مذاق اڑانا

تزکیۂ نفس کور س

آیت: ’’اے ایمان والو! نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں کیا عجب وہ ان سے بہترنکلیں اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب لگاؤاور نہ(ایک دوسرے کو) برے القاب سے پکارو۔ ایمان کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم لوگ ہیں‘‘۔(الحجرات۔۴۹:۱۱)
سوالات
کیا آپ مذاق اڑانے اور مزاح کرنے کا فرق جانتے ہیں؟
کیا آپ لوگوں پر طنز کرتے، ان پر پھبتی کستے اور انہیں طعنے دیتے ہیں؟
کیا آپ دوسروں کو کسی ناپسندیدہ نام یا چڑ سے پکارنے کے عادی ہیں؟
گر ان میں سے کسی سوال کا جواب ہاں میں ہے تو آپ ایک بڑے گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اس تحقیر آمیز روئیے کو جاننے اور اس سے بچنے کے لئیدرج ذیل مضمون کا مطالعہ کریں۔


کیس اسٹڈی
کیس نمبر ۱: سعدیہ کا چھ ماہ کا بیٹا کمرے میں سو رہا تھا، اچانک اسکی بہن رابعہ نے بچے کو دیکھ کر شرارت کا سوچا۔ اور بچے کو دوسرے کمرے میں چھپادیا۔ جب سعدیہ نے بچے کو غائب پایا تو شور مچادیا، سب گھر والے اکھٹے ہوگئے، اور سب نے رابعہ سمیت لاعلمی کا اظہار کیا۔ رابعہ اپنی بہن کی حالت دیکھ کر محظوظ ہوتی رہی۔ پھر جب سعدیہ کی حالت غیر ہوئی تو اس نے سچ اگل دیا۔
کیس نمبر ۲: کریم کی بیو ی (جو ایک غریب گھر انے سے تعلق رکھتی تھی )اپنے بچپن کی باتیں کررہی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ بچپن میں فانٹا کی ٹافی بڑے شوق سے کھاتی تھی جو آٹھ آنے کی آتی تھی۔ کریم نے کہا،’’ ا وہ، اتنے پیسے تم کتنے دن میں جمع کرتی تھیں‘‘۔
۱۔تمسخر یا مذاق اڑانے کی تعریف: تمسخر ہر وہ قول یا فعل ہے جو کسی فرد یا قوم کی ایسی تحقیر یا تقصیر بیان کرے جس سے اس فرد یا قوم کو تکلیف ہو۔ مثال کے طور پر یہ کہنا کہ’’ ہندو بنیا نہایت ہی بزدل ہوتا ہے‘‘۔ اس جملے کا مقصد ہندو قوم کی تحقیر کرنا ہے۔
۲۔ عیب جوئی یا طعنہ زنی: کسی کی تحقیر کرنے کا ایک اور اسلوب یہ ہے کہ اس پرھمز یعنی اشارے بازی (باڈی لینگویج) سے تضحیک کی جائے جیسے طنزیہ مسکراہٹ، ناک چڑھانا، منہ بنانا وغیرہ ۔ اس کی دوسری صورت لمز یعنی زبان سے عیب لگانے یا طعنہ دینے کی ہے ۔ چنانچہ عیب جوئی یا طعنہ زنی میں ہر وہ قول یا اشارہ شامل ہے جس کا مقصد تحقیریا تضحیک کرنا ہو۔
۳۔ برے القاب سے پکارنے کا مفہوم: کسی فرد یا گروہ کو اس نام سے پکارنا جس سے اسکی تحقیر یا تقصیر ہوتی ہو اوروہ اسے برا محسوس کرے۔ اس میں لوگوں کے ناموں کی چڑ بنا لینا وغیرہ شامل ہیں۔ جیسے کسی کو چھوٹو کہنا وغیرہ۔
* تمسخر کے اطلاق ( کاحکم لگانے) کے لیے مندرجہ ذیل لوازمات کا ہونا ضروری ہے:
۱) کسی فرد ، قوم، برادری، ذات،کنبہ ، خاندان، نسل، قبیلے، گروہ یا طبقے کے بارے میں کوئی مذاق کیا جائے (مذاق قولی یا فعلی دونوں صورتوں کا ہو سکتا ہے) ۔
۲) مذاق کی نوعیت ایسی ہو کہ اگر وہ شخص یا قوم خود سن لے تو اسے برا لگے یا اسے تکلیف ہو۔
۳) اس کا مقصود اس فرد یا گروہ کی تحقیر کرنا یا اسے کمتر ثابت کرنا ہو۔
مزاح کرنے اور مذاق اڑانے میں فرق:
