فنا فی اللہ اور فنا للہ (پروفیسر محمد عقیل)

تصوف کی ایک بہت مشہور و معروف اصطلاح ’فنا فی اللہ‘ ہے۔ اس کی تشریح انتہائی پیچیدہ اور پرخطر ہے۔ ’فنا فی اللہ‘ کی وضاحت کے لیے مختلف نظریے وجود میں آئے، جن میں ’وحدت الوجود‘ اور ’وحدت الشہود‘ سرِ فہرست ہیں۔
اگر فنا فی اللہ کو سادہ طریقے سے بیان کیا جائے تو یہ ذاتِ حق (اللہ تعالیٰ) کے مشاہدے میں خود کو فنا کردینے کا عمل ہے یہاں تک کہ اپنی ’خودی‘ (ذات یا نفس) فنا ہوجائے اور ہمیشہ باقی رہنے والی صرف اور صرف خدا کی ذات ہی باقی رہ جائے۔
قرآن کریم کو اگر بدقت نظر دیکھا جائے تو وہ اس ’فنا فی اللہ‘ کے تصور سے خالی نظر آتا ہے، البتہ وہ ’فنا للہ‘ کی تعلیم دیتا ہے۔ جس کا مطلب ہے خدا کے لیے اپنی خواہشات، جذبات، شہوات، رجحانات، تعصبات اور مفادات سب کچھ قربان کردینا۔
قرآن کے مطابق اسلام کے لفظی معنی اطاعت اور سپردگی کے ہیں۔ جب کہ عبادت کا مفہوم خدا کے سامنے انتہائی عاجزی، تذلل اور پستی اختیار کرنا ہے۔ اور ان دونوں مفاہیم کا خلاصہ ہے ’فنا للہ‘۔
فنا للہ، فنا فی اللہ کے برعکس کوئی مافوق الفطرت فلسفہ نہیں بلکہ عقل و فطرت پر مبنی ایک انتہائی سادہ اور مربوط نظریہ ہے۔ انسان جب زبان سے خدا کی توحید کا اقرار کرلیتا اور خود کو اس کے سپرد کردیتا ہے تو اگلے ہی لمحے اس کے مشاہدات اور تجربات اسے بتادیتے ہیں کہ اس کا معاملہ ایک انتہائی طاقتور ہستی کے ساتھ ہے۔ لہٰذا وہ اپنے اندر سے سرکشی کی خواہش کو فنا کردیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ خدا ہی تمام خزانوں کا مالک ہے تو وہ اپنا مال خدا کے قدموں میں ڈال دیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہی خداوند تنہا کارخانۂ قدرت چلارہا ہے تو وہ بے اختیار سجدے میں گر کر اپنے فخر و تکبر کا استیصال کردیتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا اس کے گناہوں پر سزا دینے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے تو وہ اپنیاندر سے گناہوں کی خواہش کو کچل ڈالتا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں کی خواہش کو خدا کی ہدایت کے تابع کرتا ہے، اپنے کانوں کی سماعت کو اس کے احکام کے تحت لاتا ہے، اپنی زبان کی گویائی کو اس کے منشا کے مطابق بناتا ہے، اپنے دماغ کے خیالات اور دل کی سوچ کو اس کی اطاعت کے تحت لاتا اور اپنی زندگی کی ہر ہر ساعت ربِ کائنات کے اشارے اور پسند پر گزارتا ہے۔
فنا للہ کا یہ عمل محدود نہیں۔ کیونکہ یہ خدا کے لیے ہے، اس لیے لامحدود ہے۔ انسان اپنی خواہشات کو فنا کرتے کرتے ارتقا کے منازل طے کرتا رہتا ہے، وہ مسلم سے مؤمن اور مؤمن سے صدیق و شہید کے درجات حاصل کرتا چلاجاتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے خدا کے مقربین کا درجہ مل جاتا ہے۔ لیکن تب بھی وہ خود کو خدا کا غلام ابن غلام ہی سمجھتا ہے۔
’فنا فی اللہ‘ کے مدارج غیر حقیقی ہیں جب کہ ’فنا للہ‘ کے مدارج حقیقی۔ ’فنا للہ‘ کا تصور انسان میں تواضع، فروتنی، اطاعت، للٰھیت، صبر، استقامت، توکل ، تسلیم و رضا اور ہمیشہ خدا کی رضا کے حصول کے لیے کوشاں رہنا جیسی عمدہ صفات پیدا کرتا ہے جب کہ ’فنا فی اللہ‘ کا نظریہ انسان کا منتہائے مقصود اس کو قرار دیتا ہے کہ وہ قطرے کے سمندر میں مل جانے کی طرح خدا کی ذات میں ضم اور فنا ہوجائے۔ اس تصور سے انسان کے اندر اپنی بڑائی اور بلندی کا فخر و غرور اور خود پسندی تو پیدا ہوسکتی ہے، عاجزی اور خاکساری نہیں۔
فنا للہ ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت کی تعلیم قرآن و سنت میں بہت تفصیل سے موجود ہے۔ اور اگر کسی کو فنا للہ کا نمونہ دیکھنا ہو تو وہ پیغمبر عربی کی سیرت کا مطالعہ کرے۔ یہ مطالعہ بتادے گا کہ کیسے نبی برحق نے اپنی پوری زندگی خدا کی اطاعت و فرماں برداری کی، ہمیشہ عجز و انکساری کا اظہار کیا، صبر کیا، ثابت قدم رہے، ہمیشہ خدا پر توکل اور بھروسہ کیا، ہر مشکل میں اُسی کی پناہ اور امان ڈھونڈی۔ اپنی خواہشات کو خدا کی منشا کے تابع رکھا اور خدا کی سچی بندگی کیا ہوتی ہے، پوری زندگی اس کا بہترین نمونہ بنے رہے۔

2 responses to this post.

  1. Great!very relevant!jazakkalll;ah

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s