۔غیبت سے بچئے


کیا آپ جانتے ہیں کہ غیبت کیا ہے؟

درج ذیل ٹیسٹ کے ذریعے معلوم کیجئے کہ آپ غیبت کے متعلق کتنا جانتے ہیں اور اس سے کس طرح بچ سکتے ہیں 

مندرجہ ذیل جملوں پر غور کریں اور ہاں یا نہ میں جواب دیں کہ یہ غیبت ہے یا نہیں۔ (۱۵ مارکس)    [جوابات آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔]

1۔ احمد نے اسلم سے کہا کہ تم بہت سست انسان ہو۔
2۔ اکرم نے اپنی کار چوری ہونے پر نامعلوم چور کے خلاف تھانے میں رپورٹ درج کروادی۔
3۔عدالت میں گواہی دیتے ہوئے احمد نے اکرم کی غیر موجودگی میں کہا کہ اکرم چور ہے۔
4۔ ابو سفیان کی بیوی ہندہ نے اپنے شوہر کے خلاف نبی کریم سے شکایت کی کہ ’’وہ کنجوس آدمی ہیں کیا میں ان کی لاعلمی میں کچھ رقم لے لوں‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستور کے مطابق رقم لینے کی اجازت دے دی۔ (بخاری جلد ۱، صفحہ ۳۳۳)۔
5۔ ایک شخص فرحان لنگڑا کے نام سے مشہور ہے۔ احمد نے اسلم سے دریافت کیا کہ ’’فرحان لنگڑا کہاں ہے؟‘‘
6۔ ایک محلے میں ایک شرابی رہتا ہے۔ انور اپنے پڑوسی سے ذکر کرتا ہے کہ ’’یہ شخص شرابی ہے، اس سے کیسےچھٹکارا پایا جائے؟‘

۔ وسیم نے اکرم سے کہا کہ وہ اپنی بہن کا رشتہ انور کو دینے سے باز رہے کیونکہ انور ایک بدقماش انسان ہے۔
8۔ وحید نے کہا کہ آج کل لوگ بہت بے ایمان ہوگئے ہیں۔
9۔اکرم نے کہا کہ سابق صدر یحیٰ خان ایک شرابی آدمی تھا۔
10۔ ٹی وی پر ٹاک شوز میں سیاستدانوں کی برائیاں بیان ہوتی ہیں۔
11۔ بہو نے ساس کے خلاف شوہر سے شکایت کی کہ وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتی ہے۔
12۔ عورت نے اپنی نند کے متعلق اپنی ماں سے کہا کہ ’’میری نند بہت چالاک ہے‘‘۔
13۔ عورت نے اپنی نند کے متعلق اپنی دیورانی سے کہا کہ ’’ہماری نند بہت چالاک ہے اس سے ہوشیار رہنا‘‘۔
14۔ وااجد نے اسلم کی غیر موجودگی میں اسے گالی دی
15۔ سلمان بٹ سٹے باز ہے

