فلسفہء تسبیح و تحمید (پروفیسر محمد عقیل)

اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ اور انکے ماننے والوں کو حکم دیا ہے کہ وہ صبح و شام اپنے رب کی پاکی (تسبیح )اور تعریف(حمد) بیان کرتے رہیں(طہٰ:۲۰:۱۳۰)۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تسبیح و تحمید کا مفہوم، غایت اور طریقہ کیا ہے؟ اگر تسبیح کی بات کریں تو تسبیح قول سے بھی ہوتی ہے اور فعل سے بھی۔ عملی تسبیح کا مطلب ہے کہ اللہ کے سامنے عجز اور تذلل سے بچھ جانا اور خدا کے احکام کی تعمیل میں ہر وقت سر فگندہ رہنا (تدبر قرآن : جلد ۱:صفحہ ۱۵۹)۔ چنانچہ قرآن جب بے جان اور بے ارادہ اشیاء کی تسبیح بیان کرتا ہے تو اس سے مراد یہی ہوتی ہے کہ زمین و آسمان، دریا ، پہاڑ، شجر غرض اس کائنات کی ہر شے اللہ کی تسبیح یعنی اسکے حکم کی تعمیل میں مصروفِ عمل ہے۔ انسان کی عملی تسبیح بھی عمومی طور پر خدا کے احکامات کی بجا آوری ہے جسکا عملی مظاہرہ نماز کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
تسبیح کی دوسری شکل یہ ہے کہ زبان سے خدا کی پاکی بیان کی جائے۔ یعنی خدا کو ان تمام غلط عقیدوں، تصورات، خیالات اور رحجانات سے بالا تر ماننا جو اسکی شانِ الوہیت کے خلاف ہیں( تدبر قرآن : جلد ۱:صفحہ ۱۵۹)۔ اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ خدا کو ہماری پاکی بیان کرنے کی حاجت ہے، سبحان اللہ۔ اللہ تو ازل سے پاک ہے اور ابد تک ہر عیب سے پاک ہی رہے گا۔ قولی تسبیح درحقیقت انسان کے ذہن اور عمل میں پیدا ہونے والے غلط تصورات کی تطہیر کا عمل ہے ۔ چنانچہ ایک بندۂ مومن جب خدا کی پاکی بیان کرتا ہے تو وہ اپنے یا دوسروں کے عقائد باطلہ کی تردید کرتا ہے کہ اللہ پاک ہے کہ اسکا کوئی شریک ہو، کوئی اس جیسا ہو، کوئی اسکی اولاد ہو یا وہ کسی کی اولاد ہو۔ اللہ پاک ہے کہ اسے کبھی موت آئے یا وہ مغلوب ہو یا وہ ظلم ڈھائے۔ غرض اللہ کسی بھی قسم کے عیب سے پاک ہے۔
اس اعتبار سے دیکھا جائے تو تسبیح میں نفی کاپہلو غالب ہے لیکن جب اس کے ساتھ حمد یا خدا کی کوئی صفت بھی بیان کی جائے تو پھر اس میں اثبات کا مفہوم بھی پیدا ہوجاتا ہے یعنی اللہ کو ہر قسم کے عیب سے پاک قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان صفات سے متصف قرار دینا جن کی بنا پر وہ تعریف اور شکر کا مستحق ہے( تدبر قرآن : جلد ۱:صفحہ ۱۵۹)۔ اسی لئے قرآن میں عام طور پر تسبیح کے ساتھ ساتھ تحمید بھی بیان ہوتی ہے لیکن کبھی یہ جدا بھی ہو جاتے ہیں۔
اب کیا کرناہے ؟ بس اپنے عمل سے تسبیح شروع کرکے ہرخواہش اسکی رضا کے تابع کرلیں ۔ اپنے قول کی تسبیح سے خدا کے تصور کو ہر عیب سے پاک کرلیں اور پھر خداکی تعریف ، اسی کا شکر، اسی کی نعمتوں کے چرچے، اسی کی یاد کے ترانے اوراسی کی محبت کے فسانے ہوں۔ اسی کی حمد سے لبریز قیا م و قعود کے شب و روز ہوں یہاں تک کے موت آجائے اور وہ ہر عیب سے پاک اور حقیقی تعریف کا مستحق خدا آپ کو آپ کے عیبوں سے پاک کرکے تعریف کے قابل بنا دے۔
سبحان اللہ والحمد للہ ولاالٰہ الا اللہ واللہ اکبر

One response to this post.

  1. Very true! Keep it up!

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s