خبر بلا تحقیق مان لینا یا پھیلانا

ٹائٹل کی آیت: اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی اہم خبر لائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو مبادا کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو، پھر تمہیں اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔(الحجرات ۴۹:۶)
مفہوم: اس آیت سے مراد یہ ہے اگر خبر کسی معاشرتی ، اخلاقی ، مذہبی یا کسی اور پہلو سے اہمیت کی حامل ہے اور اسکی اشاعت سے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں اور اس خبر کا بتانے والا کوئی شریعت کی حدودو قیود سے لاپرواہ کوئی غیر سنجیدہ شخص ہے تو اس خبر کی اشاعت سے قبل اسکی تحقیق کرلینا ضروری ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ کونسی خبر کی تحقیق ضروری ہے؟
خبر کی تحقیق سے کیا مراد ہے؟
بلا تحقیق خبر مان لینے یا پھیلادینے کے کیا نقصانات ہیں؟
ان سب سوالات کے لئے ایک چھوٹا سا ٹیسٹ دیجئے۔
کیس اسٹدی: ’’جب حضرت یوسف علیہ السلام جوان ہوئے تو انکے آقا کی بیوی زلیخا ان پر عاشق ہوگئی اور ان پر ڈورے ڈالنے شروع کردئیے۔ ایک دن موقع پاکر اس نے گھر کے سارے دروازے بند کردئیے اور دعوتِ گناہ دی۔ آپ نے اس دعوت کا انکا کیا، اسے راہِ راست پر آنے کی دعوت دی لیکن جب وہ نہ مانی تو آپ باہر دروازے کی طرف بھاگے۔ پیچھے وہ بھی بھاگی اور انکا کرتا پکڑا لیکن وہ پھٹ گیا۔ جب آپ دروازہ کھول کر باہر نکلے تو مالک کو کھڑاپایا۔ زلیخا نے شوہر کو دیکھ کر پینترا بدلا اور الزام لگاکر کہا کہ جو شخص اپنے آقا کی بیوی پر بری نگاہ ڈالے اس کا کیا انجام ہونا چاہئے؟ حضرت یوسف ؑ نے کہا کہ اسی نے مجھے لبھانے کی کوشش کی۔ معاملہ آگے بڑھا تو ایک مدبر شخص نے کہا کہ اگر یوسف ؑ کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو یوسفؑ سچا ہے اور اگر کرتا آگے سے پھٹا ہے تو عورت سچی ہے۔جب دیکھا تو کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تھا۔ یوں ثابت ہوا کہ یوسف ؑ سچے تھے اور عورت جھوٹی تھی‘‘۔
سوالات:(۱۰ مارکس)
۱۔اس کیس میں خبر کی تحقیق کس نے کی؟(۱۔حضرت یوسف ؑ نے ۲۔زلیخا کے شوہر نے ۳۔ایک دانا شخص نے)
۲۔اس کیس میں خبر کی تحقیق کس ذریعے سے کی گئی؟(۱۔ گواہوں نے مشاہدہ بیان کیا ۲۔قرائن یعنی عقلی دلیل سے بات ثابت کی گئی ۳۔دونوں)
۳۔اگر اس کیس میں تحقیق نہ کی گئی ہوتی تو کیا ہوتا؟(۱۔حضرت یوسف ؑ پر الزام آتا ۲۔ زلیخا سچی ثابت ہو جاتی ۳۔ دونوں)
۴۔کونسی خبر کی تحقیق زیادہ ضروری ہے؟(۱۔سیاسی افواہیں ۲۔ فلمی خبریں ۳۔کرکٹ کی نیوز)
۵۔بلا تحقیق خبر آگے پھیلانے کے کیا ممکنہ نقصانات ہیں؟(۱۔خاندانی جھگڑا ۲۔سیاسی ابتری ۳۔دونوں)
۶۔ایس ایم ایس کے ذریعے بھی خبر کو پھیلایا جاسکتا ہے(۱۔صحیح ۲۔غلط)
۷۔لوگ خبر کو تصدیق کے بنا کیوں آگے بڑھادیتے ہیں؟(۱۔سستی شہرت کے لیئے ۲۔لاپرواہی ۳۔ دونوں)
۸۔اسلام کی اس بارے میں کیا تعلیمات ہیں؟(۱۔ ہر خبر کی تحقیق کی جائے ۔ ۲۔ اہم خبروں کی تصدیق کی جائے ۔ ۳۔ہر خبر کی تصدیق حکومت سے کی جائے )
۹۔مذہبی امورکی تصدیق کہاں سے کی جاسکتی ہے؟(۱۔قرآن و حدیث ۲۔دینی عالم ۳۔ دونوں)
۱۰۔کیا خبر کی تحقیق کرنے کا واحد طریقہ سائنس دانوں کے طرز کی تحقیق ہے؟(۱۔ہاں ۲۔نہیں)
جوابات
۱۔اس کیس میں خبر کی تحقیق کس نے کی؟( ۳۔ایک دانا شخص نے)
۲۔اس کیس میں خبر کی تحقیق کس ذریعے سے کی گئی؟(۲۔قرائن یعنی عقلی دلیل سے بات ثابت کی گئی)
۳۔اگر اس کیس میں تحقیق نہ کی گئی ہوتی تو کیا ہوتا؟( ۳۔ دونوں)
۴۔کونسی خبر کی تحقیق زیادہ ضروری ہے؟(۱۔سیاسی افواہیں)
۵۔بلا تحقیق خبر آگے پھیلانے کے کیا ممکنہ نقصانات ہیں؟(۳۔دونوں)
۶۔ایس ایم ایس کے ذریعے بھی خبر کو پھیلایا جاسکتا ہے(۱۔صحیح)
۷۔لوگ خبر کو تصدیق کے بنا کیوں آگے بڑھادیتے ہیں؟(۳۔ دونوں)
۸۔اسلام کی اس بارے میں کیا تعلیمات ہیں؟(۲۔ اہم خبروں کی تصدیق کی جائے ۔ )
۹۔مذہبی امورکی تصدیق کہاں سے کی جاسکتی ہے؟(۳۔ دونوں)
۱۰۔کیا خبر کی تحقیق کرنے کا واحد طریقہ سائنس دانوں کے طرز کی تحقیق ہے؟(نہیں)
اگر آپ کے مارکس ۱۰ سے کم ہیں یا آپ اس موضوع پر مزید تربیت چاہتے ہیں تو تزکیہ نفس کیٹگری میں مضمون ’’خبر بلا تحقیق نشر کرنا‘‘کا مطالعہ کریں۔

Advertisements

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s