کیا آج توکل ممکن ہے؟

 

قرآن کی آیات:
۱۔اگر تم مومن ہو تو اللہ پر ہی بھروسہ رکھو(مائدہ ۵:۲۳)
۲۔اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی (اللہ) پر بھروسہ کرنا چاہئے(یوسف ۶۷:۱۲)
۳۔وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز(وکیل )بنالو(المزمل۹:۷۳)
حدیث:
۱۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیتا ہے صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں(جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر ۲۲۵)


۲
توکل کا پس منظر:
توکل کے پس منظر کو سمجھنے کے لئےیہ جاننا ضروری ہے کہ اس دنیا میں مختلف امور کس طرح انجام پاتے ہیں۔
۱۔ اس دنیا میں ہر امر، اور کام اللہ کے اذن یعنی اجازت سے ہوتا ہے۔
۲۔اللہ کے فعل کا اظہار اس کائنات میں اسباب و علل کے پردے میں ظہور پذیر ہوتا ہے اور اس کا ایک قاعدہ اور قانون ہے جو اللہ نے خود منتخب کیا ہے۔ مثال کے طور پر بارش برسانے سے پہلے اللہ تعالیٰ بادلوں کو جمع کرتے ہیں یا ولادت سے پہلے نر اور مادہ کا ملاپ ضروری ہے وغیرہ۔
۳۔ اسی طرح اشیاء میں بھی اللہ نے کچھ مخصوص تاثیر رکھی ہیں۔چنانچہ آگ کی حدت، برف کی ٹھنڈک، زہر کی ہلاکت خیزی وغیرہ اللہ ہی کے اذن اور ارادے سے پیدا ہوئے ہیں۔
۴۔ ان سب باتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان قوانین کے پابند نہیں، چونکہ یہ تمام قوانین انہی کے بنائے ہوئے ہیں لہٰذا وہ جب چاہیں اپنے ارادے اور مشیت کے تحت ان قوانین میں ترمیم کرتے اور اسباب سے ماورا کام کرتے ہیں ۔ جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کی بن باپ ولادت یا حضرت ابرہیم ؑ کے لئے آگ کا ٹھنڈا ہوجانا وغیرہ۔
۵۔جب اللہ تعالیٰ ان قوانین اور اسباب سے ماورا کوئی کام کرتے ہیں تو اس کی بنیاد ان کا اپنا ارادہ، مشیت، حکمت اور قدرت کا ر فرما ہوتی ہے۔ لیکن انسانوں کے لئے یہ عام طور پر لازم ہے کہ وہ ان قوانین، اسباب، مادی وسائل اور تدابیر کو بروئے کار لائیں، ان کے مطابق عمل کریں ۔ یعنی ایک شخص کہ لئے قطعاََ یہ جائز نہیں کہ وہ بلاوجہ آگ میں کود جائے اور پھر توقع کرے کہ وہ جلے گا نہیں۔
ہم ان نکات کوذہن میں رکھتے ہوئے توکل کا مفہوم جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
توکل کا مفہوم
توکل کے لغوی معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں۔ اسلام کی اصطلاح میں اس کا مطلب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا،اسے اپنا کارساز اور وکیل بنانا اور ہر معاملے میں نتیجے کی امید اسی سے کرنا شامل ہیں ۔لیکن اس توکل کا مطلب اسباب و علل سے ماورا کوئی کام کرنا، مادی وسائل کی نفی کرنا اور تدبیر سے گریز کرنا ہرگز نہیں۔ اسی طرح اس توکل کا مطلب اپنی تدبیر ہی کو سب کچھ سمجھنا،محض اسباب پر تکیہ کرلینا بھی نہیں۔ پہلا طریقہ بے عملی ،سستی ، کاہلی کے طرف لے جاتا ہے تو دوسرا تکبر، انکار خدا ، ٹنشن اور مادہ پرستی کی جانب راہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کا تصور ِ توکل ان دونوں کے درمیان ہے۔ یعنی پہلے اونٹ کو باندھو اور پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔

 

توکل کی اہمیت:توکل علی اللہ کی دین میں بہت اہمیت ہے۔  اس اہمیت کو سمجھنے کے لئے چند آیات ملاخطہ فرمائیں ۔

۱۔ ” اگر تم مومن ہو تو اللہ پر ہی بھروسہ رکھو”(مائدہ ۵:۲۳)۔

۲۔ ” پس مومنوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے”(آل عمران ۱۲۲:۳)۔

۳۔” اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی (اللہ) پر بھروسہ کرنا چاہئے”(یوسف ۶۷:۱۲)۔

۴۔ “جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے”(طلاق ۳ )

۵۔ اور (اے نبی) ان سے خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہو۔پھر جب کسی بات کا پختہ ارادہ کرلو تو اللہ پر اعتماد کرو” (آل عمران ۱۵۹:۳)

۶۔بے شک اللہ توکل کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں(آل عمران ۱۵۹:۳)

۷۔ یہ وہ (صحابہ )ہیں کہ جب  لوگوں نے سنایا کہ دشمن نے تمہارے لئے بڑی طاقت اکٹھی کرلی ہے تو اس سے ڈرو، تو اس چیز نے انکے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بولے کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز(وکیل)ہے۔

(آل عمران ۱۷۳:۳)

توکل کی اقسام:
ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دنیا کے تما م یا زیادہ تر کام اسباب وعلل کے تحت ہورہے ہیں تو پھر اللہ پر توکل کی کیا ضرورت ہے؟ یا آیا توکل صرف ان امور میں کیا جاسکتا ہے جن میں انسانی تدبیر کا عمل دخل نہیں؟ان سوالات کا تجزیہ مندرجہ ذیل ہے۔
غیر اختیاری معاملات میں اللہ پر بھروسہ: غیر اختیاری امور سے مراد وہ معاملات ہیں جو انسانی دسترس سے باہر ہیں اور کوئی تدبیر ممکن نہیں۔یہ توکل کی پہلی صورت ہے مثلاََ ایک شخص اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے فجر کی نماز پڑھنے منہ اندھیرے گھر سے نکلتا ہے۔راستے میں کوئی چور یا ڈاکو اسے نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس نقصان سے بچنا اس کے اختیار میں نہیں۔ چنانچہ وہ شخص بھروسہ رکھتا ہے کہ اللہ اسے کسی چور لٹیرے کے نقصان محفوظ رکھے گا۔اسی طرح قدرتی آفات، حادثات، مالی نقصانات اور بیماریوں میں بہت سے معاملات غیر اختیاری ہوتے ہیں اور ان میں اللہ پر بھروسہ رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
اختیاری معاملات میں اللہ پر توکل:دوسری طرح کے امور وہ ہوتے ہیں جو بظاہر انسان کی دسترس میں ہوتے ہیں جیسے محنت کرکے امتحان میں کامیابی حاصل کرنا، تدبیر سے کاروبار کا منافع کمانا، دوا سے بیماری کا علاج کرنا یا احتیاط سے آنے والی مصیبت کا تدارک کرنا وغیرہ۔ ان امور میں ایک شخص کو چاہئے کہ اس کے بس میں جو کچھ اسباب اور تدابیر ہیں انہیں بروئے کار لانے کی کوشش کرے اور پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔ مثال کے طور پر امتحان میں کامیابی کے لئے ایک طالب علم سارا سال کلاسیں لیتا اور کام مکمل کرتا ہے۔ پھر امتحان بھی دیتا ہے اور اسکا نتیجہ اللہ پر چھوڑکر بھروسا کرتا ہے کہ اللہ اسے کامیاب کریں گے ۔ لیکن اس تجزئیے کے ساتھ ہی یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جب طالبِ علم نے خود ہی تمام محنت کرلی تو پھر اللہ کی مدد و نصرت کے کیا معنی ؟ وہ تو ویسے ہی اپنی محنت کے بل بوتے پر پاس ہو جائیگا تو پھر توکل کیسا؟ اس شبہے کو جب بدقتِ نظر دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے کہ طالبِ علم کا امتحان میں پاس ہونا محض محنت کرنے پر ہی منحصر نہیں۔اسکے علاوہ بھی کئی دوسرے عوامل ہیں جن کی غیر موجودگی اسے ناکامی سے دوچار کرسکتی ہے۔ مثال کے طوریہ عین ممکن ہے کہ وہ امتحانی ہال میں سارا یاد کیا ہوا بھول جائے، یا اسکی طبیعت خراب ہوجائے اور وہ پرچہ دینے سے قاصر ہو، یا اسکی کاپی کھوجائے، یا چیک کرنے والا کوئی غلطی کر بیٹھے وغیرہ۔ اگر غور کریں تو محنت کامیابی کے عوامل میں سے ایک سبب ہے جسکی اہمیت اپنی جگہ لیکن کوئی بھی دوسرا سبب اس محنت کو اکارت کرسکتا ہے۔ لہٰذا ایک بندۂ مومن اپنے حصے کا کام کانے کے بعد نتیجہ کے لئے اللہ پر بھروساکرتا، اسی سے مدد مانگتا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کیونکہ یہ اللہ ہی ہے جو تمام عوامل و اسباب کو جانتا، انہیں سمجھتا ، انکو کنٹرول کرنے کی قدرت رکھتا اور مطلوبہ نتیجہ براآمد کرسکتاہے ۔
