انقلاب کے بعد


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تیونس میں ایک شخص کی خودکشی کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے اور عوام سڑکوں پر نکل آئے۔کچھ ہی دنوں کے بعد صدر زین العابدین کو ملک چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔ اسی طرح مصر ، لیبیا اور بحرین میں بھی عوام اپنے حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ کچھ اسی قسم کے انقلاب کی باتیں پاکستان کے بارے میں بھی کہی جارہی ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ آیا پاکستان میں انقلاب سے سدھار ممکن ہے یا نہیں؟ نیز اس سلسلے میں اسلام کی کیا راہ نمائی ہے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ انقلاب اور انارکی میں فرق ہے۔ انارکی کا مطلب خون خرابہ، قتل و غارت گری، لوٹ مار اور لاقانونیت ہے۔ جبکہ انقلاب کا مطلب امن، سکون، قانون کی حکمرانی اور جان و مال کا تحفظ، معاشی اور معاشرتی ترقی ہے ۔البتہ یہ عین ممکن ہے کہ انقلاب کی ابتدا میں انارکی کو عارضی طور پر گوارا کرلیا جائے۔لیکن اکثر جذباتی قائدین انارکی کو انقلاب سمجھتے ہیں۔جیسے بعض جذباتی اور ان کے حمایتی قتل و غارت گری ہی کو انقلاب سے تعبیر کرتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ انقلاب میں حکمرانوں کو تختہ الٹ دینا محض ابتدا ئی مرحلہ ہے۔ حکومت کا صفایا کرنے کے بعد قوم صفر پر کھڑی ہوجاتی ہے ۔ یہاں سے از سر نو سفر کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔ یعنی انقلاب کے فوراََ بعد منزل نہیں مل جاتی بلکہ یہ ایک طویل سفر کی ابتدا ہوتی ہے۔مثال کے طور پرمشرقی پاکستان کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ مغربی پاکستان انکی ترقی میں رکاوٹ ہے اور اس نے وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ چنانچہ انہوں نے سونا ر بنگلہ کے تعاقب میں پاکستان سے علٰحیدگی اختیار کرلی لیکن انکا انقلاب سمت متعین نہ ہونے کی بنا پر مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر پایا۔
تیسرا عنصر یہ ہے کہ اگر انقلاب ایک سنجیدہ اور ہمدرد قیادت کے ہاتھوں سے آیا ہو تب بھی اس کی کامیابی کا دارومدار
قوم پر ہوتا ہے۔ اگر قوم اس تبدیلی کے لئے عملی طور پر تیار یا اہل نہیں تو خیر شر میں بدل جاتا ہے۔اسکی عمدہ مثال پاکستان کا قیام ہے۔ پاکستان جس نیک جذبے سے وجود میں آیا اس میں دو آراء نہیں لیکن چونکہ قوم اسلام کے نفاذ کا کوئی واضح تصور نہیں رکھتی تھی چنانچہ یہ ملک عملی طور پر کبھی فلاحی ریاست نہ بن سکا۔
آخری اہم نکتہ یہ ہے کہ محض حکر انوں کی تبدیلی انقلاب نہیں۔ماضی میں صدر ایوب خان،ذوالفقار علی بھٹو،جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کی تبدیلی کو قوم نے انقلاب سمجھ لیا لیکن بعد کےا دوار نے اسے ایک فریب ثابت کردیا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ ان کے بعد والے لیڈر بھی اپنے پیشرووں کی طرح کے تھے۔ گویا پاکستانی قوم صالح قیادت پیدا کرنے میں ناکام ہوگئی تھی۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت نہ بدلے۔ اور جب اللہ کسی قوم سے برائی کا ارداہ کرلے تو وہ برائی ٹل نہیں سکتی اور پھر خدا کے سوا اس کا کوئی مدد گار نہیں ہوتا”(الرعد ۱۱:۱۳)
یہ اللہ کا دو ٹوک فیصلہ ہے۔ جس طرح چہرے بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا اسی طرح نظام بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا کیونکہ نیا نظام چلانے کے لئے بھی قوم کے غیر تربیت یافتہ اور اخلاقی بیماریوں میں ملوث افراد ہونگے جو ایک اچھے نظام کو بھی جلد یا بدیر خراب کردیں گے۔اس کے لئے خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
چنانچہ مجھے اور آپ کو چاہئے کہ اللہ سے دعا کریں، عبادات یعنی نماز ،روزہ، حج زکوٰۃ کو اپنی زندگی میں نافذکریں۔ اسی طرح اخلاقی برائیوں یعنی جھوٹ، کرپشن، غیبت، بہتان، چوری، قتل، زنا ، لڑائی جھگڑا اور دیگر اخلاقی کمزوریوں سے اسی طرح گریز کریں جیسے سور سے پرہیز کرتے ہیں۔ بس ایک نسل کی بات ہےاور انقلاب آجائے گا اور اگر یہ نہیں تو پھر انقلاب تو شاید ممکن نہ ہو البتہ انارکی کا قوی امکان ہے۔

