غیبت(مصنف: پروفیسر محمد عقیل)

تزکیۂ تعلق بالعباد

غیبت کبیرہ گناہوں میں سے ہے لیکن دیگر بڑے گناہوں کے برخلاف یہ گناہ بہت عام ہے اور اس میں ہر دوسرا مسلمان ملوث ہے۔ غیبت کی اس عمومیت کی بنا پر اس سے بچنا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ زیرِ نظر تربیتی مضمون کا مقصد یہی ہے کہ اس مرض کی نوعیت سمجھ کراس سے چھٹکارا پایا جائے۔ اس ورکشاپ کے بعد آپ غیبت پر گرفت پانے میں انشاء اللہ کامیاب ہوجائیں گے۔
۱۔ غیبت کی حرمت: قرآنی آیت نمبر ۱:۔۔۔۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ دیکھو اس چیز کو تم خود بھی ناگوار سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (الحجرات ۴۹: ۱۲)۔
قرآنی آیت نمبر ۲: اے ایمان والو، اگر تم (کسی ضرورت کے تحت ) سرگوشی کرو تو گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرنانی کے لئے سرگوشیاں مت کروبلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتوں کے لئے سرگوشیاں کرو اور اللہ سے ڈرو جس کے پاس تم سب جمع کئے جاؤگے۔بے شک (گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی سے متعلق) سرگوشیاں شیطان کی طرف سے ہیں جن کا مقصد مسلمانوں کو رنج پہنچانا ہے حالانکہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی شے نقصان نہیں پہنچاسکتی۔ اور مسلمانوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہئے۔ ( المجادلہ۵۸:۹۔۱۰)
حدیث: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو افراد کو کسی کی برائی بیان کرتے ہوئے سنا۔ جب آپ کچھ دور آگے آگئے تو دیکھا کہ راستے میں ایک گدھا مرا ہوا پڑا ہے۔ فرمایا: فلاں اور فلاں شخص کہاں ہیں؟ (جو ابھی کسی کی برائی بیان کررہے تھے) وہ آئیں اور اس گدھے کا گوشت کھائیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ، یہ تو کوئی کھانے کے لائق چیز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی جو تم نے اپنے بھائی کی بدی بیان کی تھی وہ اس سے بھی زیادہ بری چیز تھی۔ (احمد۔ حسن حدیث ۳۵۱۔۳ )
غیبت کی تعریف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ غیبت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کا ایسا ذکر جو اسے نا پسند ہو۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ عیب اس میں فی الواقع موجود ہو تب بھی؟ آپ نے فرمایا کہ جو عیب تم نے بیا ن کیا ہے وہ اگر اس میں موجود ہے تب ہی تو غیبت ہے وگرنہ تو تم نے بہتان لگایا۔ (ابو داؤد،جلد سوم، ۱۴۴۶)
لہٰذاغیبت وہ کلام یا اشارہ ہے جس میں کسی متعین غائب شخص کے اس عیب کو دوسروں کے سامنے بیان کیا جائے جو اس میں موجود ہو اور اگر اس کا علم غائب شخص کو ہو تو اسے تکلیف پہنچے۔
غیبت کے اطلاق کی شرائط:
۱) کسی متعین شخص کی برائی پیٹھ پیچھے یعنی اس کی غیر موجودگی میں کی جائے۔
۲) ایسی برائی کی جائے جو واقعتا اُس شخص میں موجود ہو۔
۳) برائی کی نوعیت ایسی ہو کہ اگر وہ شخص خود سن لے تو اسے برا لگے۔
۴) اس کا مقصود اس شخص کی کردار کشی ہو یعنی اس کے عیوب کو اچھالنا اور دوسرے شخص کے سامنے اسے بدنام کرنا یا کمتر دکھانا ہو۔
