طعنہ زنی، عیب جوئی ، طنز و تشنیع اور پھبتی کسنا


اللہ تعالیٰ نے ہمیں کسی پر عیب لگانے، طنز کرنے، جملے بازی کرنیاور پھبتی کرنے سے منع کیا ہے ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
۔۔۔۔اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب لگاؤ(الحجرات۔۴۹:۱۱)
’’تباہی ہے ہر اشارے باز عیب جو کے لئے‘‘(الھمزہ۔۱۰۴:۱)
کیا آپ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں؟ ذیل کے سوالات کے جواب دیجئے:
۱۔کسی سے شکایت ہونے کی صورت میں کیا آپ اس کا بدلہ طنز کے ذریعے اتارتے ہیں؟
۲۔کیا آپ اکثر لوگوں کے متعلق منفی باتیں کرتے رہتے ہیں کہ فلاں تو رشوت لیتا ہے یا فلاں لڑکی کا تو کسی سے کوئی معاملہ ہے وغیرہ
۳۔کیا آپ لوگوں پر الزام لگاتے ہیں ؟
اگر ان میں سے کسی سوال کا جواب ہاں میں ہے تو آپ ایک بڑے گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔ دیکھیں کہ آپ اس مرض کے متعلق کتنا جانتے ہیں:

مشق نمبر ۱: جملے(۵ مارکس)

ہدایت: مندرجہ ذیل جملوں کو پڑھنے کے بعد فیصلہ کریں کہ ان میں کوئی طعنہ زنی، عیب جوئی ، طنز و تشنیع اور پھبتی کسنے کا عمل پایا جاتا ہے یا نہیں۔ہاں یا نہ میں جواب دیں۔
۱۔ اکرام نے پڑوسی سے کہا ’’ میاں کتنا بھی پڑھ لو، رہو گے تو موچی کی اولاد ہی‘‘۔
۲۔ واصف نے اپنے دوست سے کہا’’ یار تم ایک پولیس والے کے بیٹے ہو ، اب تمہیں کیا بتاؤں کہ اس فیلڈ میں کتنا مال ہے‘‘
۳۔ کریم کی بیو ی (جو ایک غریب گھر انے سے تعلق رکھتی تھی )اپنے بچپن کی باتیں کررہی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ بچپن میں فانٹا کی ٹافی بڑے شوق سے کھاتی تھی جو آٹھ آنے کی آتی تھی۔ کریم نے کہا،’’ ا وہ، اتنے پیسے تم کتنے دن میں جمع کرتی تھیں‘‘۔
۴۔ایک لڑکے نے اپنی کزن کا مختصر لباس دیکھ کر کہا ۔’’ اگر پیسے کم پڑ گئے تھے تو مجھ سے لے لئے ہوتے‘‘۔
۵۔ثمینہ نے فقیر کی خستہ حالت دیکھ کر تاسف سے کہا!’’ دیکھو اس کے پاس کپڑے بھی نہیں کہ سردی سے بچ سکے‘‘۔

مشق نمبر ۲:کیس اسٹڈی (۵ مارکس)

ؓہدایت: مندرجہ ذیل جملوں کو غور سے پڑھیں اور ہا ں یا نہ میں جواب دیں کہ کس جملے میں طعنہ زنی، عیب جوئی ، طنز و تشنیع اور پھبتی کسنے کا عمل پایا جاتا ہے ۔
’’ایک مولوی صاحب انتہائی بری آواز کے مالک تھے اور پھر وہ تقریر بھی چیخ چیخ کر کیا کرتے اور خطبے میں بھی کوئی جان نہ تھی۔ لوگ جمعے کو چارو ناچار جاتے اور انکے خطبے کو برداشت کرتے۔
۱۔ ایک مرتبہ انکے بیٹے کا دوست گھر آیا اور مولوی صاحب سے مسکراتے ہوئے بولا’’ جناب میں کئی دنوں سے گاؤں سے باہر تھا، آپ کا شیریں خطاب نہیں سنا تو دل بے چین تھا، اب آگیا ہوں تو دل کو سکون ہے ‘‘۔
۲۔اسی طرح ایک مرتبہ انکی بیوی ان پر برس پڑی،’’ یہ کیا کوے کی طرح کائیں کائیں کرتے رہتے ہو؟ کوئی دم تو آواز دھیمی کرلیا کرو‘‘۔
۳۔مولوی صاحب کو احساس تھا کہ لوگ انہیں بر ابھلا بولتے رہتے ہیں لیکن وہ اس کوسازش سے تعبیر کرتے۔ انہوں نے اپنے دوست سے کہا’’ میاں ہیرے کی قدر تو جوہری ہی پہچانتا ہے۔ اس گاؤں میں سب نرے جاہل اور احمق لوگ موجود ہیں کسی کو میری قدر نہیں‘‘
۴۔ دوست نے جوب دیا ’’ دیکھو ایسا نہیں ہے، زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو۔ تمہاری تقریر واقعی بہت پرشور اور ناقابل سماعت ہوتی ہے، کچھ لہجہ دھیما کرو‘‘۔ لیکن مولوی صاحب اپنے دوست ست بھی ناراض ہوکر بیٹھ گئے۔
۵۔ایک مرتبہ انکا بیٹا شہر سے آیا تو اپنے ساتھ رکارڈنگ والاموبائل بھی لایا۔ اس نے چپکے سے اپنے والد کی تقریر رکارڈ کی اور موقع ملتے ہی لاؤڈ اسپیکر پر لگادی۔ ابا نے جب سنا تو فرمایا’’ یہ کون بے ہودہ انسان تقریر کرہا ہے ۔اف کس قدر بھدی آواز ہے‘‘۔ بیٹے نے جب بتایا کہ یہ اسی کی آواز ہے تو وہ بہت شرمندہ ہوئے اور آئندہ کے لئے تقریر سے توبہ کرلی۔

جوابات برائے مشق نمبر ۱:

۱ ۔ ہاں کیونکہ یہ نسب کا طعنہ ہے۔
۲۔ ہاں کیونکہ یہ پھبتی ہے۔
۳۔ ہاں کیونکہ یہ طنز ہے۔
۴۔ہاں کیونکہ یہ طنزہے۔
۵۔نہیں کیونکہ یہ افسوس کا اظہار ہے، اسکا مقصد کردار کشی نہیں۔

جوابات برائے مشق نمبر ۲:

۱۔ہاں کیونکہ یہ طنز ہے۔
۲۔ہاں کیونکہ یہ عیب جوئی ہے۔
۳۔ہاں کیونکہ مولوی صاحب نے گاؤں والوں پر الزام دھرا ہے۔
۴۔نہیں کیونکہ اس مقصد اصلاح ہے۔
۵۔نہیں کیونکہ بیٹے کے اس عمل کا مقصد اصلاح ہے۔

نتیجہ

اگر آپ کے مارکس ۱۰ سے کم ہیں یا آپ طنز و تشنیع کے بارے میں جاننا چاہتے یا اس سے بچنا چاہتے ہیں تو  تزکیہ نفس کیٹگری میں موجودمضمون ’’ تحقیر آمیز روئیے کو جانئے اور اس سے بچئے‘‘ کو پڑھ کر اس پر عمل کریں ۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s