ٹیسٹ نمبر 2۔ کیس اسٹدی

مندرجہ ذیل کیس کا بغور مطالعہ کریں اور ہاں یا نہ میں جواب دیں کہ یہ غیبت ہے یا نہیں۔(۸ مارکس)
ایک لکڑہارا جنگل میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ پہلی بیوی مرچکی تھی جس سے ایک بڑی لڑکی فرخندہ تھی جو ایک ٹانگ سے معذور تھی۔ جبکہ باقی بچے دوسری بیوی سے تھے۔ سوتیلی ماں فرخندہ سے ناروا سلوک رکھتی۔ اس کے علاوہ وہ ہر شخص کی پیٹھ پیچھے برائی کرتی رہتی۔ لکڑہارا اس کی عادتوں سے تنگ تھا۔
نکتہ نمبر1: ایک دن فرخندہ نے اپنے باپ سے کہا۔ ’’ابا جان، امی مجھے کھانا نہیں دیتیں اور کام بھی زیادہ لیتی ہیں‘‘۔ لکڑہارے نے اپنی بیوی کو سمجھایا لیکن اس نے جواب دیا۔۔۔۔
نکتہ نمبر۲: ’’یہ کلموہی اپنی ماں کے ساتھ ہی کیوں نہ مرگئی، اس لنگڑی لڑکی سے مجھے نفرت ہے‘‘۔ لکڑہارا مصلحت کے تحت خاموش ہوگیا۔
نکتہ نمبر۳: دوسرے دن اس نے اپنے دوست سے اپنی بیوی کی شکایت کی اور کہا کہ ’’میری بیوی بہت زیادہ لوگوں کی برائی کرتی ہے۔ میں کیا کروں؟‘‘۔ دوست نے اسے مشورہ دیا اور لکڑہارا اس مشورے پر عمل کرنے کے لیے روانہ ہوگیا۔ اگلے دن وہ مطب گیا اور حکیم سے ایک سفوف خرید لایا اور دھوکے سے بیوی کو کھلادیا۔ اسے کھاتے ہی عورت کی آواز بند ہوگئی۔ محلے کی عورتوں میں چرچا پھیل گیا کہ لکڑہارے کی بیوی کی زبان بند ہوگئی ہے۔
نکتہ نمبر ۴: ایک پڑوسن نے دوسری سے کہا ’’تمہیں پتا ہے کہ لکڑہارے کی بیوی گونگی ہوگئی ہے؟‘‘
نکتہ نمبر۵: دوسری نے جواب میں آ آ کی آواز نکال کر گونگے ہونے کی نقل اتاری اور پھر دونوں ہنسنے لگیں

نکتہ نمبر6: دوسری جانب جب فرخندہ کو اس بات کا علم ہوا کہ اس کی سوتیلی ماں پر یہ بیتی تو وہ بہت خوش ہوئی اور اس نے اپنی سہیلی سے کہا ’’میری سوتیلی ماں گونگی ہوگئی ہے۔ یہ خدا نے اسے اس کے عمل کی سزا دی ہے‘‘۔
نکتہ نمبر ۷۔ ادھر لکڑہارا بیوی سے بولا کہ تم گونگی ہوگئی ہو۔ لیکن اگر تم توبہ کرو کہ آئندہ اپنی بیٹی کو لنگڑی نہیں کہوگی اور کسی کی برائی نہیں کروگی تو میں تمھیں ٹھیک کرسکتا ہوں۔

نکتہ نمبر ۸۔ عورت نے حامی بھرلی تو لکڑہارا حکیم کے پاس گیا۔ حکیم نے آنکھ ماری اور بولا ’’کیا ہوا، تمہاری گونگی بیوی کے ہوش ٹھکانے آگئے‘‘۔ پھر اس نے ایک سفوف دیا۔ عورت نے سفوف استعمال کیا اور آواز بحال ہونے پر خدا کا شکر ادا کیا اور توبہ کی کہ آئندہ کسی کی برائی نہیں کرے گی اور نہ اپنی سوتیلی بیٹی کو لنگڑا کہے گی

جوابات ٹیسٹ نمبر ۱

1 نہیں کیونکہ منہ پر بولا گیا ہے۔

2۔ نہیں کیونکہ ظالم کے خلاف ہے۔

3۔ نہیں کیوں کہ یہ بات بطور گواہی بیان کی گئی ہے۔

4۔ نہیں کیوں کہ یہ بات فتویٰ لینے یا دینی رائے معلوم کرنے کے لیے بیان کی گئی ہے۔

5۔ نہیں کیوں کہ یہ اس کا عرفی اور مشہور نام ہے۔

6۔ نہیں کیوں کہ مشورے کا حصول پیش نظر ہے نہ کہ اس شخص کی تذلیل

7۔نہیں کیوں کہ یہ ایک طرح سے گواہی کا معاملہ ہے۔

8۔ نہیں کیوں کہ کسی متعین شخص کے خلاف نہیں ہے۔

9۔ نہیں کیوں کہ ایک عوامی شخصیت کے خلاف ہے اور عوامی شخصیت پر رائے زنی کا حق ہر ایک کو ہے۔ اور عوامی شخصیات کا کام ہی عوامی رائے سے پہچانا جاتا ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ کسی واقعی برائی کا تذکرہ کیا جائے ورنہ ایسا بیان بہتان کے زمرے میں آجائے گا۔

