توکل کیا ہے؟

 

کیس اسٹڈی:
بشیر نے سن رکھا تھا کہ اگر اختتام اچھا ہو تو سب اچھا ہے۔ اسی بنا پر وہ آخری وقتوں میں امتحان کی تیاری میں مصروف تھا۔ یوں تو پورے سال اس نے بہت محنت کی تھی لیکن وہ اس محنت کے ذریعے وہ بہتر نتیجے کا متمنی تھا۔ وہ اپنے دوست مدثر کو بھی یہی سمجھاتا کہ محنت کرے لیکن مدثر ہمیشہ لاپرواہی سے کہہ دیتا کہ”بھائی اللہ مالک ہے، وہ بڑا کارساز اور غفور ہے”۔بشیر کہتا کہ ” اس دنیا میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ اسباب کے تحت ہو رہا ہے اگر تم محنت کر گے تو کا میاب ہو جائو گے اور نالائقی پر ناکام۔ معاملات دو اور دو چار کی طرح ہیں اللہ کی مدد کی کیا ضرورت ہے۔ ” انور بھی ان دونوں کی گفتگو میں شامل ہوجاتا ۔ وہ کہتا
” اگرسب کچھ خود ہی کرنا ہے تو خدا سے دعا کیوں مانگی جاتی ہے؟
اس پر بھروسہ کیوں کیا جاتاہے؟ اس سے مدد مانگنے کے کیا معنی ہیں؟
اور اگر کچھ نہ کرنے پر اللہ کامیابی عطا فرمادیں اور محنت کرنے والے کو ناکام کردیں تو یہ تو بظاہر زیادتی محسوس ہوتی ہے”۔
کیاآپ بھی بشیر کی طرح توکل سے متعلق کنفیوژن کا شکار ہیں؟
درج ذیل سوالات کا جواب دیں۔

سوالات
۱۔مندرجہ بالا کیس کی روشنی میں کس کا تصور توکل کے بارے میں درست ہے ؟(بشیر کا ، مدثر کا، انور کا، کسی کا بھی نہیں)
۲۔کیا کسی اجنبی شخص کا جھوٹا پانی پینا اور پھر خدا پر بھروسہ کرنا کہ بیماری نہیں ہوگی کیا درست توکل ہے؟(ہاں ، نہیں)
۳۔ اکرم کو ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے دل کی بیماری ہے اور اسے مرغن کھانوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اکرم نے کہا کہ اللہ مالک ہے اس پرہیز نہیں کیا۔ اس توکل کے عمل میں کیا خرابی ہے۔(۱۔بے عملی ، ۲۔لاپرواہی،)
۴۔گاڑی میں ایک اضافی ٹائر کا رکھ کر چلنا توکل کے خلاف ہے(۱۔ہاں ، ۲۔نہیں)
۵۔ موجودہ حالات میں امریکہ پر حملہ کرکےوہاں اسلام نافذ کرنے کی کوشش کرنا توکل ہے۔(ہاں، نہیں)
۶۔سلمان کے سینے میں درد محسوس ہورہا ہے مختلف ڈاکٹروں نے چیک اپ کے بعد بتایا کہ یہ کچھ نہیں بلکہ اعصابی درد ہے۔ اس کے باوجود اس کی تسلی نہیں ہورہی اور اسے وہم رہتا ہے کہ کہیں اٹیک نہ ہوجائے۔اس وہم کا کیا علاج ہے(۱۔مزید چیک اپ، ۲۔اللہ پر بھروسہ)
۷۔زبیدہ کے شوہر کا جوانی میں ہی انتقال ہوگیا۔زبیدہ کو بھروسہ ہے کہ اس کی زندگی اللہ کی مدد سے اچھی گذرے گی۔یہ توکل درست ہے یا نہیں۔(ہاں، نہیں)
۸۔حضرت عیسیٰؑ سے شیطان نے ایک دن کہا کہ سنا ہے تمہارا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ تو تم یوں کیوں نہیں کرتے کہ خود کو ایک پہاڑ سے گراکر خدا سے درواست کرو کہ وہ تمہیں بچالے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے جواب دیا کہ خدا ہمیں آزماسکتا ہے لیکن ہمیں زیبا نہیں کہ ہم خدا کو آزمائیں۔ حضرت عیسیٰ نے اس عمل کو تصور توکل کے خلاف کیوں سمجھا ؟(۱۔اس میں اسباب کی نفی تھی ،۲۔ یہ شیطان نے کہا تھا البتہ اگر کوئی اور کہتا تو جائز تھا)
۹۔ایک شخص کی گاڑی کے نیچے کوئی آگیا۔ وہ شخص جائے حادثہ سے فرار ہوگیا اور توکل کرنے لگا کہ اللہ تعالیٰ اسے بچالیں گے۔ یہ توکل جائز ہے؟(ہاں ، نہیں)
۱۰۔انعام سےانجانے میں ایک غلطی ہوگئی جس کی بنا پر اسے ملازمت سے برخاست بھی کیا جاسکتا تھا۔ لیکن چونکہ غلطی غیر ارادی تھی لہٰذا اس نے باس کو سب کچھ سچ بتانے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی اسے یہ بھروسہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے بچا لیں گے۔ یہ توکل جائز ہے؟(ہاں ، نہیں)

جوابات
۱۔ کسی کا بھی نہیں
۲۔نہیں
۳۔ لاپرواہی
۴۔ ،نہیں
۵۔ نہیں
۶۔ اللہ پر بھروسہ
۷۔ ہاں
۸۔ اس میں اسباب کی نفی تھی
۹۔ نہیں
۱۰۔ ہاں

اگر آپ توکل کو سمجھنا چاہتے اور انہیں عملی زندگی میں اپنانا چاہتے ہیں تو اس لنک پر تزکیہ نفس کیٹگری میں موجود مضمون "کیا آج توکل ممکن ہے؟”کا بغور مطالعہ کریں۔

Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by seemab qadeer on 17/04/2011 at 5:20 شام

    Before i read ur article on faith in Allah based on conditions i had somehow the same view besides I had read an article concerned with the same title u have written on.Therefore ur article added strength in my conviction.But ur article is good cause it is asking questions whether it is faith in Allah or not. Well done my brother.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s