توکل، تفویض اور رضا

 

"اور مومنوں کو چاہئے کہ اللہ پر ہی بھروسہ رکھیں” [آل عمران ۱۲۲:۳]

کیا آپ اپنے کرنے کا کام بھی خدا پر چھوڑ دیتے ہیں؟

کیا آپ خدا کے کرنے کا کام بھی خود کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟

کیا آپ ڈپریشن یا ٹنشن کا شکار ہیں؟

اگر ان میں سے کسی سوال کا جواب ہاں ہے تو درج ذیل مضمون کا مطالعہ کریں اور خدا پر بھروسے کا درست مفہوم سیکھیں۔

اللہ تعا لیٰ سے تعلق کی بنیاد اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانے کے بعد ہی شروع ہو جاتی ہے لیکن عملی زندگی میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ مشکلات درپیش ہوتی ہیں اور قدم قدم پر یہ ایمان ڈگمگاتا ہے بالخصوص اس وقت جب حالات ناساز گاراور ناخوشگوار ہوں۔ ان سے نبرد آزما ہونے کے لئے اللہ پر بھروسہ، اس کی جانب سپردگی اور اس کی قضا پر راضی رہنا لازمی ہوجاتا ہے ایسا کرنے کی صورت میں ایمان ارتقاء پذیر ہوتا ہے اور اگرتوکل نہ کیا جائے تو ایمان کی کمزور ی اور با لآخر خاتمے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

توکل کا مطلب:

توکل کے لفظی معنی بھروسہ کرنا ہیں۔ بھروسہ کیا ہے؟ اسے یوں سمجھئے کہ ایک شخص صبح سے شام تک ایک ادارے میں کام کرتا ہے کیونکہ اسے اعتمادیا بھروسہ ہے کہ وہ ادارہ مہینے کے آخر میں اسے تنخواہ ادا کردے گا۔ یا ایک شخص پیناڈول پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے کھاتا ہے تاکہ اس کا سر درد دور ہوجائے وغیرہ۔اسلام میں توکل کا مطلب اللہ پر بھروسہ کرنا ، اپنی ہر ضرورت و خواہش کے لئے اس کی جانب دیکھنا اور اپنے کاموں میں اسی سے مددطلب کرنا اور اسی کو اپنا وکیل بنا کر معاملہ اس کے سپرد کردینا ہے۔

توکل کی ضرورت:

 ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دنیا کے تما م یا زیادہ تر کام اسباب وعلل کے تحت ہورہے ہیں تو پھر اللہ پر توکل کی کیا ضرورت ہے؟ یا کیا توکل صرف ان امور میں کیا جاسکتا ہے جن میں انسانی تدبیر کا عمل دخل نہیں؟ان سوالات کا تجزیہ مندرجہ ذیل ہے۔

غیر اختیاری معاملات میں اللہ پر بھروسہ:

غیر اختیاری امور سے مراد وہ معاملات ہیں جو انسانی دسترس سے باہر ہیں اور کوئی تدبیر ممکن نہیں۔ توکل کی پہلی صورت تو یہ ہے کہ ان معاملات میں اللہ پر بھروسہ کیا جائے جو انسان کی دسترس میں نہیں ہیں مثلاََ ایک شخص فجر کی نماز پڑھنے گھر سے نکلتا ہے ۔ اس بات کا احتمال ہے کہ راستے میں کوئی چور لٹیرا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے کہ اللہ اسے کسی بھی نقصان سے محفوظ رکھے گا۔یا ایک شخص کھلے آسمان کے نیچے بارش میں بھیگتا ہوا گھر جارہا ہے اس بھروسے کے ساتھ کہ اللہ اسے آسمانی بجلی سے بچائیگا۔

اختیاری معاملات میں اللہ پر توکل:

