ٹوہ لینا


ٹائٹل کی آیت: اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں۔اور ٹوہ میں نہ لگو(الحجرات۔۴۹:۱۲)
ٹائٹل کی حدیث: ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ تم بد گمانی سے بچو اس لئے کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔اور کسی کے عیوب کی جستجو نہ کرو اور نہ اس کی ٹوہ میں لگے رہو۔۔(بخاری ، جلد سوم:حدیث ۱۰۰۴)
حدیث: جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ دنیا اور آخرت میں اسکی پردہ پوشی کرے گا( ترمذی : حدیث ۱۹۹۳)
سوالات
1: کیا یہ تجسس گناہ ہے؟
2: اس ٹوہ سے بچنے کے لئے کیا تربیت کرنی چاہئے؟
3۔ کیا آپ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں؟
ٹوہ کی نوعیت ، حرمت اسباب اور ان تمام سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے درج ذیل مضمون پڑھئے۔
ٹوہ لینے کا مفہوم: تجسس ایک فطری امر ہے اور یہی تجسس انسان کی ترقی کا ضامن ہے۔ یہاں وہ تجسس ممنوع ہے جو کسی برے مقصد سے کیا گیا ہو ۔ اس ٹوہ لینے کا نشانہ کسی کی نجی زندگی میں مداخلت،اسکے رازوں تک رسائی اور پھر اسکینڈل بنانا اور مزے لینا ہوتا ہے۔ دوسری جانب پولیس کا تحقیقات کرنا، غریب کی مدد کے لئے ٹوہ لینا، مسلمانوں میں اصلاح کی نیت سے جستجو کرنا وغیرہ نہ صرف جائز بلکہ مستحسن عمل ہے۔
ٹوہ کی ممانعت کی علت: ٹوہ لینے سے منع کرنے کی بنیادی وجہ عزت و آبر و کی حرمت قائم کرنا اور نجی معاملات کی رازداری برقراررکھنا ہے تاکہ معاشرے کو منفی طرز عمل سے پاک کرے باہمی ہمدردی او ر اخوت کو جنم دیاجاسکے۔
ٹوہ لینے کے مختلف طریقے: ٹوہ لینے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں لیکن زیادہ معروف طریقے مندرجہ ذیل ہیں
۱۔چھپ کر باتیں سننا ۲۔ تاکا جھانکی کرنا ۳۔خطوط ، کاغذات ، ایس ایم ایس یا ای میل وغیرہ پڑھنا ۴۔ ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ
ٹوہ لینے کے اسباب:
۱۔ عادت: بعض لوگ عادتاََ دوسروں کے نجی امو ر میں دلچسپی رکھتے اور انکی برائیوں کا کھوج لگاتے ہیں۔اس عادت میں عمومی طور پر وہ لوگ ملو ث ہوتے ہی جو زیادہ تر فارغ ہوتے ہیں اور انہیں وقت پاس کرنے کے لئے کوئی تفریح چاہئے ہوتی ہے۔ جیسے گھریلو عورتیں یا ریٹا ئرڈ مرد وں کی گفتگو کا محور عام طور پر لوگوں کی برائیاں اور ان نے نجی معاملات ہوتے ہیں۔
۲۔ انتقام: ایک انتقامی ذہن کا شخص اپنے مخالف سے بدلہ لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے گنوانا پسند نہیں کرتا۔چنانچہ اس کے لئے وہ موقع کی تاک میں رہتا ہے ۔ اس موقع کا حصول اسے مخالف کی نجی باتوں کا کھوج لگانے پر اکستاتا ہے۔مثلاََ ایک کاورباری شخص اپنے حریف سے انتقام لینے کے لئے اسکی نجی باتوں کو رکارڈ کرتا ہے تاکہ اس کا کوئی راز حاصل کرکے اسے بدنام کیا جاسکے۔
۳۔نفرت و عداوت: کسی شخص کی نفرت بھی اس کے رازوں کے حصول کا باعث بن سکتی ہے جیسے ایک سوکن کادوسری سوکن کی ٹوہ میں لگے رہنا ۔
۴۔حسد : کسی کی ترقی یا بہتری سے جل کر اس کی تنزلی کی تمنا بھی ممنوعہ تجسس کا سبب ہو سکتی ہے۔
۵۔بدگمانی: علم کی کمی کی بنا پر کسی کے قول یا فعل سے کوئی منفی رائے قائم کرلینا بدگمانی ہے۔اس کی بنا پر بھی ایک شخص ٹوہ لینے پر راغب ہوسکتا ہے۔ ۶۔عدم تحفظ کا احساس: کسی شخص کی احساس کمتری، خوف یا کوئی اور کمتری بھی اس شخص کو دوسروں کے نجی معاملات میں مداخلت پر اکسانے کا سبب بن سکتی ہے تاکہ دوسروں کو بھی کمزور ثابت کیا جاسکے۔
۷۔ پیشہ ورانہ تجسس: مثال کے طور پر ٹی وی رپورٹر یا صحافی حضرات مشہور شخصیات کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں تاکہ کوئی اسکینڈل بناکر یا دریافت کرے پیسے بنائے جاسکیں۔
ٹوہ لینے کے نقصانات:
۱۔ نفسیاتی بیماری: ٹوہ لینے کی عادت ایک نفسیاتی بیماری ہے اس کی زیادتی دماغ میں نفرت ،عداوت، حسد اور بے چینی کے بیج بودیتی ہے۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ پودا اپنی جڑیں پکڑلیتا اوراس کی شاخوں کے کانٹے دماغ میں پیوست ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے دوسروں کو تو نقصان کم ہوتا ہے اپنا ہی وقت اور توانائی برباد ہوتی ہے۔
۲۔ بغض و عناد کی فضا: نجی رازوں تک رسائی کی جستجو بغض و عناد کی فضا پیدا کرتا اور باہمی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔
۳۔ بھائی چارے کو نقصان: اس عمل کا آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سوسائٹی میں اخوت اور بھائی چارے کو نقصان پہنچتا ہے۔
ؑ علاج:

  ۱۔ دوسروں کے بارے میں منفی سوچ سے گریز کریں اور ان سے ہمدردی اور یگانگت کی نیت رکھیں۔
۲۔دوسروں کو نجی باتوں کو امانت سمجھ کر انہیں سینے میں محفوط رکھیں تاکہ اللہ آپ کے رازوں کو قیامت کے دن چھپائے رکھے۔
۳۔لوگوں کی مشکلات کم کریں انہیں بڑھائیں نہیں۔
۴۔ نفرت ، عداوت، حسد ، بدگمانی اور دیگر اسباب کا ادراک اور پھر انکا تدارک کریں۔
۵۔لوگوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے تجسس کی بجائے خدا پر توکل کریں ۔

 کن عیوب پر پردہ ڈالنا چاہئے

1 ۔جب عیب ذاتی نوعیت کا ہو جیسے کوئی شخص غیبت کرتا ہے تو یا بد گو ہے تو اس سے غض بشر سے کام لیا جائے گا۔

2۔ اس عیب یا برائی سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔

3۔اس عیب کا خفیہ رکھنا اصلاح کا  باعث ہو۔

   کب عیب پر پردہ ڈالنا جائز نہیں؟  

1۔جب عیب اجتماعی فساد کا باعث بنے  جیسے کچھ لوگ دھماکہ خیز مواد رکھ رہے ہوں  تو اس عیب کی تشہیر لازم ہے

 جیسے کوئی کسی کے گھر میں ڈاکے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ 2۔جب اس سے کسی بے گناہ فرد کی عزت ، شہرت ، جان یا مال کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو

3۔ملک اور قوم کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کی  بھی رپورٹ کی جائے گی

4۔ اخلاقی فساد برپا کرنے والی سرگرمیوں کی جائے گی جیسے کسی نے شراب کا کارخانہ گھر میں لگایا ہو یا قحبہ گری کرتا ہو وغیرہ۔ 

 

 

 

 

 

 

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: