جب زندگی شروع ہوگی۔ایک اچھوتےناول پر تبصرہ

کہانی سننا اور سنانا ہمیشہ سے انسانوں کے لیے ایک انتہائی پسندیدہ اور دلچسپ کام رہا ہے۔دورجدید میں اس تفریح نے ناول ،افسانہ، فلم اور ڈرامے کی کی شکل اختیار کرلی ہے۔ہم میں سے شائد ہی کوئی شخص ہو جس نے زندگی میں کبھی ناول یا کہانی کو سنا یا پڑھا نہ ہو۔مگر آج ہم قارئین کو جس ناول سے متعارف کرائیں گے ، وہ اپنے موضوع کے اعتبار سے اپنی نوعیت کا ایک منفرد ناول ہے۔ اس ناول کا نام ’جب زندگی شرو ع ہوگی‘ ہے اوراس کے مصنف ابو یحییٰ ہیں۔
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ناول کا مرکزی خیال آخرت کی زندگی ہے۔یہ تصور آخرت قرآن کریم کا بنیادی عقیدہ ہے، مگر حیات بعدالموت کاتصورنہ صرف غیر مسلم اقوام میں کوئی قابل تذکرہ موضوع نہں ہے،بلکہ مسلمانوں کے ہاں بھی اس حوالے سے ایک مجرمانہ غفلت پائی جاتی ہے۔ابو یحیٰ کا ناول اس مجرمانہ غفلت کو ختم کی ایک قابل قدرکاوش ہے۔ یہ ناول اس بات کا اعلان ہے کہ ہر مسئلے سے زیادہ اہم آخرت کا مسئلہ ہے۔ آج کی بھوک تو برداشت ہوسکتی ہے لیکن کل کی پیاس ناقابل برداشت ہوگی۔ آج سفارش چل سکتی ہے لیکن کل خدا کے فیصلے کو تبدیل کرنے کی طاقت کسی میں نہ ہوگی۔یہ ناول ایک جانب قوم کے مصلحین ، ادیبوں ، شاعروں کوڈرامہ نگاروں کو آخرت کا مضمون موضوع بحث بنانے کی دعوت دیتا ہے تو دوسری جانب قوم کے بیٹوں کو عبداللہ اوربیٹیوں کو ناعمہ جیسے قابل تقلید آیڈیل فراہم کرتا ہے۔
’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ کی داستان عبداللہ نامی ایک نیک اور صالح انسان کے گرد گھومتی ہے جس نے ا پنی زندگی دین کی تبلیغ ، ترویج اور اشاعت میں گذاری۔ کہانی کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ عبداللہ کا انتقال ہوچکا ہے اور وہ عالم برزخ میں قیامت کا انتظار کرہا ہے۔ایک دن اس کا ساتھی فرشتہ جس کا نام صالح بیان ہوا ہے اسے بتاتا ہے کہ اسرافیل کو اللہ نے صور پھونکنے کا حکم دے دیا ہے اور کائنات کی بساط لپیٹی جارہی ہے۔ اس کے بعد عبداللہ کو میدان محشرمیں لوگوں کی پریشانی کا مشاہدہ کروایا جاتا، ہر زمانے کے کامیاب و ناکام لوگوں سے ملوایا جاتا ، س کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دیا جاتا اور خدا کی قدرت ، رحمت، غضب اور عنایتوں کا دیدارکروایا جاتا ہے۔
اس ناول کی خوبیوں میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ قیامت ، محشر، حساب کتاب، جنت، دوزخ اور دیگر متشابہات کو قرآن و صحیح احادیث کے اجمال کی بنیاد پرپیش کیا گیا ہے۔بعض پیراگراف تو قرآن و حدیث کے بیان سے اس قدر قریب تر ہیں کہ ان کے آخر میں قرآن و حدیث کاحوالہ تک لکھا جاسکتاہے۔مصنف نے حتی الامکان کسی فرقہ واریت، اختلافی امر اور فقہی جزیات سے اجتناب برتتے ہوئے بنیادی عقائد، ایمانیات اور اخلاق کے مسلمہ اصول ہی بیان کئے ہیں۔بہت سے نازک معاملات کی تشریح مصنف نے ایک معلم کی طرح سہل انداز میں کی ہے تاکہ لوگوں کو ان تعبیرات کی تفہیم میں کوئی دقت نہ ہو۔
اس ناول میں دیگرچند ایسی خصوصیات اوربھی ہیں جنہوں نے اسے قارئین کے لیے انتہائی دلچسپ اور معلوماتی بنادیا ہے۔ پہلی خصوصیت یہ کہ ناول کی زبان انتہائی شستہ، آسان اور پر اثر ہے۔ایک ایسی دنیا جسے کسی نے دیکھا نہ ہو اس کے حالات و واقعات کو انتہائی مہارت کے ساتھ زبان کے قالب میں ڈھال دیا گیا ہے ۔ منظر نگاری کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ واقعات ذ ہن کی اسکرین پر چلتے معلوم ہوتے ہیں۔ دوسری خوبی یہ کہ تذکیر و نصیحت سے بھرپور اس ناول میں کہیں قاری کو کہیں بھی وعظ گوئی کا بھاری پن محسوس نہیں ہوتا ۔ تیسری یہ کہ روز آخرت سے متعلق ذہن میں پیدا ہونے والے کم و بیش ہر سوال کا جواب اس ناول میں سہل و آسان انداز میں دیا گیا ہے ، مگر کہیں بھی کسی علمی لیکچر کا شائبہ نہیں آتا ۔
ان سب خصوصیات کے باوجود یہ ناول اول تا آخر ایک ناول ہی ہے، جس کی کہانی میں ناول نگاری کے تمام بنیادی عناصر پوری طرح موجود ہیں۔مصنف نے اس سنجیدہ اور حساس موضوع میں مزاح ، رومانویت ،لطیف انسانی جذبوں ، رشتوں اور تعلقات کی باریکیوں کو بہت طریقے سے بیان کیا ہے۔ بعض انتہائی نازک مواقع پر بھی شائستگی اور ادب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ مثلاًحوروں کے حسن کے بیان میں وہ سلیقہ اختیار کیا ہے کہ کہ ان کا سراپا ایک زندہ حقیقت بن کر نظر کے سامنے آجاتاہے، مگر ذہن کسی شہوت یا نفسانی آلودگی کی جانب مائل نہیں ہوتا۔ یہی تمام وجوہات ہیں کہ قاری ایک مرتبہ ناول شروع کر کے دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر مختلف کیفیتوں سے گذرتا ہے۔ کبھی وہ روتا ،کبھی ہنستا،کبھی خوف خدا سے لرز تا،کبھی اس کی محبت سے سرشار ہوتا اور کبھی جنت کی وادیوں میں کھوجاتا ہے ۔پڑھنے کا اچھا ذوق رکھنے والے کسی قاری کے لیے مشکل ہے کہ وہ اس ناول کی تکمیل میں ایک یا دو نشستوں سے زیادہ لگائے۔
کہانی کا اختتام ایک ایسے پیرائے میں کیا گیا ہے جس سے یہ پرخطر اور اجتہادی کاوش ظاہر پرستانہ انگشت نمائی سے محفوظ ہوگئی ہے۔مصنف اور ان کے معاونین نے موضوع کو اس طرح چھان پھٹک کر ترتیب دیا ہے کہ اس پر تنقید نہایت مشکل امرمعلوم ہوتا ہے۔یہ ناول اردو ادب میں ایک انقلابی اقدام ہے۔ لوگ جاسوسی ، رومانوی،تاریخی اور دیگر ادب سے تو واقف تھے لیکن یہ ناول اردو ادب میں ایک نئے ادب کی ابتدا ہے جسے ’’ اخروی ادب‘‘ کہنا زیادہ موزوں ہوگا۔
یہ ناول محض ایک ناول ہی ہوتا اگراس کا موضوع آخرت نہ ہوتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس ناول کا تعلق ہر شخص کی زندگی سے براہ راست ہے۔ اسی حقیقت کو مصنف نے کچھ یوں بیا ن کیا ہے: ’’بات اگر صرف اتنی ہوتی تب بھی اس ناول کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوتا، مگر مسئلہ یہ ہے کہ جلد یا بدیراس ناول کا ہر قاری اور اس دنیا کا ہر باسی خود اس فکشن کا حصہ بننے والا ہے اور اس کے کسی نہ کسی کردار کو نبھانا اس کا مقدر ہے۔یہی وہ المیہ ہے جس نے مجھے قلم اٹھا کر میدان میں اترنے پر مجبور کیا ہے‘‘(صفحہ ۹)۔
267صفحات کا بائبل پیپر پر دیدہ زیب چھپائی کے ساتھ یہ ناول ایک گراں قدر کاوش ہے۔ اپنی ذاتی اصلاح، اہل خانہ اور رشتہ داروں کی تربیت اور دوست احباب کو دینے کے لیے یہ ایک بہترین تحفہ ہے۔یہ ناول سوئی ہوئی انسانیت کو جگانے ، لوگوں کو اپنے رب کی جانب بلانے ، قیامت کی منادی اور اس عظیم دن کی تیاری کے لئے جس دن سب تنہا خدا کے حضور کھڑے ہوکر اپنا مقدمہ پیش کریں گے، ایک بہترین راستہ ہے۔ یہ ناول چیخ چیخ کر لوگوں سے کہہ رہا ہے(شاعر سے معذرت کے ساتھ)
شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات
انداز بیاں اب تو بہت شوخ ہے ظالم
پروفیسر محمد عقیل
۲۶ جنوری ۲۰۱۱

یہ کتاب مندرجہ ذیل لنکس پر دستیاب ہے
http://www.mubashirnazir.org/ER/0023-Zindagi/L0023-0000-Zindagi.htm
http://www.al-dawah.com/
https://aqilkhans.wordpress.com/?attachment_id=538

Advertisements

4 responses to this post.

  1. عقیل صاحب! میں سوچ رہا تھا کہ اس ناول پر کچھ لکھوں مگر آپ کی یہ پوسٹ نظر سے گزری تو خیال ترک کر دیا۔ آپ نے بہت ہی اچھا تجزیہ کیا۔ ناول بلا شبہ ایک شاہکار ہے۔ از راہِ مہرباانی یہ بتائیے گا کہ کیا یہ ناول کتابی شکل میں بازار میں بھی دستیاب ہے؟ ؟

    جواب دیجیے

    • وعلیکم السلام جناب اسد صاحب
      ناول کی پسندیدگی کا شکریہ آپ چاہیں تو اب ًحی اس ناول پر کچھ لکھ سکتے ہیں میں اسے شائع کردیں گا۔
      یہ ناول کتابی شکل میں دستیاب ہے آپ اس نمبر پر رابطہ کرکے ناول کتابی شکل میں حاصل کرسکتے ہیں۔
      03132652465
      03062578775

      جواب دیجیے

  2. Posted by Mufti Tahir aAbdullah Siddiqui on 26/03/2011 at 3:02 شام

    Dear Aqil Bhai……………………..Assalamu Alaikum Wr Wb,

    Novel to tha hi Beautiful lekin aap ka us par tabsara to us say bhi ziada jaandaar hay. Allah swt aap ko is ka ajar ata frarmae. ameen.

    Regards.
    tahirabdullahsiddiqui

    جواب دیجیے

  3. Good! This novel should be spread as much as possible!

    جواب دیجیے

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s