 مندرجہ بالا بیان کئے گئے توکل پر تو نہ کوئی اعتراض وارد ہوتا ہے اور نہ اسے سمجھنا مشکل ہے۔ لیکن وہ امور جو انسان کے اختیا ر میں ہیں ان پر توکل کرنے کا طریقہ اور ضرورت پر وضاحت پیش کرنا لازمی ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ وہ امور جو کسی حد تک انسان کے اختیار میں ہوتے ہیں ان پر توکل علی اللہ کیسے کیا جائے؟ اسکا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ان امور میں انسان کے بس میں جو کچھ اسباب اور تدابیر ہیں انہیں بروئے کار لانے کی کوشش کرے اور پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔ مثال کے طور پر امتحان میں کامیابی کے لئے ایک بچہ سارا سال کلاسیں لیتا اور کام مکمل کرتا ہے۔ پھر امتحان بھی دیتا ہے اور اسکا نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔ یعنی توکل یہ نہیں کہ خود کے کرنے کا کام بھی اللہ پر ڈال دے اور پھر نتیجے کا انتظار کرے۔

لیکن اس تجزئیے کے ساتھ ہی دوسرا سوال نکلتا ہے کہ جب طالبِعلم نے خود ہی تمام محنت کرلی تو پھر اللہ کی مدد و نصرت کے کیا معنی ؟ وہ تو ویسے ہی اپنی محنت کے بل بوتے پر پاس ہو جائیگا تو پھر توکل کیسا؟ اس سوال کا جب تجزیہ کیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ طالبِ علم کا امتحان میں پاس ہونا محض محنت کرنے پر ہی منحصر نہیں۔اسکے علاوہ بھی کئی دوسرے عوامل ہیں جن کی غیر موجودگی اسے ناکامی سے دوچار کرسکتی ہے۔ مثال کے طوریہ عین ممکن ہے کہ وہ امتحانی ہال میں سارا یاد کیا ہوا بھول جائے، یا اسکی طبیعت خراب ہوجائے اور وہ پرچہ دینے سے قاصر ہو، یا اسکی کاپی کھوجائے، یا چیک کرنے والا کوئی غلطی کر بیٹھے وغیرہ۔ اگر غور کریں تو محنت کامیابی کے عوامل میں سے ایک سبب ہے جسکی اہمیت اپنی جگہ لیکن کوئی بھی دوسرا فیکٹر اس کا قلع قمع کرسکتا ہے۔ لہٰذا ایک بندۂ مومن اپنے حصے کا کام کانے کے بعد نتیجہ کے لئے اللہ پر بھروساکرتا، اسی سے مدد مانگتا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کیونکہ یہ اللہ ہی ہے جو تمام عوامل و اسباب کو جانتا، انہیں سمجھتا اور انکو کنٹرول کرنے کی قدرت رکھتا ہے ۔

تفویض ورضا:

 توکل کا مفہوم جیسا کہ ابھی بتایا گیا کہ تمام ممکنہ اسباب اور تدبیر مہیّا کرکے اللہ پر بھروسا کرنا تاکہ وہ کامیابی یا مطلوبہ نتائج برآمد کردے ۔لیکن کیا ہمیشہ ہی کامیابی ملتی ہے؟ نہیں ، بلکہ توکل کرنے کے باجود کبھی ناکامی ہوتی ہے اور کبھی کامیابی ۔یہاں سے تفویض شروع ہوتی ہے جسکا مفہوم ہے کہ اس ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو یا اپنے معاملے کو خدا کو سونپ دینا اور خدا کی قضا (یعنی فیصلے ) پر اعتراض نہ کرنا۔ مثال کے طور پر ایک بچے کی طبیعت خراب ہے اسکا باپ اسے ہسپتال لے جاتا ، ڈاکٹر کو دکھاتا اور علاج کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ہے۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد اسکا بچہ مر جاتا ہے۔ اب اسے خدا کے فیصلے کو تسلیم کرلینا، اس پر راضی ہوجانا اور اپنی خواہش کو خدا کے امر کے تابع کردینا ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ اولا د کی موت پر اسے دکھ ہی نہ ہو، ایسا ہونا غیرمعقو ل بات ہے۔ تفویض و رضا کا مفہوم یہ ہے دانستہ طور پر اللہ سے شکایت سے گریز کرنا اور جزا فزااجتناب برتنا۔

تفویض ورضا کی ضرورت:

تفویض و رضا کیوں ضروری ہے ؟ یا ناکامی کی صورت میں خدا کے امر پر کیوں راضی رہا جائے؟ اس لئے کہ وہی کامل علم رکھتاہے، وہی مطلق حکمت کا مالک ہے،وہی کائنات کی مصلحتیں سمجھتا ہے۔جس طرح ایک قابلِ بھروسہ سرجن کے سامنے ایک مریض خود کو سپرد کردیتا ہے کہ سرجن جو چاہے تصرف کرے، جتنی چاہے تکلیف دے لیکن جب دل کے آپریشن کے لئے سرجن پر اعتماد کرلیا تو پھر تکلیف کی زیادتی پر اس طبیب کو برا بھلا کہنا، اس سے جھگڑنااور اسکے طریقہء علاج پر تنقید کرنا ایک حماقت اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اپنا بدن سرجن کے سپرد کردینا بظاہر ایک تکلیف دہ امر لیکن بباطن حیات کی نوید ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کے واقعے میں یہی سبق دیا گیا کہ کشتی کا ٹوٹ جانا اور اولاد کا مر جانا بظاہر ایک واضح نقصان ہے لیکن چونکہ کشتی کو ظالم حکمران کے قبضے میں جانے سے بچانا تھا اس لئے اسے توڑا گیا۔ جبکہ لڑکے کے قتل کا مقصد والدین کو ایک بہتر اولاد دینا اورانکی آخرت کے لئے راہ ہموار کرنا تھا۔ لہٰذا اللہ کے ہر امر پر سپردگی و رضا ضروری ہے۔کیونکہ اس کافیصلہ حق ہے، آخری درجے میں درست ہے، تمام پہلوؤں پر نظر رکھ کر کیا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ فیصلہ بادشاہِ حقیقی نے کیا ہے اور بادشاہ کے فیصلوں پر کیا، کیوں اور کیسے کرنا مزید تباہی و بربادی کو دعوت دینا ہے۔

توکل و تفویض پر عمل : سوال یہ ہے کہ توکل کیسے کیا جائے۔ اسے مندرجہ ذیل مرحلوں میں سمجھئے

۱۔جب آپ کسی کام کا ارادہ کریں یا کسی معاملے میں گرفتا ر ہو جائیں تو یہ دیکھیں کہ یہ معاملہ آپ کے اختیا ر اور تدبیر میں ہے یا نہیں۔اگر یہ آپ کے اختیا ر سے باہر ہے یعنی اس میں تدبیر ممکن نہیں تو ابتدا ہی میں اللہ پر توکل کرلیجئے۔ اور دعا کیجئے کہ اللہ آپ کی مراد پوری کردیں۔

۲۔ اگر معاملہ اسباب و علل اور تدبیر کا ہے تو پہلے تمام ممکنہ اسباب مہیّا کردیں اور پھر اللہ پر بھروسہ کریں۔ بہتر ہے کہ اللہ پر اعتماد کا اظہار الفاظ کے ذریعے دعا کرکے کریں۔

۳۔ نتیجہ آنے تک دعا اور توکل جاری رکھیں لیکن بہت زیادہ اس معا ملے پر ٹینشن نہ لیں کیونکہ یہ توکل کے اصول کے خلاف ہے۔

۴۔ یہ یقین رکھیں کہ نتیجہ جو بھی ہو ، خدا کے کے فیصلے پر راضی رہنا ہے یعنی ہر صورت میں خود کو اللہ کے سپرد کردیں۔

۵۔ نتیجہ اگر مثبت ہو تو اللہ کا شکر کریں

۶۔ نتیجہ منفی ہونے کی صورت میں خدا کے فیصلے پر راضی رہئے اور بے صبری، تنقید، جزا فزا سے گریز کریں۔

۷۔مزید یہ کہ شیطان کی وسوسہ اندیزی سے ہوشیار رہیں کیونکہ وہ آپ کو اللہ سے بدگمان کرنے کی کوشش کرے گا۔

۸۔ اگر ممکن ہو تو آئندہ کے لئے لائحہ عمل طے کریں اور پھر ایک نئے اعتماد کے ساتھ سفر کا آغاز کریں۔

