خدا پرستی کے دنیاوی نتائج(پروفیسر محمد عقیل)

ہمارے روایتی پس منظر میں جب بھی ایک مذہبی اور خدا پرست انسان کا تصور کیا جاتا ہے تو ذہن میں بالعموم ایک ایسا شخص آتا ہے جس پر دنیا کے دروازے بند کردیے گئے ہوں، جو معاشی مصیبتوں میں گھرا ہو، دنیاوی لذتوں سے دور ہو اور اس کے چہرے سے ہر وقت مسکینی اور بے بسی ٹپکتی رہتی ہو۔ اس تصور کو بنانے میں بنیادی کردار تصوف کے لٹریچر کا ہے۔ دوسری وجہ ہمارا مذہبی حلقہ ہے جو خدا پرستی کے اخروی نتائج پر تو روشنی ڈالتا ہے مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دنیوی حیات طیبہ کو یکسر نظرانداز کردیتا ہے۔
دوسری جانب جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس کے برعکس تصویر سامنے آتی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردینے کے نتائج گو اپنی حقیقی شکل میں آخرت ہی میں نظر آئیں گے لیکن اسکا پرتو (عکس) دنیا کی زندگی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس ضمن میں سورۂ حٰم السجدہ کی آیات واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ: ’’جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس (قول) پر ثابت قدم رہے اُن پر آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں (یہ کہتے ہوئے) کہ نہ کوئی اندیشہ کرو، نہ غم اور اُس جنت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی رہے اور آخرت میں بھی (ساتھی ہوں گے)‘‘۔ (30-31:41)۔
اس آیت میں واضح طور پر یہ بیان ہوا ہے کہ اس دنیا میں بھی اللہ کے نازل کردہ فرشتے اہلِ ایمان کے دوست ہوتے ہیں جو ان پر سکینت نازل کرتے، ان کے حق میں دعا کرتے اور مصیبتوں میں اللہ کے اذن سے ان کی مدد کرتے ہیں۔ اسی طرح سورۂ النحل میں ارشاد ہوتا ہے: ’’ جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان پر ہے تو اس کو ہم پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے‘‘ (97:16)۔ مولانا امین احسن اصلاحی فرماتے ہیں کہ یہ پاکیزہ زندگی دین اور دنیا دونوں اعتبار سے ہے (مختصر تفسیر، صفحہ436)۔
اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والوں کے رزق میں کشادگی کی ضمانت کچھ اس طرح سورۂ طلاق میں بیان ہوئی ہے: ’’اور جو کوئی بھی اللہ سے ڈرے گا تو اللہ اس کے لیے راہ نکالے گا اور اسے اُس جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ گذرا ہوگا‘‘۔ ( 2-3:65)
ایسے ہی مال و دولت اور ظاہری اسباب سے سکون حاصل کرنے والوں کو قرآن بتاتا ہے کہ ’’آگاہ ہوجاؤ، سکون تو اللہ کی یاد سے ہی ملتا ہے‘‘۔ (28:13)۔ یعنی اللہ کی یاد کا ایک اور نتیجہ سکون کا حصول ہے اور یہ سکون و طمانیت اپنی نوعیت اور تاثیر کے اعتبار سے مادیت سے حاصل کردہ تسکین سے بہت اعلیٰ اور دیر پا ہوتے ہیں۔
خدا پرستی کا ایک اور نتیجہ فحش افعال اور منکرات سے بچاؤ اور پاکیزہ زندگی کی نوید ہے۔ ’’بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے‘‘(45:29)۔
خدا ہم سے غافل نہیں، وہ ہماری ہر حرکت پر نظر رکھتا ہے۔ وہ نا قدردان بھی نہیں، وہ اپنے آگے سرِ تسلیم خم کردینے والوں کو اس دنیا میں بھی فراموش نہیں کرتا۔ جس طرح ایک بادشاہ اپنے وفادار اور فرماں بردار غلاموں کے ساتھ انتہائی نرمی، شفقت اور محبت کا برتاؤ کرتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے وفاداروں اور فرماں برداروں کے ساتھ بے حد نرمی اور شفقت کا معاملہ کرتے ہیں خواہ وہ دنیا کی زندگی ہو یا آخرت کی۔ البتہ یہ پیش نظر رہنا چاہیے کہ دنیوی زندگی میں امتحانی حکمت کے تحت ایک بندۂ مومن کو مشکلات در پیش آسکتی ہیں لیکن ان مشکلات میں ثابت قدمی کا نتیجہ خدا کی براہِ راست یا بالواسطہ مددکی صورت ہی میں نکلتا ہے۔
مختصراََ یہ کہ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو فرشتوں کی ہمرکابی عطا فرماتا، انکی مصیبتوں پر سکینت نازل کرتا، رزق کی کشادگی کا مژدہ سناتا، فحش و منکرات سے بچاتا اور انہیں ایک پاکیزہ زندگی کی نوید سناتا ہے۔ خدا کی بندگی ایک طویل مدتی انویسٹمنٹ بھی ہے اور ایک قلیل مدتی منافع بھی۔ لہٰذا اپنا آپ مکمل طور پر خدا کے حوالے کردیجئے تاکہ آپ دنیا و آخرت میں کامیابی کے مستحق ٹہر سکیں۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s