10۔نہیں کیوں کہ ایک عوامی شخصیت کے خلاف ہے اور

عوامی شخصیت پر رائے زنی کا حق ہر ایک کو ہے۔

11۔ اگر بہو خود کو مظلوم سمجھ کر یہ بات کہہ رہی ہے تو یہ غیبت نہیں۔ اور اگر اس کا مقصد اس بیان سے لذت حاصل کرنا اور ساس کی کردار کشی ہے تو یہ غیبت ہے۔

12۔ اس کا مقصد لذت حاصل کرنا اور کردار کشی ہے تو یہ غیبت ہے۔

13۔ اگر اس کا مقصد دیورانی کو خطرے سے آگاہ کرنا ہے تو غیبت نہیں

ہے ورنہ غیبت ہے۔

14۔ یہ غیبت نہیں بلکہ گالی کی درجہ بندی میں آتا ہے جو الگ گناہ ہے۔

15۔ غیبت نہیں کیونکہ پبلک فگر ہے

جوابات۔ ٹیسٹ نمبر ۲:کیس اسٹدی

1۔ یہ غیبت نہیں ہے کیوں کہ مظلوم ظالم کے خلاف زبان کھول سکتا ہے۔

2۔ لڑکی کو تحقیر کی نیت سے لنگڑی کہنا غیبت ہے۔

3۔ : لکڑہارے کا دوست سے مشورہ طلب کرتے وقت بیوی کی برائی کرنا غیبت نہیں۔

4۔ اگر پڑوسن کا مقصد پوچھنا یا محض مطلع کرنا ہے تو یہ غیبت نہیں ہے اور اگر اس کا مقصد اس بیان سے لذت کا حصول اور کردار کشی ہے تو یہ غیبت ہے۔

5۔ یہ غیبت ہے کیوں کہ اصل مقصود دوسرے کی تحقیر ہے۔

6۔ یہ غیبت تو نہیں لیکن پسندیدہ رویہ ہوتا کہ اس موقع پر ماں کو معاف کردیا جاتا، اس کی طرف سے دل صاف کرکے اس کے حق میں دعا کی جاتی۔

7۔ : یہ غیبت نہیں ہے
8۔ : اگر حکیم کا استفسار علاج کی نیت سے نہیں بلکہ تضحیک کی غرض سے ہے تو یہ غیبت ہے ورنہ نہیں۔

نتیجہ

اگر کل حاصل کردہ مارکس 22 سے کم ہیں تو تزکیہ نفس کیٹگری میں موجود مضمون "غیبت ” کا مطالعہ کریں تاکہ غیبت کی نوعیت کو سمجھ کر اس سے بچ پایئں۔

 

 

 

 

 

 

Advertisements

One response to this post.

  1. السلام علیکم
    پلیز http://www.youtube.com/watch?v=w3zG_oBTsvM اس پر پرومو دیکھئے۔
    اس پر ورکشاپ کا پہلہ حصہ http://www.youtube.com/watch?v=atjtkpHoy3U
    اس پر ورکشاپ کا دوسرا حصہ http://www.youtube.com/watch?v=atjtkpHoy3U
    اور آگے چار باقی ہیں جسے ہر روز اپ لوڈ کیا جائے گا۔
    جزاک اللہ خیرا۔
    مُجیب اللہ عمر دوستے،
    مدینہ منورہ

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s