فسادات کا علاج


ٹائٹل کی آیت:بے شک مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے بھائیوں کے درمیان مصالحت کراؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔ (الحجرات ۱۰:۴۹)
آیت: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور متفرق نہ ہوجاؤ(آل عمران۳: ۱۰۳)۔
حصہ الف : بھائی چارے کو مستحکم کرنے والے اعمال:
اخوت اور بھائی چارہ ایک عام معاشرے کا جزو لازم ہے اور مسلم معاشرے میں تو اسکی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ باہمی محبت ، مدد کا جذبہ، ہمدردی اور تعاون کرنے کا داعیہ ہی مسلم معاشرے میں خدا پرستی کے ساتھ ساتھ تعلق با العبادکی بنیادیں مضبوط کرتا ہے۔آج پاکستان کے معاشرے کا جائزہ کیا جائے تو یہ بالعموم نفرت و عداوت، فرقہ واریت، لسانی تقسیم، مذہبی تشدد اور طبقاتی کشمکش سے عبارت ہے۔
ایک مسلم معاشرے میں بھائی چارہ کے لئے درج ذیل عوامل کا ہونا ضروری ہے۔
۱۔ محبت : بھائی چارے پر مشتمل معاشرے کی بنیاد باہمی محبت ہے ۔ قرآن میں آتا ہے کہ
’’ اور خدا کی مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اسکی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے‘‘۔ (آل عمران۳: ۱۰۳)۔
اسی طرح ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ’’ قسم ہے اس جان کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے‘‘(متفق علیہ)
محبت کرنے کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کے بارے میں عمومی پسندیدگی،قبولیت اور تعاون کا رویہ رکھا جائے۔اس عمل کی ابتدا والدین سے ہوتی ہے، پھر اس میں بیوی بچے ، بھائی بہن، رشتے دار، پڑوسی، دوست احباب اور دیگر متعلقین شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔
۲۔حسن خلق: اخوت ، اتحاد اور یگانگت کے لئے دوسرا جزو اچھے اخلاق ہیں حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ’’تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں‘‘۔(متفق علیہ)۔
اسی طرح زبان دارزی اور فحش گوئی کو ایک ناپسندیدہ فعل سمجھا گیا ہے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ’’ آدمی کو گناہ کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ زبان دراز، فحش گو اور بخیل ہو‘‘۔(رواہ احمد و بیہقی فی شعب الایمان، بحوالہ مشکوٰۃ ۱۸۔۴۶۹۴)
حسن خلق کے انداز: ۱۔دھیمے لہجے میں بات کرنا ۲۔ مناسب الفاظ کا انتخاب اوراستعمال ۳۔مخاطب کے جذبات و احساسات کا لحاظ کرنا
۴۔باڈی لینگویج یعنی چہرے کے تاثرات، چال ڈھال ، ہاتھوں کے اشارے وغیرہ سے کوئی غلط پیغام دینے سے گریز کرنا، مثلاََ کسی غریب اور مفلوک الحال شخص کو دیکھ کر ناک پر رومال رکھ لینا یا ناک بھوں چڑھانا وغیرہ
بداخلاقی کے اسباب
۱۔ بے احتیاط گفتگو کی عادت: یعنی بلا وجہ بولنا ، سوچے بنا بولنا، الفاظ کا غلط استعمال، موقع کا لحاظ نہ کرنا
۲۔اونچی آواز میں بولنے کی عادت ۳۔ باڈی لینگویج پر قابو نہ ہونا ۴۔تکبرو تفاخر
۵۔ ناپسندیدگی یا نازک مزاجی: کسی کی حالت، فعل یا عادت کو ناپسند کرنا جیسے کسی مزدور کو دیکھ کر منہ پھیر لینا وغیرہ
۳۔مومن کو معاشرے کا جزو سمجھنا : اخوت کا تیسرا عامل دوسرے مسلمان کو معاشرے کا حصہ سمجھنا ہے۔حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، شفقت اور رحمت کی مثال جسم کی طرح ہے ۔جب جسم کا کوئی عضو بیمار ہوتا ہے تو بخار اور بے خوابی میں سارا بدن اس کا شریک ہوتا ہے( مسلم:۶۴۶۲
اسکا لازمی متیجہ یہ ہے کہ سیاسی، مذہبی یا دیگر بنیادوں پر کسی شخص کو معاشرے سے خارج کردینا جائز نہیں الا یہ کہ وہ کسی صریح خلاف ورزی کا مرتکب ہو۔
۴۔رحم کرنا: ایک دوسرے پر رحم کرنا ، ہمدردی کرنا، غلطیوں کو نظر انداز کرنا ، مروت برتنااور حقوق سے زیادہ فرائض کی فکر کرنا ہے۔حضرت جریر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺے فرمایا اللہ اس پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔(متفق علیہ)
۵۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر: اسی سلسلے کی ایک اور کڑی یہ ہے کہ اپنے بھائی کو غلطی پر ٹوکا جائے اور اسے نیک کام کرنے کی ترغیب دی جائے۔ قرآن میں آتا ہے کہ ’’اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں‘‘۔(آل عمران۳: ۱۰۴)
