اپنا احتساب کیجئے (از پروفیسر محمد عقیل)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ ( الذاریات56:51 )اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے ( النحل 36:16 )۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے ( الملک 2:67 ) لیکن اس نے انسان کو اس آزمائشی میدان میں تنہا نہیں چھوڑا بلکہ وقتاً فوقتاً اپنے پیغمبر بھیجے تاکہ وہ ان ہدایت کے متلاشی نفوس کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیں اور انھیں آلودگی سے پاک کریں ( الجمعہ2:62 ) اس پاکی کا نتیجہ آخرت کی فلاح اور آلودگی کا انجام آخرت کی نا کامی ہے (الشمس 109:91)۔ چنا نچہ نفس کو پاک کرنے کا طریقہ کار انسانوں کے اجتہاد، قیاس اور خواہشات پر نہیں چھوڑا بلکہ وحی کے ذریعے انسانیت کو بتا دیا کہ خدائی رضا کا حصول محض ا سلام کو دین کی حیثیت سے ماننا اور اس پر عمل کرنا ہے ( آل عمران 85:3 ) اسی طرح دین کو چند مخصوص عقائد، فلسفوں اور نظریاتی مباحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس پر عمل کرنے کے لیے ایک واضح شریعت عطا کی ( الجاثیہ 95:45 ) ۔اس شریعت میں انسانی زندگی سے متعلق ہر پہلو کی جز ئیات تک بیان کر دیں تاکہ تمام انسانوں پر اتمامِ حجت ہو جائے اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں خبر نہ تھی ( الملک 11-9:97 )۔خدا کی شریعت قرآن کے اوراق اور پیغمبر ﷺ کے افعال و اقوال میں موتیوں کی طرح بکھری ہوئی ہے۔ اس کے ہر موتی پر خدا کی رضا کی مہر ثبت ہے ۔ اگر کسی نے خدا کو راضی کرنا ہے تو اسے رہتی دنیا تک انہی تعلیمات کی روشنی میں عمل کرنا ہے اور اپنی ذہنی اختراع، فلسفہ، رجحان، خواہش اور میلان کو قرآن و سنت کی بیان کردہ حدود کے تابع رکھنا ہے۔(آل عمران 85:3 )
اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ یہ احکامات قرآن کی مختلف سورتوں میں اور پیغمبر کی احادیث میں بالکل واضح طور پر موجود ہیں ۔ ان ہد ایات کا تعلق ایمان ، عبادت، اخلاق، معاشرت، معیشت ، خوردو نوش اور زندگی کے دیگر پہلوؤں سے ہے۔ چونکہ ایک فرد کو زندگی کے ان تمام ہی شعبوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ لہٰذا اسے ان اصول و ضوابط کو جاننا اور ماننا انتہائی ضروری ہے۔ خداکی بندگی کے یہ اصول کسی ایک مقام یا ایک أیت یا حدیث میں موجود نہیں بلکہ یہ ہدایات قرأن اور نبی کریمﷺکی سنت میں مختلف پیرأئے میں موجود ہیں۔ اسی لئے ایک عام فرداکثر فراموش کر بیٹھتا ہے کہ دین نے اس سے کیا تقاضے کئے ہیں۔چنانچہ وہ لا علمی میں صراط مستقیم سے روگردانی کر بیٹھتا ہے۔
اس تحریر کا بنیادی مقصد ایک ایسی فہرست مرتب کرنا ہے جس میں تمام مطلوب و غیرمطلوب عقائد ، اور اچھے اور برے اعمال بیان کر دئیے جائیں جو قرآن اور سنت میں بیان ہوئے ہیں۔ تاکہ کوئی بھی شخص ایک نظر میں یہ جان لے کہ اس کا خالق کس چیز کا حکم دیتا اور کس سے منع فرماتا ہے۔ اس میں جو امور بیان ہوئے ہیں وہ بہت حد تک ایک فرد کی زندگی سے متعلق ان تقریباََ تمام عقائد و اعمال کا احاطہ کرتے ہیں جو دین اسلام میں مطلوب یا ممنوع ہیں۔آپ سے گذارش یہ یے کہ ان احکامات کی روشنی میں اپنے شب و روز کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کہاں کوتاہی ہو رہی ہے۔پھر ان نشان زدہ کمزوریون کو دور کرنے کے لئے لائحہء عمل تیا کریں۔ اس سلسلے میں تزکیہء نفس پروگرام سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔

لازمی حصہ ۔ ایمانیات

۱ توحیدپر ایمان ۲ رسالت پر ایمان ۳ آ خرت پر ایمان ۴ پیغمبر و ں، فر شتو ں اور کتا بو ں پر ا ٰیما ن
حصہ 146 الف 145 ۔ عبا د ا ت
۱ نما ز قائم کرنا(البقرہ 3:2 ، البقرہ 177:2 ، النساء 103:4 ،لقمان 31 : 17 ، المعارج23:70 )
۲ ز کو ٰۃ ادا کرنا(البقرہ 2:2 ، البقرہ 177:2 ، حم السجدہ 7-6:41 ، المزمل 20:73 ،المعارج 24:70 )
۳ ر و ز ہ رکھنا (الاحزاب 35:33 ،البقرہ 183:2 ) ۴۔ حج کرنا(الحج 27:22 )
۵ جمعہ اور عید ین کی نمازیں ادا کرنا(الجمعہ 9:62 ، بخاری رقم 35:1 ، ابوداؤد، رقم 1134 )
۶ عید ا لا ضحیٰ کی قربا نی کرنا(الحج 34:22 ) (کچھ مسالک کے نزدیک یہ قربانی نفل ہے)
حصہ 146 ب 145 ۔ اخلاقیات
۷ انسان کے ناحق قتل سے گریز(الانعام152:6 ، بنی اسرائیل33:17 )
۸ اولاد کے قتل سے گریز(الانعام152:6 ، بنی اسرائیل31:17 )
۹ شرک کی تمام اقسام سے گریز(النساء 48 &116:4 )
۱۰ خدا کے نام پر جھو ٹی بات منسوب کرنے سے گریز(الاعراف 3:7 )
۱۱ زنا سے گریز(الاحزاب 35:33 ، المعارج 29:70 ، المؤمنون5-7:23 )
۱۲ فحش نگاری سے گر یز (الانعام 152:6 ، الاعراف 33:7 ، النحل90:16 ، الشوری37:42 )
۱۳ اعضا کے زنا سے گر یز(الانعام 152:6 ، بنی اسرائیل 32:17 ،بخاری رقم 6243 ، مسلم رقم 6754 )
۱۴ صنف مخا لف کے تصور سے گریز(الانعام 151:6 )
۱۵ نامحرم کو دیکھنے سے گریز(الانعام 151:6 )
۱۶ والدین سے حسن سلوک(الانعام 151:6 ، بنی اسرائیل 23:17 )
۱۷ والدین کی فلاح کے لیے دعا(بنی اسرائیل 24:17 )
۱۸ والدین پر انفاق(ابو داؤد رقم 3530 ،البقرہ 215:2 )
۱۹ رشتے داروں سے اچھے تعلقات کا قیام(النساء 1:4 ، النحل90:16 ، بنی اسرائیل26:17 )
۲۰ رحمی رشتوں سے قطع تعلق سے گریز(البقرہ 27:2 ، بخاری رقم 5987، مسلم رقم 6518)
۲۱ یتیم و مسکین کی دیکھ بھال(بنی اسرائیل26:17 )
۲۲ یتیم و مسکین کے مال میں خیانت سے گریز(الانعام 153:6 ، بنی اسرائیل34:17 )
۲۳ اللہ سے عہد کی پاسداری( الانعام152:6 ، بنی اسرائیل 34:17 لنحل91:16)
۲۴ لوگوں سے عہد کی پا سداری( البقرہ 177:2 ، بنی اسرائیل34:17 ، المعارج 32:70 المؤمنون8:23)
۲۵ لوگوں کی جا ن و مال کی حر مت(بخاری رقم67 )
۲۶ چوری سے گریز(المائدہ 38:5 )
۲۷ جادو سے گریز(البقرہ102:2 ، بخاری کتاب الطب)
۲۸ علم نجوم سے گریز(المائدہ 90:5 )
۲۹ نحوست اور بد شگونی سے گریز(بخاری رقم 846 ، مسلم رقم231 )
۳۰ دوستوں، ماتحتوں اور پڑوسیوں سے اچھا سلوک( النساء 36:4 )
۳۱ مستحقین کو صدقہ و خیرات دینا(البقرہ 177:2 ، آل عمران 134:3 ، الاحزاب35:33 )