مثال سے وضاحت:

 مندرجہ بالا عمل کو ہم ایک مثال سے واضح کر تے ہیں۔’’ میں آج صبح جب گھر سے دفتر کے لئے نکلا تو دیکھا کہ گاڑی کا ٹائر پنکچر ہے۔میں نے سوچا کیا کچھ تدبیر ممکن ہے تو جواب ملا کہ اسٹفنی لگائی جاسکتی ہے۔ ۲۰ منٹ اس میں ضایع ہو گئے ۔ پھر دفتر کے لئے سفر شروع کیا اس توکل کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ وقت پر آفس پنہچاکر افسروں کے عتاب سے بچالیں گے۔ راستے بھر دعا کرتا رہا۔ لیکن جب آفس مہنچا تو حاضری کے رجسٹر پر سرخ دائرہ لگ چکا تھا۔ باس نے طلب کیا ، میں نے عذر پیش کیا مگر باس نے قبول نہ کیا اور مجھے تحریری طور پر ایک وارننگ دے دی۔ اب تفویض و رضا ہے کہ یہ اسکا فیصلہ ہے۔ اس وارننگ پر دل دکھنا ایک فطری امرلیکن ارادی طور پر اللہ سے شکایت نہیں کرنی کہ اس میں کوئی خیر، کوئی مصلحت، کوئی آزمائیش وغیرہ کی حکمت پوشیدہ ہے۔

توکل و تفویض کے فوائد:

۱۔ خدا پر اعتماد اور ایمان میں اضافہ

۲۔ خدا سے ایک زندہ تعلق کا قیام

۳۔ آخرت میں درجات کی بلندی

۴۔ ٹینشن سے نجات

۵۔ عجلت پسندی سے نجات

۶۔ نقصان برداشت کرنے کا حوصلہ

توکل و تفویض سے متعلق چنداہم نکات:

۱۔اگر تدبیری معاملہ ہو تو تدبیر کئے بغیر یا اسباب کو نظر انداز کرکے اللہ سے کام ہو جانے کی توقع رکھنا توکل نہیں۔

۲۔ اگر معاملہ تدبیر اور اسباب سے ماوراء ہے تو اسباب مہیّا کرنے کی سعی کرنا توکل کے خلاف ہے۔

۳۔ توکل کا دعویٰ کرنے کے بعد بے چینی اور ٹینشن کا حد سے زیادہ ہونا بھی خلافِ توکل ہے۔

۴۔نتیجہ برخلاف نکلنے کی وجہ بعض اوقات تدبیر یا سمجھ کی کوتاہی ہوتی ہے لہٰذا ایسے نتیجے کو خدا کی جانب منسوب کرنا تفویض نہیں۔

۵۔نتیجہ برخلاف ہونے کی صورت میں معا ملہ پر اعتراض نہ کرنا تفویض اور رضا ہے۔

۶۔ ناکامی کی صورت میں غیر اختیاری رنج اور تکلیف کا ہونا خلافِ تفویض و رضا نہیں۔

۶۔ تفویض و رضا صبر ہی کی ایک شاخ ہے۔

آخری کلمہ: مندرجہ بالا ہدایات پر اپنے حالات کے مطابق ایک سے دو مہینے عمل کریں اور اس ضمن میں کسی بھی مشکل کی صورت میں راہنمائی کے کے لئے مندرجہ ذیل ای میل پر رابطہ کریں۔

aqilkhans@gmail.com

Advertisements

3 responses to this post.

  1. Posted by seemab qadeer on 14/05/2011 at 11:18 شام

    Even though i had prior knowledge of trust but ur article has added more knowledge n clarified my concept of ur said topic. It is presented in a very eloquent manner.Thanking u 4 ur efforts in writing this long n understandable article.

    جواب دیں

  2. i am too much impressed after reading this article now i have to believe, it will give me relief because in real life some things are not in our hand so we just have to try our best and then pray, in short i feel very happy after reading this article and i think it makes my time too much precious thanks for those friend who are working on this to translate and all these things .

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s