھی جاچکی ہیں۔آج کوئی شخص کہہ سکتاہیکہ ہٹلرنے اپنے باپ کے تشددکاانتقام دنیاسے لیایابچپن کی یتیمی نے اسے دنیاکومحرومیوں میں مبتلاکرنے پرمجبورکردیایانوعمری کے غلط نظریات نے اس سے یہودیوں کاقتل عام کرایایاجرمنی کے اقتصادی بائیکاٹ نے اسے انتہائی اقدام پر اکسایا۔ اس پس منظرکوبنیادبناکرکوئی وکیل عالمی عدالت میں ہٹلرکے لیے رحم کی اپیل کرے توعدالت اس اپیل پر غور تو در کنار شایدوکیل ہی کوسزا دے ڈالے ۔ہٹلرکی یتیمی،محرومی اورفاقہ کشی اس کے جرائم کاعذر نہیں ہوسکتی۔
اس کائنات کے خالق کی عدالت بھی ایک روزلگنے والی ہے۔اس دن غربت کا بہانہ کرکے ڈاکے ڈالنے والا بھی لایا جائے گا،جنسی محرومیوں کوبنیادبناکرعزتیں لوٹنے والابھی موجودہوگا،کمیونزم کے زیر اثر خدا کا منکربھی حاضرہوگا،دوسروں کو کافر قرار دے کرجان لینے والاخودکش حملہ آوربھی ہوگا اور لاکھوں انسانوں کاقاتل ہٹلربھی ہوگا۔یہ سب لوگ اپنی جھوٹی معذوریوں اوربہانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور دوسری طرف علیم و خبیر خدا موجود ہے۔خداکی ایک غضب ناک نگاہ ان سب بہانوں کوہواکردے گی۔ اب یہ سب رحم کی اپیل کریں گے۔لیکن خداکی رحمت کاتقاضاہوگاکہ انہیں ان کے جرائم کی پاداش میں پوراپورابدلہ دیاجائے۔
کتنے ظالم ہیں وہ لوگ جوہٹلرکواس کی معذوریوں کے سبب معاف کرنے پرتیارنہیں۔لیکن اپنے جرائم کے لیے اسی طرح کے کمزوربہانے تراش رہے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ وہ معاف کردیے جائیں گے۔

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s