۳۲ ما نگنے والوں سے نر می سے معذرت( بنی اسرائیل28:17 )
۳۳ کام چوری سے گریز(الانعام 152:6 ،بنی اسرائیل34:17 )
۳۴ امانت داری(المعارج 32:70 ، المؤمنون8:23)
۳۵ گواہی دینا اور قائم رہنا(المعارج 33:70 )
۳۶ جھوٹی گواہی سے گریز(الفرقان72:25 )
۳۷ خبر بلا تحقیق آگے پھیلانے سے گریز(الحجرات 6:49 )
۳۸ بد گمانی سے گریز( الحجرات 12:49 )
۳۹ تجسس سے گریز(بنی اسرائیل 36:17 ، الحجرات 12:49 )
۴۰ غیبت سے گریز(الحجرات 12:49)
۴۱ چغلی سے گریز( الھمزہ 1:104 )
۴۲ بہتان سے گریز(النور 4:24 )
۴۳ حسد سے گریز(بخاری ، مسلم ، سورۃ الفلق5:113 )
۴۴ تکبر سے گریز(النساء36:4 ، بنی اسرائیل 37:17 ، لقمٰن 18:31 )
۴۵ حق بات کی مخالفت سے گریز(الانعام 153:6 )
۴۶ نسلی یا قومی تفاخر سے گریز(الحجرات 13:49 )
۴۷ مذاق اڑانے سے گریز(لقمن 18:31 الحجرت 11:49 )
۴۸ طعنے، طنز اور برے ناموں سے پکارنے سے گریز(الحجرت 11:49 )
۴۹ لوگوں سے نرم لہجے سے بات کرنا(البقرہ 83:2 )
۵۰ ہاتھ اور زبان سے لوگوں کو تکلیف دینے سے گریز(النساء 135:4 ،المائدہ 8:5 ، الاعراف 33:7 ، مسلم ،بخاری رقم 67 )
۵۱ شریعت کی حدود میں انتقام لینا(الشوٰری 39:42 )
۵۲ شدید غصے میں بھی ظلم سے گریز(آل عمران134:3 )
۵۳ لغو اور فحش گفتگو سے گریز(المؤمنون 3:23 ، الفرقان 72&63:25)
۵۴ روزمرہ کی اشیاء عارضی طور پر لوگوں کو استعمال کے لیے دینا(الماعون 7:107 )
۵۵ جھوٹ بولنے سے گریز( آل عمران 17:3 ، الحج 30:22 )
۵۶ قول و فعل میں تضاد سے گریز(الصف 2:61 )
۵۷ ریا کاری سے گریز( النساء 38:4 ، الماعون6:107 )
۵۸ نیکی کی ترغیب اور برائی سے روکنا(التوبہ 112:9 ، لقمن17:31 )
حصہ 146 ج 145 ۔ معیشت
۵۹ سود سے گریز(البقرہ 275:2 ، البقرہ279-278:2 ، آل عمران130:3 )
۶۰ جوئے یا سٹے سے گریز(المائدہ 90:5 )
۶۱ جا ئد اد قانونِ وراثت کے مطابق تقسیم کرنا(البقرہ 188:2 )
۶۲ بلا ضرورت قرض لینے سے گریز(صحیح مسلم کتاب الا ستقراض)
۶۳ قرض میں تاخیر یا مطلقاً واپس نہ کرنے سے گریز(البقرہ177:2 ، بخاری و مسلم )
۶۴ اسراف یا فضول خرچی سے گریز(الاعراف 31:7 ، بنی اسرائیل26 & 27:17 )
۶۵ نا پ تول میں کمی سے گریز(الانعام153:6 ، بنی اسرائیل35:17 ، المطففین1-4:83)
۶۶ بخل سے گریز(النساء36-37:4 )
۶۷ مال باطل طریقے سے کھانے سے گریز(النساء 29:4 ، البقرۃ188:2)
۶۸ زخیرہ اندوزی سے گریز(احمد، رقم19802 ، مشکوٰۃ 2768/2 ، جلد دوم )
۶۹ حرام اشیاء کی تجارت سے گریز(مشکوٰۃ جلد دوم4646/8 )

حصہ 146 د 145 ۔ معاشرت اور خورونوش
۷۰ سور، مردار، خون اور غیر اللہ کے نام سے منسوب غدا کھانے سے گریز(المائدہ 3:5 )
۷۱ شراب اوردیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال سے گریز(المائدہ 90:5 )
۷۲ عورتوں کاپردے کا اہتمام(النور 31-27:24 ، النور 59-58:24 ، الاحزاب32:33 ، الاحزاب 61-58:33 )
۷۳ شوہر کابیوی کو مہر ادا کرنا(النساء 24:4 )
۷۴ بحیثیت شوہربیوی کے فرائض پورے کرنا(النساء 34:4 )
۷۵ بحیثیت بیوی شوہر کے فرائض پورے کرنا(النساء 34:4)
۷۶بحیثیت ماں یا باپاولاد کے فرائض پورے کرنا((التحریم6:66 )

حصہ 146 ہ 145 ۔ متفرقات

۷۷ اللہ کاتقوٰی اختیار کرنا(الحشر 18:59 ، المعارج27:70 )
۷۸ اپنا احتساب کرنا(الحشر 18:59 )
۷۹ اللہ کی حدود کی پاسداری کرنا(التوبہ 112:9 )
۸۰ اللہ کے سوا کسی اور کی قسم نہ کھانا(ابو داؤدرقم3251)
۸۱ جھوٹی قسم نہ کھانا(بخاری )
۸۲ اسلام کی بنیادی تعلیم کے حصول کی کوشش کرنا(مسلم کتاب الجہاد )
۸۳ حرام موسیقی سے گریز(بخاری رقم5590 )
۸۴ چہرے اور لباس کی وضع قطع سنت کے مطابق رکھنا(التغابن3:64 ، طہٰ94:20 ، النساء119:4 ، بخاری و مسلم)
۸۵ جان اور مال سے جہادکرنا(الحجرات 15:49)
۸۶ ریاستی قوانین کی پاسداری کرنا(النساء 59:4 ،المعارج32:70 ، مسلم رقم4763 )
۸۷ طہارت کے اصولوں کی پاسداری کرنا( مسلم رقم 599 ، سورۃالتوبہ 108:9 )
۸۸ زندگی اور موت کو آزمائش سمجھنا(الملک67 2: ، الانبیاء 35:21 ، الکھف 7:18 ، بنی اسرائیل 28:16 )
۸۹ گناہ کے بعد فوراً توبہ کرنا(النساء 18-17:4 )
۹۰ ایمان کی بعد شک نہ کرنا(الحجرات 15:49 )
۹۱ تکالیف پر صبر کرنا(البقرہ 177:2 ، لقمن 17:31 ، الاحزاب35:33 ، النحل 126:16 مریم 65:19 )
۹۲ توکل کرنا(الشوریٰ 36:42 )
۹۳ اللہ سے شکایت سے گریز(الشوری 37:42 )
۹۴ آخرت کو دنیا پر ترجیح دینا( الشوری 36:42 ،النور 37:43 )
۹۵ اللہ کا ذکر اور حمد کرنا(آل عمران 190:3 ،التوبہ 112:9 ، الاحزاب35:33 )
۹۶ کائنات پر غور و فکر کرنا(آل عمران 190:3 )
۹۷ بد سلوکی کا جواب بھلائی سے دینا(الر عد 22:13 ، حم السجدہ 34:41)
۹۸ نفلی عبادات کا ا ہتمام کرنا(الفرقان 76-63:25 )
۹۹ دعا مانگنا( البقرہ 186:2 ، المؤمن 60:40 )

کسی بھی مشکل یا دشواری کی صورت میں مندرجہ ذیل ای میل ایڈریس پر رجوع کریں۔
ishraqdawah@gmail.com
نوٹ: مندرجہ بالا اوامر و جواہی ایک حسابی سوالنامے کی شکل میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ اسکا عنوان ہے 146146اپنے آپ کو پہچانئے145145۔ اسے مندرجہ ذیل لنک سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ذریعے آپ اپنا اسکور معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ دین پر کتنے فی صد عمل کرتے ہیں۔
http://www.mubashirnazir.org/PD/Urdu/PU03-0058-Assessment.htm

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s