من کی دنیا، تن کی دنیا.پروفیسر محمد عقیل

انسان دو عالموں میں رہتا ہے۔ ایک انفس یعنی اس کا اپنا نفس اور دوسرا آفاق یعنی عالم ہویدا (ظاہری دنیا)۔ انسان کا نفس بھی دو حصوں میں منقسم ہے۔ یعنی من کی دنیا اور تن کی دنیا۔ تن کی دنیا میں لذتِ کام و دہن ہے، زبان کا تکلم ہے، نغمگی کی سماعت ہے، نظاروں کی رونق ہے، اعضا کا لمس ہے، لباس کی سجاوٹ ہے، چہرے کی بشاشت ہے اور لبوں کی مسکراہٹ ہے۔
من کی دنیا اسے کے برعکس مگر کامل تر ہے۔ یہاں روح کی لذت ہے، دھیرے سروں کی خاموشی ہے، قطرۂ آنسو کی جھلملاہٹ ہے، شگفتگی کا احساس ہے اور آسودگی کی مسکراہٹ ہے۔
تن کی دنیا سے وہی محظوظ ہوسکتا ہے جو تن کے تقاضے اور مطالبات پورے کرنے کے وسائل بہم پہنچائے جبکہ من کی دنیا کے راز بھی وہی جان سکتا ہے جو اس دنیا تک رسائی حاصل کرلے۔
من کی دنیا خالی ہے سود و سودا اور مکر و فن سے جبکہ تن کی دنیا عاری ہے سوز و مستی اور جذب و شوق سے۔ تن کی دنیا مادیت سے قریب تر ہے جبکہ من کی دنیا مادہ پسندی سے وحشت و بیزاری محسوس کرتی ہے۔ تن کی دنیا اسباب کے بتوں کے آگے سرنگوں ہوجاتی ہے لیکن من کی دنیا اسباب سے ماورا ہستی ہی کیطرف متوجہ رہتی اور اسی سے لو لگاتی ہے۔ تن کی پیاس بجھتی ہے حواس خمسہ کے تقاضوں کی تسکین سے جبکہ من کی پیاس بجھتی ہے حواس سے ماورا تقاضوں کی تشفی سے۔ تن کی دنیا انتہائی محدود ہے جبکہ من کی دنیا لامحدود۔ تن کی دنیا کا منتہا پستی ہے جبکہ من کی دنیا کی معراج فلک بوسی۔
خدا نے جب ابلیس کو سجدے کا حکم دیا تو اس نے اپنے من کو ٹٹولا، اس کے من نے کہا جھک جا تو بلندی میں پرواز کرے گا۔ مگر تن نے کہا کہ نہ جھک کہ تو پست اور ذلیل ہوجائے گا۔ پس ابلیس نے تن کی دنیا میں اپنا مستقر بنالیا اور شیطان بن گیا۔
دوسری جانب آدم علیہ السلام کا معاملہ یہ ہوا کہ جب انہوں نے شجرِ ممنوعہ کا پھل کھالیا تو من نے گوارا نہ کیا اور آدم نے اپنے تن کو ربِ کائنات کے سامنے گرادیا، چنانچہ خدا نے انہیں افلاک کی چوٹیوں پر فائز کردیا۔
یہی معرکہ ہزاروں مرتبہ دہرایا گیا؛ نمرود و ابراہیم، فرعون و موسیٰ اور اب جہل و محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ ان میں سے ہر پہلے شخص نے تن کی پکار پر لبیک کہا اور شیطان کے قافلے میں شامل ہوا، جبکہ ہر دوسری شخصیت نے من کی بات کو سنا اور اس پر عمل کیا۔ وہ آدم علیہ السلام کی صف میں شامل ہوگئے۔ کسی نے ابلیس کا قول دہرایا کہ انا خیر منہ (میں اس (آدم) سے بہتر ہوں)، اور کچھ نے قالوا بلیٰ (ہاں کیوں نہیں! آپ ہی ہمارے رب ہیں) کہہ کر عہدِ الست کی یاد تازہ کی۔ ہزاروں سال کی تاریخ گواہ ہے کہ تن کے تقاضوں پر من کی پکار قربان کرنے والا گروہ آج مردود ہے، ناکام ہے، نامراد ہے اور آج کوئی بھی ان کا نام لیوا نہیں، کوئی ان سے منسوب ہونا پسند تک نہیں کرتا جبکہ عہدِ الست کی یاد تازہ کرنے والے آج پیغمبر ہیں، صدیقین ہیں، شہدا ہیں، صالحین ہیں اور لوگ آج بھی ان کا نام سن کر ادب و احترام کے جذبات کا نذرانہ پیش کرتے اور ان کی نسبت پر فخر کرتے ہیں۔
ہزاروں سال اور بیت جائیں اور مزید کتنی ہی صدیاں اور گزر جائیں، مگر تن کی دنیا کے باسی من کی دنیا میں رہنے والوں کو شکست نہیں دے سکتے، خواہ تن کی دنیا والے کتنے ہی کثیر التعداد اور من کی بستی والے کتنے ہی قلیل التعداد ہوں:
من کی دنیا من کی دنیا، سوز و مستی جذب و شوق
تن کی دنیا تن کی دنیا، سود و سودا مکر و فن
من کی دنیا میں نہیں دیکھا ہے افرنگی کا راج
من کی دنیا میں نہیں دکھتے ہیں شیخ و برہمن
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من

One response to this post.

  1. یہ وقت من اور تن میں الجھنے کا نہیں۔ غلامی سر پر کھڑی ہے۔ ہلاکو خان کے زمانے میں بھی مسلمان مذہبی مسائل پر مناظرے کر رہے تھے۔ باہر بغداد جل رہا تھا۔
    info_21@corruption21.com

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s