قدرتی آفات کا فسلفہ


پچھلے سال اگست اور اس سال ستمبر پاکستان کے لئے سیلاب کا پیغام لے کر آیا۔ کروڑ سے زائد افرادبے آسرا ، لاکھوں مکانات دریا برد اور ہزاروں مویشی خس وخاشاک بن کر بے رحم موجوں کی نظر ہوئے۔ میڈیا نے ان اجڑی ہوئی بستیوں کو آڑے ہاتھوں لیایوں پورے ملک پر حقیقت آشکار ہوئی کہ تباہی معمولی نہیں بلکہ انتہائی غیر معمولی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ایک بحث کا آغاز ہوا کہ یہ سیلاب کیوں آیا؟ کیا یہ خدا کا عذاب ہے؟ کیا یہ ریاست کی روایتی کوتاہی ہے؟ یا یہ محض اسباب و علل کی دنیا کا الٹ پھیر ہے جسکا شکار آج دیہات ہیں اورکل کوئی اور علاقہ ہوگا؟
اس سیلاب کے تین عوامل ہیں۔ پہلا سبب مادی، دوسرا اخلاقی اور تیسرا مذہبی ہے۔ جہاں تک مادی پہلو کا تعلق ہے تو سیلاب کی ابتدا کا بنیادی سبب یہی فیکٹر ہے۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا کا درجہء حرارت بڑھ رہا ہے۔ دریائے سندھ جوبظاہر ایک پرسکون اور خاموش دریا کی حیثیت سے جانا جاتا رہا ہے یہ ۶ ہزار سال قبل ایسا نہ تھا۔اسکی بپھری ہوئی موجیں انسانی آبادی میں داخل ہوتیں اور اور تباہی کا باعث بنا کرتیں۔ اس زمانے میں بحیرہء عرب کا درجہء حرارت زیادہ تھا جو شدید بارشوں کا سبب بنتا تھا۔ آج دوبارہ سمندر کا ٹمپریچر بڑھ رہا ہے جس سے پیدا ہونے والے بادلوں کی کثافت میں اضافہ اور بارشوں کی شدت میں تیزی آرہی ہے۔ رواں مون سون کے سیزن میں ایک ماہ میں اتنی بارش ہوئی جتنی تین ماہ میں ہوتی ہے ۔لہٰذا دریائے سندھ ابل پڑا۔ ایک اور مادی سبب ڈیمز کا نہ بننا ہے جسکی موجودگی اس اضافی پانی کو ذخیرہ کرتی اور سیلاب سے بچاؤ کا ذریعہ بنتی۔ تیسر ا سبب جنگلات کی کٹائی ہے ۔ درختوں کی عدم موجودگی میں میدانی علاقے بپھری موجوں کے لئے تر نوالہ ثابت ہوتے ہیں۔
ٓاخلاقی انحطاط بھی اس سیلاب کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کرپشن اور ذاتی مفادات کی وجہ سے درخت کٹتے رہے ۔ محکمۂ آب کی غفلت ، لاپرواہی اور کام چوری سے دریا اور نہروں کے پشتے کمزور ہوتے رہے، محکمہء موسمیات کی قبل ازوقت وارننگ کے باوجود ریاستی اداروں کی سستی جاری رہی۔ وڈیروں اور بااثر افراد نے بند توڑ کر پانی کا رخ بستیوں کی جانب کرنے کی کوشش کی ۔چنانچہ ان سب اخلاقی بداعمالیوں کا نتیجہ سامنے آگیا۔
مذہبی طور پر اگر اس آفت کا جائزہ لیا جائے تو اسے کسی صورت خدا کا عذاب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اللہ کے عذاب کی ایک صورت تو یہ ہے کہ وہ قومیں جو رسولوں کا انکار کر دیتی تھیں وہ نیست و نابود ہوجاتی تھیں۔ اس قسم کی صورت حال رسالت کے خاتمے کے بعد ممکن نہیں رہی۔ اگر یہ عذاب تھا تو اصل غاصب، فاسق و فاجر اور گناہ گار لوگ جنکی اکثریت بڑے شہروں میں رہتی ہے وہ محفوظ رہے جبکہ کچے گھروندے بنانے والے کسان، ہاری اور مزدور اجڑ گئے۔ عذاب کا اصل نشانہ تو بڑے مجرم ہوتے ہیں جس میں غریب اور بے قصور لوگوں کی تباہی ضمنی ہوتی ہے۔
