ریمنڈ ڈیوس کی رہائی۔ فتح یا شکست


بسم اللہ الرحمان الرحیم
ریمنڈ ڈیوس نے ۲۷ جنوری ۲۰۱۱ کو دو پاکستانیوں کو قتل کردیا ۔بعد میں امریکہ اور دیگر ممالک کے دبائو کے تحت اسے دیت لے رہا کردیا گیا۔ اس معاملے پر مسلمان شدید غم و غصے کا شکار ہیں۔ میڈیا چیخ چیخ کر حکمرانوں کو دہائی دے رہا ہے۔مشتعل لوگ سڑکوں پر احتجاج کی تیاریا ں کررہے ہیں۔البتہ سنجیدہ فکر کے لوگ مخمصے میں گرفتا رہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کس قسم کا رویہ درست ہے۔کیا ڈیوس کو پھانسی پر چڑھادینا چاہئے تھا؟ کیا اس کے فرار سے ہماری سبکی ہوئی ہے؟کیا ہماری قوم ایک کمتر نسل ہے جو امریکہ کی غلامی کرتی رہے؟کیا اسلام کی تاریخ ہماری کوئی راہنمائی کرتی ہے؟ ان تمام باتوں کو جاننے کے لئے اسلامی تاریخ کا ایک اچھوتے واقعے سے راہنمائی لیتے ہیں۔
صلح حدیبیہ
چھ ہجری میں مسلمان نبی کریم ﷺ کی معیت میں احرام باندھ کر مکہ کی جانب رواں دواں ہیں تاکہ خدا کے حضور عمرہ ادا کیا جاسکے۔حدیبیہ کا مقام آپہنچا اور مشرکین کے ہرکاروں نے آگے بڑھنے سے روک دیا۔انہیں سمجھایا گیا کہ مقصد صرف عمرے کی ادائیگی ہے لیکن وہ استکبار میں نہ مانے ۔حضرت عثمان کو مکہ بھیجا گیا تاکہ وہ گفت و شنید سے معاملہ حل کریں۔ انکی شہادت کی افواہ پر مسلمانوں نے جینے مرنے کی بیعت کرلی۔ خبر غلط ثابت ہونے پر مشرکین مکہ اور مسلمانوں میں ایک معاہدے کا آغاز ہوا۔
منظر نامہ
سہیل بن عمرو قریش کے نمائندے کے طور پر حدیبیہ کے مقام پرموجود ہے ۔ پیغمبر ﷺ کے صحابہ حیرت، غم اور غصے سے اس معاہدے کو ہوتے دیکھ رہے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ ” لکھو اللہ کے نام سے جو رحمٰن اور رحیم ہے”۔ ” میں نہیں جانتا یہ رحمٰن کون ہے؟” سہیل بن عمرو نفرت سے بولا۔”بلکہ یو ں لکھو بسمک اللھم”۔ نبی کریم ﷺ نے اسکی بات مان لی۔ پھر معاہدے میں لکھا گیا ” محمد رسول اللہ کی جانب سے”۔ سہیل نے پھر مداخلت کی اور بولا” اگر میں آپ کو خد ا کا پیغمبر مانتا تو جھگڑا ہی کس بات کا تھا۔ رسول کو مٹائو اور لکھو محمد ابن عبداللہ کی جانب سے”۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی کو مٹانے کا حکم دیا لیکن انہوں نے انکار کردیا چنانچہ آپ نےخود اسے مٹا دیا۔ معاہدہ لکھا گیا ۔ جوں جوں شرائط لکھی جاتی رہیں تو ویسے ہی مسلمانوں کا غم ، غصہ اور کمتری کا احساس بڑھتا گیا۔ ہر شخص ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہا تھا گویا کہ یہ کوئی بھیانک خواب ہو۔ مسلمانوں کے کیمپ میں چاروں طرف بے چینی، اداسی اور ہزیمت پھیلی ہوئی تھی۔ ہر کوئی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا مدینے سے سیکڑوں میل کا سفر اس لئے کیا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جائیں؟ اور اگلے سال عمرے پر اگر آئیں تو وہ بھی صرف تین دن کے لئے ؟۔ کوئی مشرک مسلم ہوجائے تو وہ واپس کردیا جائے اور کوئی مسلم کافر ہوکر مکہ میں پناہ لے لے تو واپس نہ ہو؟ ابھی لوگ اسی مخمصے میں الجھے ہوئے تھے کہ ایک اور آزمائش آپڑی۔ حضرت ابو جندل مشرکین کی قید سے فرار ہو کر مسلمانوں کے پاس آگئے اور پناہ کی درخواست کی۔ وہ بیڑیاں پہنے زخموں سے چور ہیں ۔کفار مکہ کے تشددکے نشان ان کے جسم پر نمایاں ہیں۔ انکی حالت دیکھ کر ہر شخص تڑپ اٹھا ۔ ادھر سہیل بن عمرو نے ترپ کی چال چلی اور معاہدے کے مطابق ابو جندل کی واپسی کا مطالبہ کردیا۔ہر کوئی متمنی تھا کہ ابو جندل کو واپس نہ کیا جائے کیونکہ ابھی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے تھے لیکن پہلے کی طرح مشرکین کا یہ ناجائز مطالبہ بھی مان لیا گیا اور ابو جندل کو واپس کردیا گیا۔ سہیل نے مسلمانوں کو طنزیہ نظروں سے دیکھا اور صحابہ اس واقعے پر بلبلا اٹھے۔یہاں تک کہ حضرت عمر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر اور یہ لوگ باطل پر نہیں ہیں ارشاد ہوا ہاں! اس کے بعد انہوں نے پوچھا بتائیے تو پھر ہم اپنے مذہب کے بارے میں ان لوگوں سے کمزوریوں کو قبول کیوں کریں اور دین میں ان سے کیوں دبیں اور قبل اس کے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا اور ان کا فیصلہ کرے کیا ہم واپس ہو جائیں تو آپﷺ نے فرمایا اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھے کبھی رسوا و ذلیل نہیں کرے گا۔ اس کے بعد فاروق اعظم نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا کر وہی سب کچھ کہا جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا نبی کریم بیشک اللہ کے رسول ہیں جن کو اللہ کبھی بھی رسوا اور برباد نہیں کرے گا(بخاری)۔
معاہدے کے بعد رسول اللہ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ اٹھو سر منڈوالو، اور قربانی پیش کرو، راوی کہتا ہے اللہ کی قسم کوئی شخص بھی ان میں سے نہ اٹھا، یہاں تک کہ آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا، پر ان میں سے کوئی نہیں اٹھا۔ نبی کریم ﷺ افسردگی کے عالم میں اپنے حجرے میں تشریف لے گئے اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پورا واقعہ بیان کیا، جو لوگوں سے آپ کو پیش آیا تھا ، ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مشورے پر آپ باہر تشریف لائے اور ان میں سے کسی سے کچھ گفتگو نہیں کی، یہاں تک کہ آپ نے قربانی کے جانور قربان کردیئے اور اپنا سر بھی مونڈوالیا، صحابہ نے جب یہ دیکھا تو اٹھے اور انہوں نے قربانی کیاور ایک نے دوسرے کا سر مونڈ دیا، غصے کی وجہ سے یوں لگتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو مار ڈالیں گے(بخاری)۔
اس ظاہری ہزیمت پر مسلمان تو غم غصے میں تھے لیکن خدا کا پیغمبر مطمئن تھا کیونکہ اسے اپنے رب کی حکمتوں پر اعتماد تھا۔دوسری جانب قرآن کا تبصرہ اس ساری صورت حال پر با لکل برعکس تھا۔ اسی مقام سورۃ فتح نازل ہوئی جسکی ابتدا س آیت سے ہوئی۔”ہم نے تمہیں واضح فتح عنایت کی”(سورہ فتح :۱)۔
آئندہ کی تاریخ نے ثابت کردیا کہ قرآن کا بیان حرف بہ حرف درست تھا۔ مسلمانوں نے قریش کی اتنی کڑی شرائط صرف اس وجہ سے مان لی تھیں تاکہ کفار مکہ سے دس سال تک کے لئےجنگ بندی ہوجائے اور مسلمانوں کو امن نصیب ہو۔ اس پر امن ماحول میں مسلم معاشرے کی تربیت، ارتقاء اور قومی تشخص کو اجا گر کرنا اہم مقاصد تھے۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد نبی کریم نے مسلم معاشرے کو مضبوط کیا اور اپنے اصل مشن یعنی دعوت کو تیزی سے تکمیل کے مراحل تک پہنچایا۔قیصر روم، نجاشی، خسرو پرویز ، عزیز مصر اور دیگر حکمرانوں کو خطوط لکھے اور اسلام کی دعوت دی۔ مزید یہ کہ داخلی استحکا م کے لئے یہودیوں کے فتنے کا قلع قمع کیا۔