حدیث : ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو کوئی تم میں(اپنے دائرۂ اختیار میں) کوئی خلاف شرع امر دیکھے وہ اس کو ہاتھ سے روکے، اگر اسکی طاقت نہ ہو تو زبان سے توکے اور اگر اسکی طاقت بھی نہ رکھتا ہو تو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اصول: مندرجہ ذیل تین اصولوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے
الف۔ شریعت کی خلاف ورزی: کوئی ایسا کام ہورہا ہو جو اسلامی شریعت کی واضح خلاف ورزی ہو جیسے شراب پینا، چوری، زنا وغیرہ ۔ البتہ اگر یہ شریعت کی واضح خلاف ورزی نہ ہو بلکہ اس میں دو آراء ہوں تو اپنا نقطہ نظر بیا ن کرکے مدعو کے نقطہء نظر کی قدر کی جائے ۔ مثلاََ اگر محرم کا حلیم کھانے پر اختلاف ہے تو اپنا نقطہء نظر بیا ن کرکے دوسری رائے کو نقطہء نظر کا اختلاف سمجھا جائے۔
ب۔دائرۂ کار کا متعین ہونا: دوسرا اصول یہ ہے کہ معروف کا حکم اور منکر سے بچنے کی تلقین کرنے کا مکلف ایک شخص اپنے دائرۂ کار میں ہے اس سے باہر نہیں۔ مثال کے طور پر ایک باپ اپنے دس سالہ بچے کو نماز نہ پڑھنے پر ڈانٹ اور مار سکتا ہے لیکن وہ یہ عمل پڑوسی کے بچے پر نہیں کرسکتا۔ دائرۂ کار انتہائی ضروری ہے ورنہ نتیجہ الٹ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص بازار میں آنے جانے والی بے پردہ عورتوں کو زبردستی نقاب پہنانا شروع کردے تو انجام فساد ہی ہے۔
ج۔ حکمت : تیسرا اہم اصول حکمت ہے۔ اس کے لئے مختلف اسالیب اختیا ر کرنے ضروری ہیں۔ بعض اوقات بنا حکمت امر بالمعروف یا نہی عن المنکر سے نتیجہ برعکس پیدا ہوجاتا ہے۔ مثلاََ کسی شخص کوغلط انداز میں کی گئی نماز کی تلقین اسے رہی سہی نمازوں سے بھی متنفر کر سکتی ہے۔
حصہ ب : بھائی چارے کو تباہ کرنے والے اعمال
بھائی چارہ قائم کرنے کے لئے مندرجہ بالا اقدامات کا اطلاق ہی کافی نہیں بلکہ درج ذیل افعال سے گریز بھی ضروری ہے۔
۱۔لڑائی جھگڑا اور قتال سے گریز
آیت: اور جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے اس کی سزا جہنم ہے۔اس میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔اور اس پر اللہ کا غذب اور لعنت ہوئی اور اس کے لئے ایک بڑا سخت عذاب تیا ر کر رکھا ہے(النساء ۴:۹۳)
حدیث: عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا گناہ اور اس کو قتل کرنا کفر ہے(متفق علیہ)
ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سچ بولنے والوں کو بہت زیادہ لعنت کرنے والا نہیں بننا چاہئے۔(مسلم)
ہماری سوسائٹی میں لڑائی جھگڑوں کی مختلف صورتیں
الف۔خاندانی لڑائیاں: جیسے باپ بیٹوں، بھائیوں اور بہنوں، ساس نندوں، شوہر بیوی میں اور دیگر رشتوں میں ناچاقیاں۔ ان کے بنیادی اسباب حسد، تفاخر، انا اور دیگر اخلاقی کمزوریاں ہیں۔
ب۔ ساتھیوں سے لڑائی جھگڑا: ساتھیوں سے مراد پڑوسی، دوست، دفتر میں ساتھ کام کرنے واے افراد، بس یا کسی اور سواری کے ساتھی مسافر،مستقل پیدل چلنے والے ساتھی، سڑک پر ساتھ گاڑی چلانے والے لوگ سب شامل ہیں۔ ان سے اختلافات کے بنیادی اسباب میں مفادات کا ٹکراؤ، حرص و لالچ، خود غرضی و مفاد پرستی وغیرہ شامل ہیں۔
ج۔ مذہبی لڑائیاں: مختلف قسم کے مذہبی گرہوں ، فرقوں اور مسالک کے اختلافات اس نوع میں شامل ہیں۔ ایک دوسرے پر لعن طعن، کافر قرار دینا، اسلحہ اور تشدد کا راستہ اختیا کرلینا وغیرہ اسکی مختلف صورتیں ہیں۔ان اختلافات کا سبب علما اور انکے پیروکاروں میں عدم برداشت، تکبر اور تعلیم کی کمی ہے۔
د۔ سیاسی لڑائیاں: سیاسی تنظیموں میں پیدا ہونے والے اختلافات دولوں میں رنجش، چپقلش، تلخ کلامی اور بالآخر تشدد کی راہ اختیار کرنے کا سبب بن جاتے ہیں ۔ انکا سبب بھی عدم برداشت، جمہوریت کی روح سے ناآشنائی، تکبر اور علم کی کمی ہی ہیں۔
ہ۔ طبقاتی کشمکش: امیری و غریبی میں بڑھتی ہوئی خلیج ایک ایسا طبقہ پیدا کرتی ہے جو تشدد کی راہ اختیار کرتا، رہزنی و ڈاکے کو حق سمجھتا، لوگوں کی عزتیں لوٹتا، انہیں جانوں سے محروم کرتا اور مختلف قسم کے جھگڑوں اور قتال کا سبب بنتا ہے۔
و۔ اداروں میں تصادم: عدلیہ، پارلیمنٹ، بیوروکریسی اور میڈیا میں تصادم بھی لڑائی جھگڑے کی ایک شکل ہے۔ اس کا سبب مفادات کا ٹکراؤ، حقوق پر ڈاکہ ڈالنااور دوسروں کو کم تر ثابت کرنا ہے۔
۲۔ نفرت اور کینہ
حدیث: ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جمعرات اور جمعہ کے دن جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کو بخش دیا جاتا ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا بجز اس شخص کے جو اپنے بھائی سے کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کو مہلت دو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں۔ (مسلم)
۳۔حسد: حدیث: ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حسد سے بچو ، حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔(ابو داؤد)
۴۔غصہ: ابو ہریرہؓ سے رویت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔ آپ نے کہا غصہ نہ کیاکر۔ اس نے بار بار یہی بات پوچھی اور ہر بار آپ نے جواب میں فرمایا کہ غصہ نہ کر(بخاری)
حدیث: ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پہلوان وہ نہیں جو پہلوان کو پچھاڑے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت نفس پر قابو رکھے۔
۵۔خود غرضی و مفاد پرستی
حدیث : حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس جان کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے(متفق علیہ)
۶۔ظلم و عدوان: حدیث : ابن عمرؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا باعث ہوگا(متفق علیہ)
حدیث : ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص پر کسی مسلمان بھائی کی آبرو ریزی یا کسی اور چیز کا حق ہو وہ اس دن سے پہلے معاف کرالے جس روز اس کے پاس نہ درہم ہوگا نہ دینار۔ اگر اس کے نیک اعمال ہونگے تو اسکے حق کے مطابق لے لئے جائیں گے اور اگر اسکی نیکیاں نہ ہونگی تو مظلوم کی برائیاں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی(بخاری)
۷۔نسلی تفاخر اور تکبر: اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے قبیلے اور جماعتیں اس لئے بنائیں کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے عزت دار وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ یقیناًاللہ دانا اور باخبر ہے۔(الحجرات۱۳:۴۹)
حدیث: جبیر بن معطم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص عصبیت کی طرف بلائے، عصبیت کے باعث لڑے اور عصبیت پر مرے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(ابوداؤد : حدیث : ۱۶۸۰)
ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہے(مسلم)
۸۔اہم خبر بلا تحقیق آگے پہنچانا
’’اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی اہم خبر لائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو مبادا کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو، پھر تمہیں اپنے کئے پر پچھتانا پڑے‘‘۔(الحجرات ۶:۴۹)
۹۔تمسخر،عیب جوئی اور بہتان تراشی ،برے القاب سے پکارنا
’’اے ایمان والو! نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں کیا عجب وہ ان سے بہترنکلیں۔ اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب لگاؤاور نہ برے القاب دو۔ ایمان کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم لوگ ہیں‘‘۔(الحجرات۱۱:۴۹)
۱۰۔غیبت
۔۔۔۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ دیکھو اس چیز کو تم خود بھی ناگوار سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (الحجرات ۴۹: ۱۲)۔
۱۱۔بدگمانی اور تجسس
اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں۔اور ٹوہ میں نہ لگو(الحجرات۱۲:۴۹)

2 responses to this post.

  1. Posted by seemab qadeer on 03/04/2011 at 10:37 صبح

    An excellent article on reformation of soul by quoting ayats from the Quran-e-Hakim and Hadith. Besides u have given many examples of our Pakistani society as to how we are involved in all the things which are forbidden and if we act accordingly we can avoid all the harm which is prevalent in our society and then can work towards progress in this world and hereafter.For this we all have to read the Quran-e-Hakim with meaning and pray to Allaah all mighty to guide us on the straight path.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s