5 responses to this post.

  1. Posted by Farooq Mohiuddin on 10/04/2011 at 8:04 شام

    .I am 110% agree with Professor Muhammad aqil

    جواب دیں

  2. Posted by Mufti Tahir aAbdullah Siddiqui on 26/03/2011 at 4:30 شام

    Jo tajziya karnay ki jurrat kasakta hay usay tareeqa bhi pata hona zuroori hay otherwise wo tajziya na karey.
    Tanqeed kay saath solution bhi batana must.
    Magar Huzoor kay saamnay day one say tay tha keh jana kahan hay. Achieve kia karna hay. Lihaza inqilaab ka tareeqa bhi nabi-e-inqilab ki seerat say hi milay ga. No doubt nama…. Say hi is ka aaghaaz huwa tha magar ahdaaf to clear hon? Yaqeenan inqilaab fard ki islaah say shuru hota hay magr asal inqilaab politico socio inqilaab hi hota hay.
    Aap ka farz hay nation ko inqilaab ka tareeqa bhi bataen.
    Regrets for critical analysis.

    جواب دیں

    • U r partially right. Infact i have explained the strategy for revolution that is to tareget an individual. Political Revolution is neither my concern nor i feel it necessary for implementing islam in current circumstances.
      Ur criticism is valubale to me. I always welcome ur thoughts.

      جواب دیں

  3. Posted by Mufti Tahir aAbdullah Siddiqui on 26/03/2011 at 2:50 شام

    AOA,

    Article to acha hay dear Aqil Bhai Inqilaab (Revolution) ka tareeqa to bataen. ya sirf namaz roza kartay kartay aur sirf chori aur corruption say bach jaen aur revolution autometic ajaeey ga. is tarah to Nabi kay zamanay main bhi revolution nahin aya. ham muntazir hain keh Inqilaab kay tareeq-e-kaar par bhi aik article aap tehreer farmaen. phir ham critically jaeza lenay kay bad aap kay saath kharey hongay in sha allah

    wassalam,

    جواب دیں

    • Salam
      Thanx for ur prompt and valid feed back. In fact, Inqilaab ka tareeaqa batana meri field naheen.
      میں صرف انقلاب کے داعی حضرات کا تجزیہ کرکے اسکی غلطی یا صحت واضح کرسکتا ہوں۔ مزید یہ کہ انقلاب کا مطلب بالعمعوم سیاسی انقلاب لی جاتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو اکثر انبیا اس میں ناکام ہوگئے۔انقلاب شخصی تبدیلی کا نام ہے۔ جب فرد کی اصلاح ہوجائے گی تو سیاست ، معیشت، معاشرت اور دیگر اجتماعی معاملات خود بخود سدھر جائیں گے۔مثال کے طور پر ایک گھر کی ترقی کا راز اس میں نہیں کہ ایک اچھا منتظم اس گھر کے افراد پر موجود ہو بلکہ افراد کی اصلاح، ذاتی محنت، ترقی کی لگن، ایمانداری اور دیگر انفرادی خصوصیات پر منحصر ہے،باقی یہ بات کہ انقلاب نبی کریم کے زمانے میں نماز روزہ حض زکوٰۃ سے نہیں آیا تھا تو آپ کی بات درست ہے لیکن ابتدا یہیں سے ہوئی تھی۔ مکی دور میں آپ نے امت کو اسی تربیت کے عمل سے گذارا۔ آج امت کے مسلمانوں کو اسی تربیت کی ضرورت ہے ۔
      سلام

      جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s