عہد الست.پروفیسر محمد عقیل


خالق کائنات نے مٹی سے انسان کا پتلا بنایا،اسکی نکھ سکھ درست کی، اسے سنوارا، پھر اس میں اپنی روح پھونک کر حیات دی اور شعور بخشا۔ پھر انسان کی پشت سے پیدا ہونے والے تمام بنی نوع انسانوں کی روحوں کو حاضر کیا، ان سے اپنا تعارف کرایا، دنیا کے بارے میں اپنا نقشہ بتایا کہ میں ایک خطرات سے پر دنیا میں تمہیں بھیجنا چاہتا ہوں جہاں نیکی بھی ہے اور بدی بھی، شیطان بھی ہے اور پیغمبر بھی۔ وہاں ایک مدت تم نے گذارنی ہے پھر پلٹ کر میرے پاس ہی آنا ہے۔ تو نیکوں کو جنت اور بدوں کو جہنم ملے گی۔کون ہے جو اس دنیا میں جانا چاہتا اور خود کو آزمانا چاہتا ہے۔ یہ سن کر روحوں میں چہ مہ گوئیاں شروع ہوگئیں۔امتحان کڑا لیکن انعام تگڑا تھا۔یہ جانتے بوجھتے کہ زمین ، آسمان اور پہاڑ اس آزمائش کا بوجھ اٹھانے سے ڈر چکے ہیں انسان نے یہ چیلنج قبو ل کرلیا۔ خدا نے انسان کے فیصلے کی توثیق کی لیکن آخری بات بھی باور کروادی کہ دیکھو تم ایسی جگہ جا رہے ہوجو بڑی بڑی رنگین اور پر لطف ہے ، مجھے نہ بھول جانا، یہ یاد رکھنا کہ میں ہی تمہارا پیدا کرنے والا پالنے والا ہوں۔سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہاں ہاں بھلا یہ کیسے ممکن کہ ہم آپ ہی کو بھلادیں آپ ہی تو ہمارے رب ہیں۔ اور یوں عہد انسانی کا آغاز ہوا۔
جب انسان نے اس دنیامیں قدم رکھا تو اسکی نیت میں فتور آگیا۔وہ دنیا پر ریجھ گیا،وہ مادے کی کھنک سونے کی چمک اور شہوت کی دھنک میں ایسا کھویا کہ سب بھلا بیٹھا ۔کون رب ، کیسا الہٰ، کہاں کا خدا ،کیسا معبود؟۔
حالانکہ یہی وہ انسان تھاجو وعدے کرکے آیا تھا کہ میں کبھی نہ بھولونگا کہ آپ ہی ہمارے رب ہیں، پالنے والے ہیں، تنہا اور اکیلے ہیں، خالق ہیں ، مالک ہیں، آقا ہیں، بادشاہ ہیں۔ اور میں آپ کا غلام، تابعدار،فرمانبردار۔ میری پیشانی کے بال آپ کی مٹھی میں ہیں، آپ جدھر چاہیں لے چلیں، سر تسلیم خم ۔اف نہ کرونگا، آپ کی عطا پر شکر اور محرومی پر صبر کرونگا ، شکایت نہ کرونگا، جب کہیں گے تو سوؤں گا ، کہیں گے تو جگوں گا۔
سب بھلا بیٹھا یہ انسان۔کاش وہ اس آزمائش کا انکار کرکے معدوم ہی ہوجاتا تو بہتر تھا لیکن افسوس اس نے عہد کیا اور بدعہدی کی وہ بھی خدا کے ساتھ۔ اس نے خدا کو بھلادیا پس خدا نے خدا نے اس کو بھلادیا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔بجز ان لوگوں کے جنہوں نے خدا کو یاد رکھا تو خدا نے بھی انہیں یاد رکھا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

Advertisements

5 responses to this post.

  1. السلام علیکم
    جوابات عنایت کرنے پر شکر گزار ہوں۔
    میں در اصل کوئی مستند جواب تلاش کر رہا تھا۔ اسی دوران یہ حدیث مبارکہ کسی دوست نے ارسال کی۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ عہد الست تخلیق آدم کے بعد ہی لیا گیا۔
    قال الإمام أحمد: حدثنا حسين بن محمد، حدثنا جرير، يعني: ابن حازم، عن كلثوم بن جبر عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” إن الله أخذ الميثاق من ظهر آدم عليه السلام بنعمان يوم عرفة، فأخرج من صلبه كل ذرية ذرأها، فنثرها بين يديه، ثم كلمهم قبلاً، قال:” أَلَسْتَ بِرَبِّكُمْ قَالُواْ بَلَىٰ شَهِدْنَآ أَن تَقُولُواْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَـٰذَا غَـٰفِلِينَ أَوْ تَقُولُوۤاْ إِنَّمَآ أَشْرَكَ ءَابَاؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّن بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلْمُبْطِلُونَ”
    یعنی مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ،نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی ،سب کو اس کے سامنے پھیلادیا اور فرمایا کہ میں تم سب کا رب نہیں ہوں ؟سب نے کہا "بلی”ہم گواہ ہیں …پھر آپ نے "مبطلون”(الاعراف 172،173) تک تلاوت فرمائی (مسند احمد ج 1 ص 272) صحیح
    اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ "عہد الست” کا واقعہ تخلیق حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کا ہے۔
    واللہ واعلم بالصواب

    جواب دیجیے

  2. جہاں تک میری معلومات ہے یہ عہد تو ارواح سے لیا گیا تھا شخصیات سے نہیں ۔ اور ارواح کیا پہلے سے موجود نہیں تھیں؟

    جواب دیجیے

    • سلام
      آپ کی بات بالکل درست ہے کہ یہ عہد ارواح سے لیا گیا تھا۔ لیکن یہ ارواھ +دم کی پشت سے نکالی گئیں تھیں۔ چنانچہ یہ عہد آدم کی تخلیق کے بعد ہی لیا گیا تھا۔ آپ کا ابتدائی سوال بھی یہی تھا اور اس جواب یہ ہے کہ یہ عہد آدم کی تخلیق کے بعد ارواح سے لیا گیا تھا

      جواب دیجیے

  3. السلام علیکم
    کیا عہد الست تخلیق آدم کے بعد لیا گیا یا پہلے؟ آپ کے مضمون سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تخلیق آدم کے بعد لیا گیا۔

    جواب دیجیے

    • وعلیکم السلام
      عہد کسی شخصیت سے لیا جاتا ہے تو اس اس شخصیت کا وجود لازم ہے۔ چنانچہ عہد الست آدم کی تخلیق کے بعد ہی لیا گیا لیکن اس وقت تک آدم کو دنیا میں نہیں بھیجا گیا تھا۔

      جواب دیجیے

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s