مذاق کرنے اور مذاق اڑانے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اول الذکر کا بنیادی مقصد کسی کا دل دکھائے بنا ایک پاکیزہ تفریح فراہم کرنا ہوتا ہے جبکہ مذاق اڑانے میں مقصود کسی کی تحقیر کرنا ہوتا ہے جس کا کا عمومی نتیجہ دل آزاری کی شکل میں نکلتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات ایک مذاق کرنے والے کی نیت کسی کو کمتر ثابت کرنا نہیں ہوتی لیکن پھر بھی سامنے والا برا مان جاتا ہے۔ اس صورت میں اس عمل کو مذاق اڑانا ہی سمجھا جائے گا خواہ اس کا مقصد یہ نہ ہو۔
نبی کریم ﷺ کا مزاح:
حدیث نمبر ۱: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺکوکبھی سارے دانت کھول کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کا حلق نظر آنے لگے،بلکہ آپ صرف تبسم فرماتے تھے۔(بخاری : حدیث :۱۰۲۵)
حدیث نمبر ۲: ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے صحابہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ہم سے خوش طبعی کی باتیں کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا(ہاں) میں حق بات ہی کہتا ہوں۔(ترمذی حدیث۲۰۵۶)
حدیث نمبر ۳: حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے سواری طلب کی تو آپ نے (مذاق میں) اس سے کہا کہ میں تو تمہیں اونٹ کا بچہ دونگا۔ اس شخص نے کہا کہ میں اونٹ کے بچے کا کیا کرونگا۔ آپ نے فرمایاکہ ہر اونٹ کسی اونٹنی کا بچہ ہی ہوتا ہے۔(ترمذی حدیث صحیح غریب :۲۰۵۶ )
حدیث نمبر ۴: حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے حضرت انس کو کہا ’’ یا ذوالاذنین‘‘ یعنی اے دو کانوں والے۔(ترمذی حدیث ۲۰۵۷)
حدیث نمبر۵: حضرت حسن سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت آپ کے پاس آئی اور جنت میں داخلے کی دعا کی درخواست کی۔آپ نے فرمایا کہ بوڑھی عورت جنت میں داخل نہیں ہوسکتی۔ وہ روتی ہوئی واپس ہونے لگی تو آپ نے کہا کہ اس سے کہہ کہ وہ جنت میں بڑھاپے کی
حالت میں داخل نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ سب اہلِ جنت عورتوں کو نوعمر کنواریاں بنا دیں گے اور حق تعالیٰ کی اس آیت میں اس کا بیان ہے جس کا بیان ہے کہ ہم نے ان (جنتی) عورتوں کو خاص طرز پر بنایا ہے کہ کو کنواری ہیں۔(شمائل ترمذی: حدیث ۲۷۷)
* عیب جوئی ،مذاق اڑانے اور برے القاب سے پکارنے کے مختلف طریقے:
۱۔قول سے علی اعلان مذاق اڑانامثلاََ لطیفے بیان کرنا یامحفلوں میں کسی متعین شخص کو نشانہ بنا کر اس پر طعنہ زنی اور طنز کرنا(سامنے یا پیٹھ پیچھے)۔
۲۔ حرکات و سکنات سے کے ذریعے جیسے کسی کی طرف آنکھوں اشارہ کرنا،آنکھ مارنا، نقل اتارنا، معنی خیز مسکراہٹ سے پیغام دینا۔
۳۔ کسی قوم یا فرد کے خلاف تحقیر آمیز ای میل یاایس ایم ایس بنانا یا فارورڈ کرنا
۴۔ فحش لطیفوں کے ذریعے مذاق اڑانا
* تحقیر آمیز رویے میں بیان ہونے والے عمومی امور:
۱۔جسمانی ساخت کی تحقیر جیسے کالی رنگت، پست قامتی، بدصورتی، گنج پن، ناک کی ساخت، کوئی جسمانی معذوری۔
۲۔حرکات و سکنات کا مذاق اڑانا مثلاََ چلنے، اٹھنے بیٹھنے یا بولنے کا انداز۔
۳۔ پیشے کا مذاق جیسے کسی کو حقارت سے موچی کا طعنہ دینا۔
۴۔حسب نسب یا ذات پات کا تمسخر کرنا
۵۔لسانی بنیادوں پر مذاق اڑانامثال کے طور پر پشتو بولنے والوں کی تحقیر یا اردو بولنے والوں پر جملے بازی