غیبت کب جائز ہے: قرآنی آیت نمبر ۱۔ ’’اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی برائی کرنے کے لیے زبان کھولے سوائے اس کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو (اور وہ اس ظلم کو بیان کرے)، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ (مظلوم ہونے کی صورت میں گرچہ تم کو بدگوئی کرنے کا حق ہے)، لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کیے جاؤ یا کم از کم برائی سے درگزر کرو تو اللہ (کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ) بڑا معاف کرنے والا ہے، (حالانکہ وہ سزا دینے پر )پوری قدرت رکھتا ہے‘‘، (سورۂ نساء:۴:۱۴۸۔۱۴۹)
قرآنی آیت نمبر ۲:۔ ؔ ۔ ’’ اکثر خفیہ سرگوشیوں میں خیر نہیں ہوتابجز ان لوگوں (کی سرگوشیوں )کے جو صدقہ یا نیک کام کی ترغیب دیتے یا لوگوں میں صلح کراتے ہیں
(النساء ۴:۴۱۱)
قرآنی آیت نمبر ۳: ’’اے ایمان والو، اگر تم (کسی ضرورت کے تحت ) سرگوشی کرو تو گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرنانی کے لئے سرگوشیاں مت کروبلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتوں کے لئے سرگوشیاں کرو۔( المجادلہ: ۵۸:۹)
حدیث: جب حضرت فاطمہ بنت قیس نے عدت ختم ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ’’حضرت معاویہ اور حضرت ابو جہم نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معاویہ تو مفلس ہیں اور ابو جہم پر تشدد آدمی ہیں، تم اسامہ سے نکاح کرلو۔‘‘، ( مسلم ، کتاب الطلاق: حدیث۱۴۸۰)
چنانچہ غیبت ثابت ہونے کے لئے اوپر بیان کی گئی چاروں شرائط کا ہو نا ضروری ہے اور اگر تینوں شرائط تو موجود ہوں لیکن چوتھی شرط یعنی کردار کشی شامل نہ ہو تو اسے لغوی طور پر غیبت سمجھ کر جائز قرار دیا جاتا ہے حالانکہ یہ غیبت نہیں ہوتی۔ مثلاََ ایک شخص ملازم سے کہتا ہے کہ تم چوک پر جاکر ایک شخص سے ملو جس کی رنگت کالی ہوگی اور وہ تھوڑا لنگڑا بھی ہوگا۔ تو یہ غیبت نہیں ہے کیونکہ اس میں کردار کشی کی نیت نہیں پائی جاتی بلکہ مقصود اس شخص کی پہچان بتانا ہے۔ اسی بنا پر بعض علما نے اس لغوی غیبت کو غیبت شمار کرتے ہوئے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہ اصطلاحی غیبت کی تعریف پر پوری ہی نہیں اترتی۔ جید اہل علم نے درج ذیل مواقع پر غیبت کو جائز قرار دیا ہے:
۱۔ مظلوم کا ظالم کے خلاف آواز اٹھانا جیسا کہ قرآن میں آتا ہے، مثلاً ملازم کمپنی کے مالک سے کسی افسر کے ظلم کی شکایت کرے۔
۲۔گناہ اور خلاف شرع کام کرنے والے کے خلاف آواز اٹھانا یا کسی ایسے فاسق و فاجر کے خلاف بات کرنا جو اعلانیہ فسق و فجور کے کام کرتا ہو۔
۳۔فتویٰ یا رہنمائی لینے کے لیے جیسے ہندہ نے اپنے شوہر کے خلاف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ابو سفیان بخیل ہیں۔
۴۔حدیث کے راویوں یا عدالتی کاروائی کے دوران جرح کرنے کے لیے۔
۵۔تحقیقات کے وقت رائے طلب کرنا جیسے نکاح کے وقت یا ملازمت کے لیے یا کسی خریدار کو خطرے سے بچانے کے لیے۔ جیساکہ حضرت فاطمہ بنت قیس نے رشتوں کے سلسلے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معاویہ تو مفلس ہیں اور ابوالجہم تشدد کرنے والے آدمی ہیں۔ (مسلم، کتاب الطلاق: ۱۴۸۰)
۶۔ کسی شخص کو اس کے مشہور نام سے پکارنا جو کہ عیب دار نام ہو جیسے ابوجہل وغیرہ۔
۷۔ اصلاحِ احوال کے لیے جب انسان خود کچھ کرنے کی ہمت نہ پارہا ہو تو زیادہ بااثر لوگوں تک بات پہنچانے کی غرض سے کسی کی بری بات بیان کرنا، جیسے بچہ نماز نہ پڑھے تو ماں بچے کے باپ کو اس بات سے مطلع کرتی ہے۔
۸۔کسی پبلک فیگر جیسے سیاستدان وغیرہ نے اپنے آپ کو قومی خدمت کے لیے پیش کیا ہو تو اس کی مسلمہ برائیاں بیان کی جاسکتی ہیں۔
ان کے علاوہ بے شمار ایسے معاملات ہوسکتے ہیں جب ایک شخص کے برے اوصاف بیان کئے جارہے ہوں لیکن اس کی کوئی نہ کوئی جائز وجہ ضرور ہو۔ اس کا فیصلہ وہی شخص کر سکتا ہے جو یہ عمل کررہا ہے کہ اس کا محرک کیا ہے مثلاً کسی واقعے کی خبر دینا کہ فلاں کی لڑکی فرار ہوگئی ہے غیبت بھی ہوسکتی اور نہیں بھی۔ اس کا تعلق بتانے والے کی نیت سے ہے کہ وہ کردار کشی یا لطف اندوزی کی نیت سے یہ بات بیان کررہا ہے یا محض ایک اطلاع دے رہا ہے۔
* دل کا فتویٰ: غیبت کے جائز اور ناجائز ہونے کے معاملے میں دل کا فتویٰ بہت کافی ہے۔ جب آپ سے کسی کی برائی بیان کررہے ہوں اور مقصود صرف مزہ لینا ہو یا کسی کو نیچا دکھانے کا جذبہ دل میں کارفرما ہو تو سمجھ لیں کہ یہ غیبت ہے۔
* غیبت کرنے کے مختلف طریقے:
۱۔زبان سے غیبت کرنا مثلاً فلاں شخص شیخی خور ہے یا بے نمازی ہے وغیرہ۔
۲۔ حرکات و سکنات سے غیبت کرنا جیسے کسی کی طرف آنکھوں وغیرہ سے اشارہ کرنا، نقل اتارنا، معنی خیز مسکراہٹ سے پیغام دینا۔
۳۔معنی خیز جملے بولنا مثلاً کسی کا ذکر کرنے کے بعد یہ کہنا کہ خدا کا شکر ہے میں تو پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں وغیرہ۔ اور مقصود یہ بتانا ہو کہ دوسرا بے نمازی ہے۔
* غیبت میں بیان ہونے والے عمومی امور:
۱۔جسمانی برائی جیسے کالی رنگت، پست قامتی، بدصورتی، گنج پن، ناک کی ساخت، کوئی جسمانی معذوری۔
۲۔حرکات و سکنات کی برائی مثلاََ چلنے، اٹھنے بیٹھنے یا بولنے کا انداز۔
۳۔ متعلقات کی برائی مثلاََ لباس، مکان، گھر کی چیزیں، اولاد، بیوی یا شوہر وغیرہ۔
۴۔عادات و اطوار پر تنقید جیسے کنجوسی یا فضول خرچی، کسی کا متکبرانہ رویہ، بدتمیزی، بدگوئی وغیرہ۔
* غیبت کے اسباب و محرکات:
۱۔حسد: (مثلاً کسی کے مال و دولت، اولاد یا ترقی سے جل کر اس کی برائی کرنا)۔
۲۔نفرت اور کینہ: کسی کے خلاف کسی بھی وجہ سے کینہ پیدا ہوجائے اور پھر اس کا بدلہ اسے دوسروں کی نظروں میں گراکر لیا جائے۔
۳۔دوسروں کے متعلق سوچنے کا منفی انداز: مثلاً جس شخص کے بارے میں بھی بات کی جائے ہمیشہ اس کا کوئی نہ کوئی منفی پہلو ہی پیش نظر رکھا جائے۔
۴۔ دوسروں کی تحقیر: تکبر اور غرور (خود کو عقلِ کل سمجھتے ہوئے لوگوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنا) مثلاً اسے تو فلاں کام آتا ہی نہیں یا وہ احمق ہے۔
۵۔ کثرت کلام یا بنا سوچے سمجھے بولنے کی عادت۔
۶۔احساسِ کمتری: (اس احساس کو مٹانے کے لیے دوسروں کو کمتر ثابت کرنا اور ان کی برائیاں بیان کرنا)۔
۷۔بدگمانی کرنا کہ فلاں شخص میرے خلاف ہے اور پھر اس کی برائیوں کو بیان کرنا۔
۸۔مخاطب کو خوش کرنے کے لیے کسی اور کی برائی کرنا۔
* غیبت کا کفارہ:
غیبت ایک گناہ کبیرہ ہے۔ اور ہر گناہ سے توبہ کا طریقہ اس کو ترک کرنا، اس پر نادم ہونا، آئندہ اسے نہ کرنے کا عہد کرنا اور ممکن ہو تو اس کے ازالے کی کوشش کرناہے۔ مثلاً جن لوگوں کے سامنے کسی کی برائی بیان کی ہے ان کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے۔
غیبت کا ازالہ کیسے ہوسکتا ہے۔ علما کا ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ غیبت کرنے والے کو اس شخص کا معاف کرنا ضروری ہے جس کی غیبت کی گئی ہو۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ جس کی غیبت کی گئی ہواس کے حق میں دعا کرنا اور اسے فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنا تلافی کے لیے کافی ہے کیونکہ اگر اسے بتائیں گے تو اسے اور تکلیف ہوگی۔ اس میں ایک درمیان کی صورت یہ ہے کہ اگر اس شخص سے بے تکلفی ہے تو معاف کروالیا جائے اور اگر اس سے فساد پھیلنے اور تعلقات وغیرہ مزید بگڑنے کا اندیشہ ہو تو دوسرے طریقے سے ازالے کی کوشش کی جائے۔
غیبت کرنے والوں کا انجام:
قرآنی آیت: ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر شے سے واقف ہے۔تین آدمیوں میں خفیہ سرگوشیاں نہیں ہوتیں مگر اللہ چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ میں مگر وہ چھٹا ہوتا ہے۔اور اگر یہ تعداد کم یا زیادہ ہو تب بھی ہر جگہ انکے ساتھ ہوتا ہے۔پس قیامت کے دن وہ انہیں انکے اعمال سے آگاہ کردیگا، بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے ۔ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں خفیہ سرگوشیوں سے روک دیا گیا تھا ، پھر بھی اس روکے ہوئے کام کو دوبارہ کرتے ہیں اور آپس میں گناہ گاری، ظلم و زیادتی اور رسول ﷺ کی نافرمانی کے لئے سر گوشیاں کرتے ہیں، اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ نے نہیں کہا اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمارے کئے پر ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا ان کے لئے نہنم کافی ہے جس میں یہ بھیجے جایءں گے، سو وہ برا ٹھکانا ہے ‘‘ (المجادلہ ۵۸:۷۔۸)
حدیث نمبر ۱۔حضور فرماتے ہیں: معراج کی رات میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ناخن تانبے کے ہیں جن سے وہ اپنے چہرے اور سینے کو نوچ رہے ہیں۔ میں نے جبریل سے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے (یعنی غیبت کیا کرتے تھے) اور ان کی عزتیں لوٹتے تھے۔ (ابوداؤد، کتاب الادب حدیث : ۴۸۷۸)
حدیث نمبر ۲۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کی زبانیں تو ایمان لاچکی ہیں لیکن دل نہیں۔ تم مسلمانوں کی غیبتیں چھوڑ دو اور ان کے عیب نہ کریدو۔ یاد رکھو اگر تم نے ان کے عیب ٹٹولے تو اللہ تعالیٰ تمہاری پوشیدہ برائیوں کو ظاہر کردے گا یہاں تک کہ تم اپنے گھر والوں میں بھی بدنام اور رسوا ہو جاؤ گے، (ابوداؤد، کتاب الادب۔حدیث : ۴۸۸۰)
* غیبت سے بچاؤ کی تدابیر:
۱۔ بولنے سے پہلے سوچا جائے۔ اور جب آپ کسی دوسرے شخص کی برائی بیان کررہے ہوں تو اطمینان کرلیجیے کہ کیا آپ کے پاس اس برائی کو بیان کرنے کا کوئی جواز موجود ہے۔
۲۔دوسروں کے متعلق گفتگو کرنے میں احتیاط برتی جائے اور ان کی پردہ پوشی کی جائے اور لوگوں کے بارے میں اچھا سوچنے کی عادت ڈالی جائے۔
۳۔حسد پر قابو پایا جائے اور محسود (جس سے حسد کیا جائے) کے حق میں دعائے خیر کی عادت ڈالی جائے۔
ؓ۴۔نفرت، کینہ، غصہ اور دیگر اخلاقی آفات پر نظر رکھی جائے اور انہیں اپنی شخصیت اور نفسیات کا حصہ بننے سے روکا جائے۔