لیکن اگر یہ عذاب نہیں تو پھر کیا ہے۔ یہ خدا کی آزمائش، اسکا امتحان اور اسکی طرف سے دیا ہو ایک چیلنج ہے۔ خدا کسی کو دے کر آزماتا اور کسی سے لے کر اسکا امتحان کرتا ہے۔ جن پر یہ مصیبت آن پڑی، ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ کس طرح صبر کرتے، آہ و بکا سے گریز کرتے اور خداکی مشیت پر اعترض کرنے سے باز رہتے ہیں۔ جو اس آفت سے محفوظ رہے انکی آزمائش یہ کہ وہ کس طرح خدا کی نعمتوں کی پہچان اور شکر کرتے، ان کو عارضی سمجھتے اور پھر اپنے مال اور جان سے اپنے بھائیوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس میں چیلنج ہے سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں اور افراد کے لئے کہ کس طرح وہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے قوم آنے والے خوراک اور دیگر بحرانوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس سیلاب میں ایک تنبیہ بھی ہے کہ نا اہل ، اخلاق سے عاری اور کرپٹ قومیں اگر اصلاح نہ کریں تو زمانہ انہیں نیست و نابود کردیتا ہے۔ چنانچہ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اصلاح کرلیں، اپنے اخلاقی امور درست کریں، خدا کے حضور ایک قوم کی حیثیت سے گڑگڑا کر اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگ کر آئندہ کے لئے اصلاح کا وعدہ کریں۔ اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم خدا کی کوئی چہیتی قوم نہیں کہ جسکے لئے قوانین تبدیل ہوجائیں۔ ۱۹۷۱ میں بنگلہ دیش کی صورت میں ایک سانحہ ہو چکا ہے اور اگر دوبارہ یہ ہوا تو ملک ختم ہو جائے گا۔ لیکن یہ سب کچھ اتنی آسانی سے نہیں ہوگا۔ محترمہ بے نظیر کے قتل کے موقع پر جو تباہی اور انارکی پھیلی اس سے کئی گنا ردعمل متوقع ہے۔ لہٰذا آج ایک قوم کی حیثیت سے سنبھلنا آپشنل نہیں بلکہ لازم ہے تاکہ ہمارے گھر، ہمارے بچے، ہماری جانیں، ہمارے مال اور ہم خود محفوظ رہ سکیں۔

2 responses to this post.

  1. Posted by SYED AFTAB HUSSAIN on 16/03/2011 at 11:52 شام

    I AGREE WITH YOU.MY BROTHER BECAUSE AS A NATION WE ARE GOING DOWN MORALLY, SOCIALLY.AS A NATION WE ARE NOT ONE NATION.WE ARE DIVIDED IN RELIGIOUSLY AND ON THE BASES OF LANGUAGES. WHEN I THINK ABOUT FUTURE OF MY COUNTRY AND ITS PEOPLE I FEEL DARKNESS AND SHAME.TODAY PAK.COURT RELEASE REYMOND DAVISTODAY IS A BLAKE DAY FOR PAKISTANI NATION. WE ARE THE WORST AND SHAMELESS NATION OF THE WORLD.AS A NATION WE HAVE NO DIGNITY,NO RESPECT.NO MORAL AND SOCIAL CHARACTER.ALLAH TALA SAVE MY COUNTRY AND ITS POOR PEOPLE FROM UN-CONSCIOUS GOVERNMENT.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s