۶۔مالی تفریق کی بنیاد پر مذاق جیسے غریبوں کی غربت کی تضحیک یا ان سے متعلق چیزوں کی تحقیر
۷۔جنسی تفریق پر مذاق مثال کے طور پر عورتوں کا مرد ذات پر اور مردوں کا عور ت ذات پر ہنسنا
۸۔مذہبی اختلاف پر تمسخر جیسے سکھوں کو بے وقوف قوم کے طور پر بیان کرنا
۹۔مسلکی تفریق پر مذاق جیسے شعیہ، سنی، دیو بندی بریلوی وغیرہ کا ایک دوسرے پر طعن کرنا تاکہ غیر علمی طریقے سے تحقیر کی جاسکے۔
۱۰۔برے ناموں سے پکارنا جیسے کسی کو تحقیر کی نیت سے چاچا ، کالو، لمبو، موٹے وغیرہ کہنا،
۱۱۔دین کا مذاق اڑانا یا دین پر عمل کرنے والوں کا مذاق اڑانا
۱۲۔اللہ کا یا اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا
۱۳۔ رسولوں کا مذاق اڑانا
* تحقیر آمیز رویے کے اسباب و محرکات:
۱۔تکبر: تمسخر، عیب جوئی اور برے القاب سے پکارنے کے پیچھے اصل علت استکبار ہے یعنی خود کو برتر اور فریق کو کمتر سمجھنا
۲۔نفرت اور کینہ: کسی کے خلاف کسی بھی وجہ سے کینہ پیدا ہوجائے اور پھر اس کا بدلہ اسے دوسروں کی نظروں میں گراکر لیا جائے۔
۳۔دوسروں کے متعلق سوچنے کا منفی انداز: مثلاً جس شخص کے بارے میں بھی بات کی جائے ہمیشہ اس کا کوئی نہ کوئی منفی پہلو ہی پیش نظر رکھا جائے۔
۴۔حسد: (مثلاً کسی کے مال و دولت، اولاد یا ترقی سے جل کر اس تحقیر کرنا)۔
۵۔ کثرت کلام یا بنا سوچے سمجھے بولنے کی عادت۔
۶۔احساسِ کمتری: (اس احساس کو مٹانے کے لیے دوسروں کو کمتر ثابت کرنا اور ان کی برائیاں بیان کرنا)۔
۷۔بدگمانی : کہ فلاں شخص میرے خلاف ہے اور پھر اس کی تحقیر۔
۸۔مخاطب کو خوش کرنا: کسی دوسرے کو خوش کرنے کے لیے کسی کا مذاق اڑانا یا اس میں ساتھ دینا۔
* تحقیر آمیز رویے سے بچاؤ کی تدابیر:
۱۔ اگر آپ تکبر کی وجہ سے مذاق اڑاتے ہیں تو یہ جان لیں کہ تکبر حرام ہے اور اونٹ تو شاید سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے لیکن متکبر شخص جنت میں نہیں جائے گا۔
۲۔عام طور پر لوگ کمزوروں کا ہی مذاق اڑاتے ہیں جو غربت، جسمانی کمزروی یا احساس کمتری کی بنا پر کسی فوری رد عمل کا اظہار نہیں کرسکتے۔ اگر آپ بھی ایسا کرتے ہیں تو وہی مذاق کسی صاحب حیثیت شخص کے سامنے کردیں کچھ دنوں میں طبیعت راہ راست پر آجائے گی۔
۲۔بولنے سے پہلے سامنے والے کے جذبات کا خیال کیا جائے ۔ اس کے لئے وہی بات خود پر لاگو کرکے سوچا جائے۔
۳۔دوسروں کے متعلق گفتگو کرنے میں احتیاط برتی جائے اور ان کی پردہ پوشی کی جائے اور لوگوں کے بارے میں اچھا سوچنے کی عادت ڈالی جائے۔
۴۔حسد پر قابو پایا جائے اور محسود (جس سے حسد کیا جائے) کے حق میں دعائے خیر کی عادت ڈالی جائے۔
ؓ۵۔نفرت، کینہ، غصہ اور دیگر اخلاقی آفات پر نظر رکھی جائے اور انہیں اپنی شخصیت اور نفسیات کا حصہ بننے سے روکا جائے۔
۶۔غلطی ہوجانے کی صورت میں اس شخص سے معافی مانگی جائے یا اس کے ساتھ خصوصی برتاؤ کیا جائے اور ساتھ ہی اپنے لیے جرمانے کا نظام نافذ کیا جائے مثلاً اس شخص کو تحفہ دینا جس کی برائی سرزد ہوگئی ہو، اس کی دعوت کرنا، اس کے ساتھ کوئی خصوصی برتاؤ کرنا وغیرہ۔
۷۔اگر یہ شک ہو کہ یہ مزاح ہے یا تمسخر تو خاموشی کو جائز مزاح پر ترجیح دیں۔