۵۔برائی ہوجانے کی صورت میں اس شخص سے معافی مانگی جائے یا اس کے ساتھ خصوصی برتاؤ کیا جائے اور ساتھ ہی اپنے لیے جرمانے کا نظام نافذ کیا جائے مثلاً اس شخص کو تحفہ دینا جس کی برائی سرزد ہوگئی ہو، اس کی دعوت کرنا، اس کے ساتھ کوئی خصوصی برتاؤ کرنا وغیرہ۔
۶۔ یہ تصور راسخ کیا جائے کہ غیبت کرنے سے دوسرے کا کچھ نہیں بگڑتا بلکہ الٹا اپنی نیکیاں دوسرے کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجاتی ہیں۔
۷۔ غیبت سے پہلے ہمیشہ یہ سوچنا چاہیے کہ اس کا دنیا اور آخرت میں کوئی فائدہ ہے یا نہیں یعنی اس کے ذریعے کسی کی اصلاح کا کوئی امکان ہے، کوئی ضروری خبر دینی ہے وغیرہ۔ اگر فائدہ نہیں ہے یا آپ شک و تردد میں ہیں تو پھر ایسا مشکوک کام کبھی نہ کریں۔

حصہ دوم: مشقیں

اگر آپ غیبت کی ماہیت سمجھ چکے ہیں تو مندرجہ ذیل مشق کو حل کریں اور پھر آخر میں دئیے گئے جوابات دیکھ کر اپنی کارکردگی کا جائزہ لیں۔
* ّّّّّّّّمندرجہ ذیل جملوں پر غور کریں اور ہاں یا نہ میں جواب دیں کہ یہ غیبت ہے یا نہیں۔ (۱۵ مارکس)
۱۔ احمد نے اسلم سے کہا کہ تم بہت سست انسان ہو۔
۲۔ اکرم نے اپنی کار چوری ہونے پر نامعلوم چور کے خلاف تھانے میں رپورٹ درج کروادی۔
۳۔عدالت میں گواہی دیتے ہوئے احمد نے اکرم کی غیر موجودگی میں کہا کہ اکرم چور ہے۔
۴۔ ابو سفیان کی بیوی ہندہ نے اپنے شوہر کے خلاف نبی کریم سے شکایت کی کہ ’’وہ کنجوس آدمی ہیں کیا میں ان کی لاعلمی میں کچھ رقم لے لوں‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستور کے مطابق رقم لینے کی اجازت دے دی۔ (بخاری جلد ۱، صفحہ ۳۳۳)۔
۵۔ ایک شخص فرحان لنگڑا کے نام سے مشہور ہے۔ احمد نے اسلم سے دریافت کیا کہ ’’فرحان لنگڑا کہاں ہے؟‘‘
۶۔ ایک محلے میں ایک شرابی رہتا ہے۔ انور اپنے پڑوسی سے ذکر کرتا ہے کہ ’’یہ شخص شرابی ہے، اس سے کیسے چھٹکارا پایا جائے؟‘‘
۷۔ وسیم نے اکرم سے کہا کہ وہ اپنی بہن کا رشتہ انور کو دینے سے باز رہے کیونکہ انور ایک بدقماش انسان ہے۔
۸۔ وحید نے کہا کہ آج کل لوگ بہت بے ایمان ہوگئے ہیں۔
۹۔اکرم نے کہا کہ سابق صدر یحیٰ خان ایک شرابی آدمی تھا۔
۱۰۔ ٹی وی پر ٹاک شوز میں سیاستدانوں کی برائیاں بیان ہوتی ہیں۔
۱۱۔ بہو نے ساس کے خلاف شوہر سے شکایت کی کہ وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتی ہے۔
۱۲۔ عورت نے اپنی نند کے متعلق اپنی ماں سے کہا کہ ’’میری نند بہت چالاک ہے‘‘۔
۱۳۔ عورت نے اپنی نند کے متعلق اپنی دیورانی سے کہا کہ ’’ہماری نند بہت چالاک ہے اس سے ہوشیار رہنا‘‘۔
۱۴۔ وااجد نے اسلم کی غیر موجودگی میں اسے گالی دی
۱۵۔ سلمان بٹ سٹے باز ہے۔

حصہ سوم : کیس اسٹدی

مندرجہ ذیل کیس کا بغور مطالعہ کریں اور بتائیے کہ کس نکتے میں میں غیبت ہے اور کس میں نہیں۔ نیز مختصراً وجہ بھی بتائیں: جوابات آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔
(۸ مارکس)
ایک لکڑہارا جنگل میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ پہلی بیوی مرچکی تھی جس سے ایک بڑی لڑکی فرخندہ تھی جو ایک ٹانگ سے معذور تھی۔ جبکہ باقی بچے دوسری بیوی سے تھے۔ سوتیلی ماں فرخندہ سے ناروا سلوک رکھتی۔ اس کے علاوہ وہ ہر شخص کی پیٹھ پیچھے برائی کرتی رہتی۔ لکڑہارا اس کی عادتوں سے تنگ تھا۔