سن ۸ ہجری میں قریش کے ایک حلیف قبیلے نے بدعہدی کی اور معاہدے کو توڑ دیا ۔ یوں مسلمان بھی معاہدے کی پابندی سے باہر آگئے۔ ابو سفیان نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا کہ معاہدے کی تجدید ہوسکے لیکن اب اسلام کو طاقت مل چکی تھی اور ریاست اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی تھی۔ چنانچہ اس معاہدے کی اب ضرورت باقی نہ رہ تھی۔اسی ۸ ہجری کو مسلمانوں کو لشکر عظیم مکہ میں داخل ہوتا ہے اور با آسانی مشرکین کو فتح کرکے اسلام کا جھنڈا کعبے پر گاڑ دیتاہے۔
حدیبیہ کا سبق
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت بھی مسلمان مکہ پر چڑھائی کرسکتے تھے لیکن اس وقت خدا کی مشیت یہی تھی کہ مسلمان خود کو داخلی طور پر مضبوط کریں ، اپنی تربیت کریں ، دعوت کے پر امن مواقع کا استعما ل کریں۔ تاکہ بعد میں جب یہ مکہ میں داخل ہوں تو کم سے کم خون خرابہ ہو نیز ان مشرک لوگوں کو بھی مہلت مل جائے جو اسلام لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اگر مسلمان حدیبیہ میں مشرکوں سے ٹکرا جاتے تو ان نعمتوں سے محروم ہوجاتے جو بعد میں انہیں نصیب ہوئیں۔
ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ
ریمنڈ ڈیوس کے واقعے میں بھی یہی سبق پو شیدہ ہے۔ یہ وقت قوم کی ذلت پر ماتم کرنے کا اور امریکہ کو دہائی دینے کا نہیں۔ یہ وقت گلے پھاڑ کر احتجاج کرنے کا بھی نہیں۔ بلکہ یہ تیاری کا وقت ہے۔ اگر کوئی طالب علم تیاری کے بغیر ہی فرط جذبا ت میں آکر امتحان دینے پہنچ جائے تو اسکی ناکامی لازم ہے۔ اسی طرح کوئی قوم تیاری کے مرحلے میں اقدام کرنے لگے تو تباہی اسکا مقدر ہے۔ احتجاج کرتے ہوئے برسوں بیت گئے لیکن یہ شورو غوغا نہ مشرقی پاکستان کو الگ ہونے سے بچا سکا، نہ ایمل کانسی کو روک سکا، نہ عافیہ کی رہائی کروا سکا اور نہ ہی ڈرون حملے روک سکا۔
عزت اور ذلت کا تعلق جلسے جلوسوں، احتجاج اور چیخ پکار سے نہیں بلکہ سنجیدہ عمل سے ہے۔ صحابہ نے صلح حدیبیہ کی سخت شرائط کفار کے خلاف کوئی جلسہ نہیں کیا بلکہ اسلامی معاشرے کو مضبوط کرنے کی انتھک کوشش کی۔ جاپان نے ایٹم بم کا صدمہ برداشت کرنے کے بعد کوئی جلسے جلوس نہیں نکالے بلکہ تعلیم سے امریکہ کو شکست دی؛ جرمنی نے دوسری جنگ عظیم کی تباہی اور ذلت آمیز شکست کو خاموش ترقی سے فتح میں بدل دیا۔ہمارا بھی راستہ یہی ہے۔
آج اگر کچھ کرنا ہے تو ایمان اور اخلاق کے زیور سے خود بھی آراستہ ہوں اور قوم کو بھی تربیت دیں ۔ سائنس اور ٹکنالوجی میں مہارت حاصل کریں ۔ معاشی طور پر آزادی کی جدوجہد کریں۔ حکمرانوں پر لعن طعن کی بجائے انکی مثبت اصلاح کریں۔ کرپشن کا خاتمہ کریں۔ پھر ایک وقت آئے گا جب ہمیں بھی فتح مبین نصیب ہوگی،ہم بھی امریکہ سے برتر قوم بن جائیں گے۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو یونہی ریمنڈ ڈیوس رہا ہوتے رہیں گے، یونہی ایمل کانسی امریکہ کے حوالے کئے جائیں گے اور یونہی عافیہ صدیقی کا نوحہ لکھا جاتا رہے گا اور ایسے ہی ہماری فضا میں ڈرون طیارے دندناتے پھریں گے۔
یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں شکست ہے یا اس میں فتح مبین پوشیدہ ہے۔
ان مع العسر یسر فان مع العسر یسر

8 responses to this post.

  1. Posted by Talib hussain qamri 03017724403 on 15/09/2011 at 3:02 شام

    بہت خوب

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s