فرد کے لئے ہوم اسائنمنٹ۔

اس مشق کو گھر پر ڈائری میں حل کریں اور ایک مہینے تک ان ہدایات پر عمل کریں۔ ایک مہینے بعد اس مشق کو دوبارہ پر کر کے یہ دیکھیں کہ کیا ترقی یا تنزلی ہوئی۔
۱۔ ان شخصیا ت کے نام لکھئے جن کا آپ بالعموم مذاق اڑاتے، جنکی عیب جوئی کرتے یا جن کو آپ برے القاب سے پکارتے ہیں۔
۲۔ان محفلوں یا لوگوں کی نشاندہی کریں جہاں رہ کر آپ تحقیر آمیز روئیے کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ جیسے دفتر میں، گھر میں، بیوی کے ساتھ یا دوست کے ساتھ۔
۳۔ان امور کی نشاندہی کریں جوتمسخر یا طعنہ زنی میں زیرِبحث آتے ہیں جیسے کسی کی جسمانی برائی، دولت کی برائی وغیرہ۔
۴۔ان اسباب کی نشاندہی کریں جن کی بنا پر آپ اس روئیے پر مجبور ہوجاتے ہیں مثلاََ زیادہ کینہ، تکبر، بے احتیاط گفتگو وغیرہ
۵۔ ان سب باتوں کی نشاندہی کے بعد تحقیر آمیز رویے سے بچاؤ کی ہدایات پر ایک ماہ تک عمل کریں اور ایک مہینے کے بعد ان سوالات کا جواب دیں۔
سوال۱: میں تحقیر آمیز روئیے کے اسباب اور نوعیت کو جان چکا ہوں۔
سوال۲: میں گفتگو میں احتیاط کرتا اور لوگوں کا مذاق اڑانے سے گریز کرتا ہوں۔
سوال۳: میں لوگوں کے احساسات کی قدر کرتا اور بولنے سے پہلے سوچتا ہوں۔
سوال۴: میں تکبر نہیں کرتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ صرف اللہ ہی کو زیبا ہے۔
سوال۵: میں اس جگہ سے اٹھ جاتا ہوں جہاں خدا کی آیات کا مذاق اڑایا جا رہا ہو۔
سوال۶: میں نے تحقیر آمیز رویئے پر قابو پالیا ہے اور اب میں دانستہ طور پر یہ عمل کرتا۔
اگر ان سب سوالات کا جواب ہاں ہے تو بہتر وگرنہ تو اپنا محاسبہ اس ورکشاپ کی روشنی میں دوبارہ کریں اور مشکل کی صورت میں اس ای میل پر رابطہ کریں۔
ishraqdawah@gmail.com

Advertisements

One response to this post.

  1. masha allah , very nice , thank you very much for it site.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s