نکتہ نمبر۱: ایک دن فرخندہ نے اپنے باپ سے کہا۔ ’’ابا جان، امی مجھے کھانا نہیں دیتیں اور کام بھی زیادہ لیتی ہیں‘‘۔ لکڑہارے نے اپنی بیوی کو سمجھایا لیکن اس نے جواب دیا۔۔۔۔
نکتہ نمبر۲: ’’یہ کلموہی اپنی ماں کے ساتھ ہی کیوں نہ مرگئی، اس لنگڑی لڑکی سے مجھے نفرت ہے‘‘۔ لکڑہارا مصلحت کے تحت خاموش ہوگیا۔
نکتہ نمبر۳: دوسرے دن اس نے اپنے دوست سے اپنی بیوی کی شکایت کی اور کہا کہ ’’میری بیوی بہت زیادہ لوگوں کی برائی کرتی ہے۔ میں کیا کروں؟‘‘۔ دوست نے اسے مشورہ دیا اور لکڑہارا اس مشورے پر عمل کرنے کے لیے روانہ ہوگیا۔ اگلے دن وہ مطب گیا اور حکیم سے ایک سفوف خرید لایا اور دھوکے سے بیوی کو کھلادیا۔ اسے کھاتے ہی عورت کی آواز بند ہوگئی۔ محلے کی عورتوں میں چرچا پھیل گیا کہ لکڑہارے کی بیوی کی زبان بند ہوگئی ہے۔
نکتہ نمبر ۴: ایک پڑوسن نے دوسری سے کہا ’’تمہیں پتا ہے کہ لکڑہارے کی بیوی گونگی ہوگئی ہے؟‘‘
نکتہ نمبر۵: دوسری نے جواب میں آ آ کی آواز نکال کر گونگے ہونے کی نقل اتاری اور پھر دونوں ہنسنے لگیں۔
نکتہ نمبر۶: دوسری جانب جب فرخندہ کو اس بات کا علم ہوا کہ اس کی سوتیلی ماں پر یہ بیتی تو وہ بہت خوش ہوئی اور اس نے اپنی سہیلی سے کہا ’’میری سوتیلی ماں گونگی ہوگئی ہے۔ یہ خدا نے اسے اس کے عمل کی سزا دی ہے‘‘۔
نکتہ نمبر ۷۔ ادھر لکڑہارا بیوی سے بولا کہ تم گونگی ہوگئی ہو۔ لیکن اگر تم توبہ کرو کہ آئندہ اپنی بیٹی کو لنگڑی نہیں کہوگی اور کسی کی برائی نہیں کروگی تو میں تمھیں ٹھیک کرسکتا ہوں۔ نکتہ نمبر ۸۔ عورت نے حامی بھرلی تو لکڑہارا حکیم کے پاس گیا۔ حکیم نے آنکھ ماری اور بولا ’’کیا ہوا، تمہاری گونگی بیوی کے ہوش ٹھکانے آگئے‘‘۔ پھر اس نے ایک سفوف دیا۔ عورت نے سفوف استعمال کیا اور آواز بحال ہونے پر خدا کا شکر ادا کیا اور توبہ کی کہ آئندہ کسی کی برائی نہیں کرے گی اور نہ اپنی سوتیلی بیٹی کو لنگڑا کہے گی۔

حصہ ج: جوابات
نوٹ: جن جملوں میں غیبت نہیں ہوئی اس میں اصل علت یعنی کردار کشی اور سامنے والے کی ذلت مقصود نہیں ہے۔
۱۔ احمد نے اسلم سے کہا کہ تم بہت سست انسان ہو۔ (نہیں کیونکہ منہ پر بولا گیا ہے)
۲۔اکرم نے اپنی کار چوری ہونے پر نامعلوم چور کے خلاف تھانے میں رپورٹ درج کروادی۔ (نہیں کیونکہ ظالم کے خلاف ہے)
۳۔عدالت میں گواہی دیتے ہوئے احمد نے اکرم کی غیر موجودگی میں کہا کہ اکرم چور ہے۔ (نہیں کیوں کہ یہ بات بطور گواہی بیان کی گئی ہے)
۴۔ ابو سفیان کی بیوی ہندہ نے اپنے شوہر کے خلاف نبی کریم سے شکایت کی کہ ’’وہ کنجوس آدمی ہیں کیا میں ان کی لاعلمی میں کچھ رقم لے لوں‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستور کے مطابق رقم لینے کی اجازت دے دی (بخاری جلد ۱، صفحہ ۳۳۳)۔ (نہیں کیوں کہ یہ بات فتویٰ لینے یا دینی رائے معلوم کرنے کے لیے بیان کی گئی ہے)
۵۔ ایک شخص فرحان لنگڑا کے نام سے مشہور ہے۔ احمد نے بھی اسے فرحان لنگڑا کہہ کر بلایا۔ (نہیں کیوں کہ یہ اس کا عرفی اور مشہور نام ہے)
۶۔ ایک محلے میں ایک شرابی رہتا ہے۔ انور اپنے پڑوسی سے ذکر کرتا ہے یہ شرابی ہے، اس سے کیسے چھٹکارا پایا جائے۔ (نہیں کیوں کہ مشورے کا حصول پیش نظر ہے نہ کہ اس شخص کی تذلیل)
