شریعت و طریقت (پروفیسر محمد عقیل)

اسلامی تاریخ کی ابتدائی صدیوں میں مسلمانوں میں دو واضح مکاتب فکر وجود میں آئے۔ ایک اہل ظاہر کا، جو اہل شریعت کہلائے اور دوسرا اہل باطن کا جو اہل طریقت کے نام سے مشہور ہوئے۔ دونوں ہی سلسلوں میں بڑے بڑے لوگ اور ائمہ وجود میں آئے۔ پہلے گروہ کے اہل علم فقہاء کے لقب سے معروف ہوئے جبکہ دوسرے اسکول کے شیوخ صوفیاء کے عنوان سے منظر عام پر نمایاں ہوئے۔ ان دونوں گروہوں میں اختلافات بتدریج اتنے زیادہ گہرے ہوتے چلے گئے کہ ایک دوسرے پر گمراہی کے فتوے اور الزامات لگانے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کی سیرتوں کے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شروع میں اس قسم کی کوئی تفریق اور دوئی موجود نہیں تھی۔ بعد میں جب اسلام پھیل گیا اور اسلامی ریاست کے حدودِ حکمرانی بہت وسعت اختیار کرگئے تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو ابھی ناپختہ اور غیر تربیت یافتہ تھے اور ایسے بھی تھے جو اپنے مفادات کی بنا پر مسلمانوں میں شامل ہوئے تھے۔ اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مخلص مسلمانوں کی اگلی نسلوں میں بھی دینی روح کم ہونا شروع ہوگئی۔ چنانچہ ایسے لوگوں نے اسلامی تعلیمات کے معاملے میں حیلے بہانوں سے کام لینا شروع کردیا۔ ان کے عمل میں کوتاہی آتی چلی گئی اور دین سے دوری عام ہوگئی ۔
اسی نوعیت کے دوسرے امور و معاملات نے دین کے معاملے میں حساس لوگوں کے اندر ردعمل پیدا کیا اور ہوتے ہوتے ایک طبقہ ایسا وجود میں آگیا جو اہل باطن کہلایا۔ شروع شروع میں ان کی کاوش بہت سادہ اور سنجیدہ تھی اور ان کا مقصد بس یہ تھا کہ دین پر اس کی اصل اسپرٹ اور روح کے ساتھ عمل کیا جائے۔ یہ لوگ زہد و عبادت اور تقویٰ و ورع ہی کو انسان کی اصل متاع سمجھتے تھے۔ لیکن بعد میں ان کے درمیان عجمی تصوف کے نظریات در آنے لگے اور ان نئے نظریات کی آمیزش سے اس طبقے میں نئے نئے خیالات و تصورات اور اجنبی قسم کے اعتقادات کو فروغ ملنے لگا۔
اگر ہم اہل باطن کی ابتدائی دور کی تعلیمات اور کاوشوں کا جائزہ لیں تو بات بہت سادہ نظر آتی ہے۔ کہ اسلام کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔ ظاہر سے مراد عبادات اور دینی اعمال ہیں۔ جبکہ باطن سے مراد ہے اخلاص اور نیک نیتی۔ ان دونوں ہی مطالبات کی اہمیت سے کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر ظاہری اعمال محض دکھاوے، حیلہ تراشی اور چھوٹ حاصل کرنے کے لیے ہوں، تو وہ خدا کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوتے۔ اسی طرح اگر اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ ظاہری اعمال سے روگردانی پائی جائے تو وہ بھی اسلام کی روح اور تعلیمات کے خلاف ہوگی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ان دونوں ہی مطالبات کا منتہاے کمال تھی۔ آپ نے ایک طرف ظاہری اعمال جیسے نماز، روزہ اور انصاف و دیانت کی تعلیم دی تو ساتھ ہی دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، توکل و تفویض، نفس کشی اور فکر آخرت کی بھی تعلیم و ترغیب دی۔
ایک انسانی شخصیت محض ظاہری خد و خال، اعضاء و جوارح اور چہرے مہرے ہی کا نام نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ قلبی کیفیات، میلانات، رجحانات اور جذبات و احساسات کو بھی شامل ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک مسلمان بھی صحیح معنوں میں کاملیت کی جانب پیش قدمی کرتا ہے تاکہ اس کا ظاہر و باطن دونوں اسلام کی تعلیمات کے رنگ میں رنگ جائیں۔ اس کے اندر جہاں ظاہری معاملات میں دین کی پابندی و پیروی پائی جائے وہیں خدا کے لیے خلوص و محبت اور ایثار و جاں نثاری کا ولولہ بھی موجود ہو۔
مجرد ظاہریت یہودیت کا نام ہے اور مجرد باطنیت مسیحی رہبانیت کا۔ ایک مسلمان نہ تو یہودیت کا پیروکار ہوتا ہے اور نہ ہی رہبانیت کا۔ وہ تو خدا کے آخری اور کامل دین کو ماننے والا ہوتا ہے جسے رہتی دنیا تک کے لیے رب کائنات نے پسند کرلیا اور اپنا دین قرار دیا ہے۔ یہ دین ظاہر و باطن دونوں کا ایک جامع اور حسین و متوازن امتزاج ہے۔ اور ایک مسلمان سے اس کا یہی مطالبہ ہے کہ وہ پورے باطنی خلوص و جذبے اور نیک نیتی کے ساتھ اسلام کی تمام تعلیمات پر کاربند و عمل پیرا ہو۔

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s