زندہ خدا(پروفیسر محمد عقیل)

نٹشے ایک مشہور جرمن فلسفی گزرا ہے۔ وہ سائنس کی ادھوری دریافتوں کے جال میں آگیا اور خدا کا انکار کر بیٹھا۔ چنانچہ اس کا مشہور جملہ ہے کہ خدا مرچکا ہے۔ بعد ازاں جب آئن سٹائن نے نیوٹنی فزکس کی غلطی واضح کی تو علم ہوا کہ نٹشے اور اس کے ہم عصروں کا دعوی غلط تھا مگر اس وقت تک نٹشے مرچکا تھا۔
انسان بڑا بدنصیب ہے۔ جس ہستی نے اسے زندگی بخشی اور سارے ضروری اسباب و وسائل اور انتظامات مہیا کرکے برابر اس کو قائم رکھے ہوئے ہے، انسان اُسے ہی مردہ قرار دینے پر تلا ہوا ہے۔ ماضی بعید میں فرعون اور نمرود نے خدائی کا دعوی کیا تو کبھی لوگوں نے لات و منات اور ہبل کے ذریعے سے معبودِ حقیقی کو معطل کرنے کی کوشش کی۔ جب خدا نے اپنے پیغمبروں کے توسط سے ان کی اصلاح فرمائی تو کچھ عرصے بعد پھر سے انہی بزرگ ہستیوں کو اس کا بیٹا قرار دے دیا گیا۔ دورِ جدید میں جب خدا نے سائنس کے انکشافات کی شکل میں انسانی تہذیب کو قابل رشک ارتقا بخشا تو وہ اس ارتقا پذیر علم کیزعم میں خدا ہی کا انکار کربیٹھا۔ پھر جب خدا نے سائنس کی محدودیتوں کو روشناس کرایا تو اس انسان نے نظری طور پر تو خدا کو مان لیا لیکن عملی طور پر وہ مادیت پر ایمان لے آیا اور خدا کو اپنی زندگی سے غیر متعلق کرکے ایک رسمی عقیدے کا مقام دے دیا۔
یہ انسان کی مختصر سی داستان ہے جو گواہ ہے کہ بنی نوعِ انسان کی ایک واضح اکثریت نے خدا کو معطل کرنے یا معدوم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب لوگ کسی افریقی جنگل کے باسی ہی نہ تھے بلکہ ان میں متمدن دنیا کے شہری بھی شامل تھے اور یہ سب خدا اور اس کے پیغمبروں سے براہ راست یا با الواسطہ آگاہ تھے۔
اس ہزاروں سال پر پھیلی طویل ضلالتوں کے باوجود یہ باغی گروہ خد اکو انسانی ذہن اور زندگی سے خارج نہ کرسکا، خدا انسانی اذہان اور زندگیوں میں آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا، وہ آج بھی قائم و دائم ہے اور ہمیشہ قائم و دائم رہے گا( سورۂ بقرہ 255:2)۔
آج جتنے بھی لوگ زندہ ہیں سب مر جائیں گے مگر خداوند کی ذات ہی باقی رہے گی، آج جو لوگ اس کے تصور کو معطل کرنے میں مصروفِ عمل ہیں کل خود معطل ہو جائیں گے اور اپنے سر کی آنکھوں سے خدا کی طاقت و کارفرمائی کا مشاہدہ کر لیں گے۔ آج جو اسے فراموش اور نظر انداز کر رہے ہیں کل خود نظر انداز ہو جائیں گے، آج کے فرعون کل ذلیل ہوں گے، آج کے مادہ پرست کل جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ یہ واقعہ ہے کہ آج لوگوں نے خدا کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ اس کی قدردانی کرنے کا حق تھا اور یہ بھی واقعہ ہے کہ کل زمین و آسمان اس کی مٹھی میں ہوں گے اور خدا اپنے سارے جلال و اقتدار کے ساتھ پوچھے گا کہ کوئی ہے جو میرے سامنے کھڑا ہو؟ مگر دنیا کے وہ سب لوگ جو خدا کی بے قدری میں مشغول تھے خاموش رہیں گے کیونکہ وہ جان جائیں گے کہ آج کے دن بادشاہی صرف اسی ذات کی ہے جس کا وہ دنیا کی زندگی میں انکار کرتے رہے ہیں۔ایسے سارے لوگوں کے لیے اس دن صرف اور صرف تباہی ہوگی، بربادی ہوگی، ذلت ہوگی، حسرت ہوگی، ندامت ہوگی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی گرفت میں جکڑ لینے والا سخت و شدید عذاب۔
ابھی وقت ہے۔ خدا کو مان کر سر تسلیم خم کردیجئے اور اپنی زندگی کو پوری طرح اس کی بندگی میں سپرد کردیجیے۔ اس سے قبل کہ آپ خود جھکنا چاہیں یا آپ کو زبردستی جھکادیا جائے، مگر اس وقت کا جھکنا آپ کے کچھ کام نہ آئے۔

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s