۷۔ وسیم نے اکرم سے کہا کہ وہ اپنی بہن کا رشتہ انور کو دینے سے باز رہے کیونکہ انور ایک بدقماش انسان ہے۔ (نہیں کیوں کہ یہ ایک طرح سے گواہی کا معاملہ ہے)
۸۔ وحید نے کہا کہ آج کل لوگ بہت بے ایمان ہوگئے ہیں۔ (نہیں کیوں کہ کسی متعین شخص کے خلاف نہیں ہے)
۹۔ اکرم نے کہا کہ سابق صدر ایوب خان ایک متعصب شخص تھا۔ (نہیں کیوں کہ ایک عوامی شخصیت کے خلاف ہے اور عوامی شخصیت پر رائے زنی کا حق ہر ایک کو ہے۔ اور عوامی شخصیات کا کام ہی عوامی رائے سے پہچانا جاتا ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ کسی واقعی برائی کا تذکرہ کیا جائے ورنہ ایسا بیان بہتان کے زمرے میں آجائے گا)
۱۰۔ ٹی وی پر ٹاک شوز میں سیاستدانوں کی برائی ہورہی ہے۔ (نہیں کیوں کہ ایک عوامی شخصیت کے خلاف ہے اور عوامی شخصیت پر رائے زنی کا حق ہر ایک کو ہے)
۱۱۔ بہو نے ساس کے خلاف شوہر سے شکایت کی کہ وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتی ہے۔ (اگر بہو خود کو مظلوم سمجھ کر یہ بات کہہ رہی ہے تو یہ غیبت نہیں۔ اور اگر اس کا مقصد اس بیان سے لذت حاصل کرنا اور ساس کی کردار کشی ہے تو یہ غیبت ہے)
۱۲۔ عورت نے اپنی نند کے متعلق اپنی ماں سے کہا کہ ’’میری نند بہت چالاک ہے‘‘۔ (اس کا مقصد لذت حاصل کرنا اور کردار کشی ہے تو یہ غیبت ہے)
۱۳۔ عورت نے اپنی نند کے متعلق اپنی دیورانی سے کہا کہ ’’ہماری نند بہت چالاک ہے اس سے ہوشیار رہنا‘‘۔ (اگر اس کا مقصد دیورانی کو خطرے سے آگاہ کرنا ہے تو غیبت نہیں ہے ورنہ غیبت ہے)
۱۴۔ وااجد نے اسلم کی غیر موجودگی میں اسے گالی دی( یہ غیبت نہیں بلکہ گالی کی درجہ بندی میں آتا ہے جو الگ گناہ ہے)
۱۵۔ سلمان بٹ سٹے باز ہے۔( غیبت نہیں کیونکہ پبلک فگر ہے)
کیس اسٹدی کے جوابات
نکتہ نمبر۱: ایک دن فرخندہ نے اپنے باپ سے کہا۔ ’’اباجان، امی مجھے کھانا نہیں دیتیں اور کام بھی زیادہ لیتی ہیں‘‘۔ لکڑہارے نے اپنی بیوی کو سمجھایا لیکن اس نے جواب دیا۔۔۔۔۔جواب: یہ غیبت نہیں ہے کیوں کہ مظلوم ظالم کے خلاف زبان کھول سکتا ہے۔
نکتہ نمبر۲: ’’یہ کلموہی اپنی ماں کے ساتھ ہی کیوں نہ مرگئی، اس لنگڑی سے مجھے نفرت ہے‘‘۔ لکڑہارا مصلحت کے تحت خاموش ہوگیا۔
جواب: لڑکی کو تحقیر کی نیت سے لنگڑی کہنا غیبت ہے۔
نکتہ نمبر۳: دوسرے دن اس نے اپنے دوست سے اپنی بیوی کی شکایت کی اور کہا کہ ’’میری بیوی بہت زیادہ لوگوں کی برائی کرتی ہے۔ میں کیا کروں؟‘‘۔ دوست نے اسے مشورہ دیا اور لکڑہارا اس مشورے پر عمل کرنے کے لیے روانہ ہوگیا۔ اگلے دن وہ مطب گیا اور حکیم سے ایک سفوف خرید لایا اور اسے دھوکے سے بیوی کو کھلادیا۔ اسے کھاتے ہی عورت کی آواز بند ہوگئی۔ محلے کی عورتوں میں چرچا پھیل گیا کہ لکڑہارے کی بیوی کی زبان بند ہوگئی ہے۔
جواب: لکڑہارے کا دوست سے مشورہ طلب کرتے وقت بیوی کی برائی کرنا غیبت نہیں۔
نکتہ نمبر ۴: ایک پڑوسن نے دوسری سے کہا ’’تمہیں پتا ہے کہ لکڑہارے کی بیوی گونگی ہوگئی ہے؟‘‘
جواب: اگر پڑوسن کا مقصد پوچھنا یا محض مطلع کرنا ہے تو یہ غیبت نہیں ہے اور اگر اس کا مقصد اس بیان سے لذت کا حصول اور کردار کشی ہے تو یہ غیبت ہے۔
نکتہ نمبر۵: دوسری نے جواب میں آ آ کی آواز نکال کر گونگے ہونے کی نقل اتاری اور پھر دونوں ہنسنے لگیں۔
