خدا کے چہیتے کرکٹرز


۳۰ مارچ ۲۰۱۱ کو موہالی میں کرکٹ ورلڈ کپ کا سیمی فائنل پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا گیا ۔ میچ سے قبل پوری پاکستانی قوم نے خوب دعائیں مانگیں۔ کچھ لوگ اسے کفر و اسلام کا مسئلہ سمجھنے لگے، کچھ یہ دعوٰی کرتے نظر آئے کہ کالی کے پجاریوں پر ایک تنہا خدا کے ماننے والوں کو فتح یقینی ہے۔ کہیں آیت کریمہ کا ورد ہوا تو کہیں کسی اور صورت میں کامیابی کی تمنا کی گئی۔لیکن ان تمام کےباوجود نتیجہ بتوں کو پوجنے والی قوم کے حق میں نکلا اور تنہا خدا کو ماننے والی قوم ہار گئی۔ اس شکست پر کئی سوالات نے جنم لیا۔ کیا خدا ہم سے ناراض ہے؟ کیا ہماری دعائوں میں اثر نہیں؟ کیا خدا کو ہمارے جذبات کا کوئی احساس نہیں؟شکست سے متعلق یہ تجزیہ غلط فہمی اورمفروضات کا نتیجہ ہے۔ان سب باتوں کے درست جواب کے لئے اللہ کے قوانین کو سمجھنا ضروری ہے۔
اس دنیا کے قوانین اللہ تعالیٰ نے اسباب و علل کے تحت بنائے ہیں مثال کے طور پر آگ کی تاثیر جلانا ہے ،زہر خوری ہلاکت کا باعث ہے وغیرہ۔ چونکہ یہ اسبا ب خدا ہی کے بنائے ہوئے ہیں لہٰذا وہ لوگوں کو ان قوانین کا پابند بناتا اور انکی عمومی خلاف ورزی پر انہیں سزا دیتا ہے۔البتہ اللہ ان اسباب کا پابند نہیں اور وہ جب چاہے آگ کو گلزار بنادیتا اور زہر خوری کے نتیجے کو روک سکتا ہے۔ لیکن وہ اختیار کے باوجود عام طور پر ایسا نہیں کرتا اور معاملات کو اسباب و علل کے تحت ہی ہونے دیتا اور لوگوں کو انکے مطابق عمل کی تاکید کرتا ہے۔
دوسری جانب دعا اور توکل کی حقیقت یہ ہے کہ تمام مہیا اسباب اور تدابیر پوری کرلینے کے بعداسی پر بھروسہ کیا جائے اور اسی سے مدد مانگی جائے تاکہ انسانی کوتاہی اور لغزش کو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے مکمل کردیں۔توکل کی ابتدا عمل سے ہوتی ہے بے عملی سے نہیں ۔ اسی فلسفے کی تعلیم نے ہمیشہ پیغمبروں نےدی ۔ مثال کے طور پر بدر میں جنگ لڑنے سے پہلے مشاورت کی گئی، میدان کا جائزہ جائزہ لیا گیا ، صف بندی کی گئی اور پھر ۳۱۳ مجاہدین کے ساتھ تمام ممکنہ اسباب مہیا کرنے کے بعد یہ دعا کی گئی کہ جو ہم کرسکتے تھے کرلیا ،اب آگے تو سنبھال لے۔اس کے بعد خدا کی نصرت فرشتوں کی صورت میں آپہنچی۔ دوسری جانب جب جنگ احد میں تیر اندازوں کے گروہ نے کمزوری دکھائی تو اس کا نتیجہ وقتی ہزیمت کی صورت میں نمودار ہوا۔ اسی طرح جنگ حنین میں بھی جب کچھ مسلمانوں میں تکبر آگیا تو صفوں میں ابتری پھیلنے لگی۔یہی صورتحال حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں جنگ جمل اور جنگ صفین کی صورت میں نمودار ہوئی جس کا سبب مسلمانوں کے داخلی انتشارتھا۔
بدقسمتی سے مسلمانوں کی قیادت نسیم حجازی اور اس طرح کے جذباتی ناول نویسوں اور لیڈروں کے ہاتھ آگئی جنہوں نے پوری قوم کا رشتہ اسباب اور حقیقت کی دنیا سے منقطع کرکے معجزوں اور جھوٹی امیدوں سے جوڑ دیا۔ کبھی انہوں نے بے تیغ لڑنے کی دعوت دی تو کبھی کشتیاں جلانے کو موضوع بنایا۔
کرکٹ میں ہماری شکست ایک بہت ہی معمولی موضوع سہی لیکن ہمارے قومی روئیے کو سمجھنے میں بہت معاون ہے۔ چھ کیچز چھوڑنے اور خراب بیٹنگ کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ جیت جائیں۔ بالکل اسی طرح ہم میں سے کچھ جذباتی لوگ کرپشن کے باوجود ترقی کرنا چاہتے،نااہل حکمرانی کے باوجود دنیا پر حکومت کے متمنی اور تعلیم و اخلاق میں پیچھے ہونے کے علی الرغم دنیا کو اخلاقیات کا درس دینے پر مصر ہیں ۔
کوئی شخص اگر جانتے بوجھتے زہر کھائے اور پھر خدا سے دعا کرے تو وہ درحققیت آزما رہا ہے کہ خدا کے بنائے ہوئے زہر میں زیادہ تاثیر ہے یا اسکی دعا میں۔ اسی طرح کوئی قوم اسباب و علل سے ماورا ہوکر فتح کی خواہش مندہے تو وہ چاہتی ہے کہ خدا میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئےاسے نواز دے۔خود کو خدا کا چہیتا سمجھنا خوش فہمی ہے اور خوش فہمی کی بنیاد پر فتح کی خواہش غلط فہمی۔

5 responses to this post.

  1. بجا فرمایا آپ نے!

    جواب دیں

  2. Posted by Hammad on 03/04/2011 at 5:30 شام

    اگر یہ مضمون میچ ہارنے سے قبل لکھا جاتا تو بہتر ہوتا . اب تو ظاہر ہے “کھسیانی بلی کھمبا نوچے ” والی بات ہے . جیتنے کی صورت میں یہی صاحب لکھ رہے ہوتے ” پوری قوم دعائیں کر رہی تھی تو خدا کو آخر کسی نہ کسی نیک مسلمان کی تو سننا ہی تھی اور خراب فیلڈنگ کے باوجود ہم جیت گئے. آخری ورلڈ کپ بھی ہم رمضان مبارک میں روزہ داروں کی دعاؤں سے ہی تو جیتے تھے . سبحان الله “

    جواب دیں

  3. Posted by Mufti Tahir aAbdullah Siddiqui on 01/04/2011 at 4:38 شام

    I strongly agree with you.
    Keep it up may Allah bless you

    جواب دیں

  4. Posted by seemab qadeer on 01/04/2011 at 9:21 صبح

    Islam is very practical and believes on hard work. Your article was wonderful and rightly you have quoted so many examples during the life time of Prophet Muhammad(saw) and his ideal followers examples too. Prayers are only accepted when one works hard no matter which ever religion you follow and in this matter the Hindus were successful.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s