خبر بلا تحقیق نشر کرنا

تزکیہ نفس

ٹائٹل کی آیت:

اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی اہم خبر لائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو مبادا کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو، پھر تمہیں اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔(الحجرات ۴۹:۶)۔

سوالات

۱۔کیا آپ جانتے ہیں کہ دین میں بلا تحقیق بات پھیلانے کا کیا مطلب ہے؟
۲۔ کونسی خبریں ہیں جن کی تحقیق ضروری ہے؟
۳۔بنا سوچے سمجھے خبر پھیلانے کے کیا نقصانات ہیں؟
۴۔ اس عادت سے کس طرح بچا جاسکتا ہے؟
یہ سب جاننے کے لئے درج ذیل مضمون کا مطالعہ کریں

ٹائٹل کیس:

 ایک صاحب نے اپنے گھر کا فون نمبر ملایا ، نوکر نے اٹھایا۔ نوکر: ’’ کون ؟‘‘ ۔’’ میں تمہارا صاحب بول رہا ہوں‘‘۔ نوکر: ’’ لیکن میرا صاحب تو اندر بیٹھا ہے‘‘۔ صاحب : ’ ’ لیکن تمہاراصاحب تو میں ہوں‘‘۔ نوکر: ’’ اب میں کیا کروں؟‘‘ صاحب: ’’ لگتا ہے وہ کوئی چور ہے، اسے مار دو‘‘۔ ’’ اچھا ساب‘‘، نوکر نے جواب دیا۔ کچھ دیر بعد نوکر واپس آیا اور بولا : ’’ لاش کا کیا کروں‘‘۔ صاحب: ’’ اسے سوئمنگ پول میں پھینک کر بھاگ جاؤ‘‘۔ نوکر: ’’ مگر ہمارے گھر میں تو کوئی سوئمنگ پول نہیں‘‘۔ صاحب کچھ سوچ کر: ’’اوہ، لگتا ہے یہ میرا گھر نہیں۔ سوری، میں نے رانگ نمبر پر کال کردی‘‘۔

خبر بلا تحقیق نشر کرنے کا مفہوم:

اس آیت سے مراد یہ ہے اگر خبر کسی معاشرتی ، اخلاقی ، مذہبی یا کسی اور پہلو سے اہمیت کی حامل ہے اور اسکی اشاعت سے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں اور اس خبر کا بتانے والا کوئی شریعت کی حدودو قیود سے لاپرواہ کوئی غیر سنجیدہ شخص ہے تو اس خبر کی اشاعت سے قبل اسکی تحقیق کرلینا ضروری ہے۔
ممانعت کی وجہ: مسلمان معاشرے کو افواہوں اور انتشار سے بچانا اور باہمی اخوت و یگانگت کو فروغ دینا
بلا تحقیق معلومات کو تسلیم کرنے یا پھیلانے کے اسالیب:
۱۔ سیاسی گفتگو میں تحقیق کے بغیر بات کہنا جیسے زرداری ایک کرپٹ شخص ہے۔
۲۔مذہبی امور میں نشر کرنا جیسے احادیث یا دینی احکامات کوسند کے بغیر مان لینا یا شخصیات کے بارے میں پروپیگنڈا کرنا کہ فلاں گروہ کافر ہے وغیرہ
۳۔سماجی معاملات میں خبر نشر کرنا جیسے ساس کی سنی سنائی باتیں شوہر کو بتانا وغیرہ یا کسی قوم کے خلاف پروپیگنڈا کرنا۔

بلا تحقیق معلومات کو تسلیم کرنے یا پھیلانے کی وجوہات:
۱۔معلومات کاادھوری ہونا: مثال کے طور پر اکرم نے کہا کہ ’’احمد نے وسیم کو برا بھلا کہا اور بری طرح پیش آیا‘‘۔ اس جملے سے بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ احمد ایک بدمزاج انسان ہے۔بات یوں تھی کہ احمد نے وسیم کو نماز نہ پڑھنے پر برا بھلا کہا اور سرزنش کی۔
۲۔ الفاظ میں ہیر پھیر کرنا یا غلط مفہوم اخذ کرنا: پنجاب کے گورنر نے توہین رسالت کے قانون پر اعتراض کیا تو اس کو یہ رنگ دیا گیا کہ انہوں نے خود توہین رسالت کی ہے۔ پھر یہی بات آگے لوگوں کو منتقل کرنا
۳۔ مطلقاََ بات کا جھوٹ ہونا:
بلا تحقیق معلومات کو تسلیم کرنے یا پھیلانے کے محرکات:
۱۔تفریح کا حصول ۲۔ معاشرے میں انتشار پیدا کرنا ۳۔بے احتیاطی ۴۔غلط فہمی ۵۔لیڈر یا لوگوں کو متاثر کرنے کا جذبہ
بلا تحقیق معلومات کو تسلیم کرنے کے نقصانات:
۱۔سیاسی ابتری ۲۔بداعتمادی کی فضا ۳۔ گروہ بندی ۴۔ مسلکی اختلافات ۵۔بدگمانی ۶۔جنگ و جدل
تحقیق کرنے کے طریقے:
کسی معلومات، خبر یا افواہ کی تحقیق ، تصدیق یا تردید کرنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں اور انکا انحصار خبر کی نوعیت اور موقع محل پر ہے۔البتہ کسی بھی اہم بات کی تصدیق یا تردید کے لئے درج ذیل ذرائع استعمال کئے جاسکتے ہیں۔
۱۔علمی معلومات کی تصدیق کے لئے کتابیں یا انٹرنیٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے مثال کے طور پر کوئی یہ کہے کہ سود حرام ہے تو اس کی تصدیق قرآن کی آیت اور احادیث سے کی جاسکتی ہے۔
۲۔اخبار،ٹی وی یا ریڈیو پر کسی اہم خبر کی تصدیق دیگر ٹی وی چینل اور متعلقہ اداروں سے کی جاسکتی ہے۔
؂۳۔سماجی غلط فہمیوں کی تحقیق متعلقہ افراد سے پوچھ کر کی جاسکتی ہے۔
ؑ ؑ علاج:

۱۔خبر کی نوعیت کو دیکھیں کہ وہ اہم ہے کہ غیر اہم۔ اور کیا اس خبر کی اشاعت سے کوئی فساد پھیلنے کا اندیشہ ہے یا نہیں۔
۲۔ خبر کا حوالہ معلوم کیا جائے جیسے اگر کوئی حدیث بیان کرے تو مکمل حوالہ معلوم کیا جائے۔
۳۔ خبر پہنچانے والے پر نظر رکی جائے کہ وہ کس کردار یا عادات کا حامل ہے اور اسکا اس خبر سے کیا تعلق ہے۔
۴۔اگر خبر کو آگے بڑھائیں تو اس کو من وعن بیان کریں اور اس کا حوالہ ضرور بیان کریں۔
۵۔ اگر شک ہو کہ خبر یا مخبر میں غلطی ہو سکتی ہے تو خاموشی کئی بلاؤں کو ٹال سکتی ہے۔

سوالات برائے ڈسکشن

سوال نمبر ۱: اس کیس میں وہ کونسی خبر یا معلومات تھیں جن کی تحقیق کرنا ضروری تھی۔
سوال نمبر ۲۔ خبر کی تحقیق کی ذمہ داری کس کی تھی؟
سوال نمبر ۳: ’’بھائی مولوی صاحب کہہ رہے تھے کہ پیاز کھانا حرام ہے‘‘ ۔اکبر نے کہا ’’تم غلط کہہ رہے ہو۔ چلو چل کر پوچھ لیتے ہیں‘‘۔ مولوی صاحب سے کہا’’ میاں میں نے کہا تھا کہ بیاج(سود) کھانا حرام ہے‘‘۔اس جملے میں خبر غلط کب ہوئی اور اس کی کیا وجہ تھی؟
سوال نمبر۴: اسلم نے اکبر سے کہا کہ جیو میں بتایا ہے کہ پاکستان چوک پر دھماکہ ہو گیا ہے۔ اکبر نے جیو دیکھے بنا لیاقت کو یہ خبر پہنچادی کیا یہ خبر کو بلاتحقیق آگے بڑھانا ہے؟ وضاحت کریں۔
سوال نمبر۵: پہلے خبر کی تحقیق ضروری ہے کہ مخبر کی ؟ نیز احادیث کے ضمن میں راویوں اور متن پر ہونے والی جرح کی کیا توعیت ہوتی ہے؟
سوال نمبر ۶: پورے شہر کی بجلی پچھلے ۴ گھنٹے سے منقطع تھی ، ٹی وی چینل کی نشریات نہ سننے کی بنا پر شہر بھر میں افواہ پھیل گئی کہ ملک پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔ اس افواہ کی تصدیق و تردید کے لئے کون سے ذرائع استعمال کریں گے ؟
سوال نمبر۷: اکرم نے کسی سے سنا کہ صدر آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس نے اپنے دوستوں کو متحیر کرنے کے لئے یہ خبر آگے پھیلا دی۔ لوگ بلا تحقیق بات کیوں آگے بڑھاتے ہیں؟ اسکے اسباب بیان کریں۔
سوال نمبر ؂۸: ’’محترمہ بے نظیر کے انتقال کے چار دن بعد کسی نے افوہ اڑادی کہ فاروق ستار صاحب کو گولی مار دی گئی۔ اس سے شہر میں سراسیمگی پھیل گئی‘‘۔ سنی سنائی بات بلاتحقیق آگے بیا ن کردینے کے کیا کیا نقصانات ہیں؟
سوال نمبر۹: جاویداحمد غامدی صاحب نے فرمایا کہ سنتیں پڑھنا آپشنل ہے۔ کیا آپ نے اس فتوے کی تحقیق کی ہے؟ اگر ہاں تو کس طرح؟

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s