جواب: یہ غیبت ہے کیوں کہ اصل مقصود دوسرے کی تحقیر ہے۔
نکتہ نمبر۶: دوسری جانب جب فرخندہ کو علم ہوا کہ اس کی سوتیلی ماں پر یہ بیتی تو وہ بہت خوش ہوئی اور اس نے اپنی سہیلی سے کہا ’’میری سوتیلی ماں گونگی ہوگئی ہے۔ یہ خدا نے اسے اس کے عمل کی سزا دی ہے۔‘‘
جواب: یہ غیبت تو نہیں لیکن پسندیدہ رویہ ہوتا کہ اس موقع پر ماں کو معاف کردیا جاتا، اس کی طرف سے دل صاف کرکے اس کے حق میں دعا کی جاتی۔
نکتہ نمبر ۷۔ ادھر لکڑہارا بیوی سے بولا کہ تم گونگی ہو۔ لیکن اگر تم توبہ کرو کہ آئندہ اپنی بیٹی کو لنگڑی نہیں کہوگی اور کسی کی برائی نہیں کروگی تو میں تمہیں ٹھیک کرسکتا ہوں۔ عورت نے فوراً حامی بھرلی۔ جواب: یہ غیبت نہیں ہے
نکتہ نمبر ۸۔ تو لکڑہارا حکیم کے پاس گیا۔ حکیم نے آنکھ ماری اور بولا ’’کیا ہوا، گونگی کے ہوش ٹھکانے آگئے‘‘۔ پھر اس نے دوسرا سفوف دے دیا۔ عورت نے سفوف استعمال کیا اور آواز بحال ہونے پر شکر ادا کیا۔ اور توبہ کی کہ آئندہ کسی کی برائی نہیں کرے گی اور نہ اپنی سوتیلی بیٹی کو لنگڑا کہے گی۔
جواب: اگر حکیم کا استفسار علاج کی نیت سے نہیں بلکہ تضحیک کی غرض سے ہے تو یہ غیبت ہے ورنہ نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حصہ د: فرد کے لئے ہوم اسائنمنٹ
اس مشق کو پر ڈائری میں حل کریں اور ایک مہینے تک ان ہدایات پر عمل کریں۔ ایک مہینے کے بعد اس مشق کو دوبارہ پر کرکے یہ دیکھیں کہ کیا ترقی یا تنزلی ہوئی۔
۱۔ ان شخصیات کے نام لکھیے جن کی آپ بالعموم برائی کرتے ہیں جیسے ساس، بہو، کوئی خاص دوست، افسر وغیرہ۔
۲۔ ان محفلوں یا لوگوں کی نشاندہی کریں جن میں رہ کر آپ غیبت کرتے ہیں جیسے دفتر میں، گھر میں، بیوی کے ساتھ یا دوستوں کی مجلس میں۔
۳۔ ان امور کی نشاندہی کریں جو غیبت میں زیرِبحث آتے ہیں جیسے کسی کی جسمانی برائی، عادت کی خامیاں یا دولت کی برائی وغیرہ۔
۴۔ ان اسباب کی نشاندہی کریں جن کی بنا پر آپ غیبت پر مجبور ہوجاتے ہیں مثلاً زیادہ بولنے کا مرض، حسد، غصہ وغیرہ۔
۵۔ ان سب باتوں کی نشاندہی کے بعد غیبت سے بچاؤ کی ہدایات پر عمل کریں اور ایک مہینے کے بعد ان سوالات کا جواب دیں:
سوال۱: میں غیبت کے اسباب اور نوعیت کو جان چکا ہوں۔
سوال۲: میں گفتگو میں احتیاط کرتا اور لوگوں کے متعلق فالتو بات کرنے سے گریز کرتا ہوں۔
سوال۳: میں لوگوں کے متعلق بدگمانی سے بچتا اور ان کے بارے میں اچھا سوچتا ہوں۔
سوال۴: میں حسد نہیں کرتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اللہ کسی کو دے کر آزماتا ہے اور کسی سے لے کر۔
سوال۵: میں لوگوں سے شکایت کے باوجود انہیں معاف کردیتا، ان کے عیوب کو چھپاتا اور ان کی اچھائیاں بیان کرتا ہوں۔
سوال۶: میں نے غیبت پر قابو پالیا ہے اور اب میں کسی کی برائی نہیں کرتا۔
* اگر ان سب سوالات کا جواب ہاں میں ہو تو بہتر وگرنہ ایک بار پھر نئے سرے سے اپنا محاسبہ اس ورکشاپ کی روشنی میں کریں اور پھر سے ان سوالات کا مثبت طور پر جواب دینے کی کوشش کریں۔ مزید کسی مشکل کی صورت میں اس ای میل پر رابطہ کریں:
ishraqdawah@gmail.com
http://www.ishraqdawah.org
http://www.aqilkhans.wordpress.com
Face book: ishraqdawah@gmail.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s