توکل سے متعلق غلط تصورات او ر اسوہٗ نبوی ﷺ وضاحت:
توکل علی اللہ سے متعلق مسلمانوں میں بہت زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ان غلط تصورات کا جائزہ لینا اور سمجھنا ضروری ہے ورنہ اس کے نتائج دنیا اور آخرت میں منفی نکل سکتے ہیں۔
۱۔مادی وسائل کے استعمال سے گریز: عام طور پر توکل کا مطلب تدبیر، اسبا ب اور مادی وسائل کا انکار سمجھا جاتا ہے۔اس سلسلے میں کچھ بزرگوں کے قصے بھی بڑی عقیدت سے سنائے جاتے ہیں۔مثال کے طور پر ایک امیر زادی کی ایک غریب لڑکے سے شادی ہوئی۔ رات میں جب بھوک لگی تو لڑکے نے بتایا کہ کل کی ایک باسی روٹی رکھی ہوئی ہے۔ لڑکی نے ناراضگی کا کیا ۔ لڑکے نے کہا کہ میں پہلے ہی کہا تھا کہ تم مجھ جیسے غریب آدمی کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ لڑکی نے کہا کہ میں اس لئے ناراض نہیں کہ روٹی باسی ہے بلکہ اس لئے کہ تم نے روٹی کو گھر پر رکھ کر اللہ پر توکل کی خلاف ورزی کی۔ یہ تصور اسوہ رسول کے خلاف ہے اس کی وضاحت اس صحابہ کے اثر سے ہوتی ہے
“حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بعض لوگ حج کرتے تھے مگر سفر خرچ ساتھ نہ رکھتے تھے ابومسعود نے کہا یمن کے لوگ حج کرتے تھے اور سامان سفر ساتھ نہ رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو توکل کرنے والے ہیں تب اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی سامان سفر ساتھ لو اور سب سے بہتر سامان سفر پرہیزگاری ہے۔
( سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1717 حدیث موقوف)
۲۔ اسباب و تدبیر سے گریز:
کچھ لوگ تدبیر سے گریز کو توکل سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ مالک ہے۔جبکہ نبی کریم ﷺکی سیرت تدبیر اور اسباب کے استعمال کا سبق دیتی ہے۔ مکہ سے مدینہ ہجرت کے وقت مدینے کی مخالف سمت نکلنا، معاملہ خفیہ رکھنا، ایک راہ دکھانے والے سے مدد لینا، غار ثور میں پناہ لینا وغیرہ سب تدابیر تھیں۔ اسی طرح غزوہ بدر میں میدان کا انتخاب، احد میں مدینے سے باہر نکلنا، احزاب میں خندقیں کھودنا وغیرہ وہ سب وسائل تھے جو جنگ جیتنے کے لئے لازمی سمجھے گئے۔
۳۔ممکن و ناممکن کی تفریق: کچھ گروہ کسی ناممکن اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور اس کو توکل سمجھتے ہیں۔جیسے کچھ جماعتیں کسی منصوبہ بندی کے بغیر پوری دنیا پر اسلامی حکومت نافذ کرنے کے خواب دیکھتی ہیں۔اس ضمن میں سنت نبوی یہ ہے کہ مطلوبہ طاقت نہ ہونے کے سبب آپ نے ہجرت کی، مدینے میں تیاری کی ، مسلم معاشرہ کی تشکیل اور تربیت کی یہاں تک کہ ۸ ہجری میں مکہ فتح کرنے کا قصد کیا۔اگر ناممکن مقاصد کو حاصل کرنا توکل تھا تو غزوہ بدر، احد اور احزاب میں دفاع کی بجائے مکہ پر حملہ کردینا چاہئے تھا۔
۴۔لاپرواہی ،سستی اور کاہلی کو توکل سمجھنا:” اللہ مالک ہے”، ” رزق تو اللہ کے ہاتھ میں ہے”، “بھائی جو قسمت میں ہوگا وہ ملے گا”۔ اس طرح کے کئی جملے بول کر کچھ لوگ اپنی سستی، کاہلی اور بے عملی کو توکل کا رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔جبکہ توکل کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب بندے نے اپنے کرنے کا کام کرلیا ہو۔
۵۔ اسباب کو ثانوی سمجھنا: نبی کریم ﷺ کے اسوے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے تدبیر اور وسائل کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا لیکن ان اسباب پر کبھی کامل تکیہ نہیں کیا۔ مکہ فتح کرنے سے قبل اس کی پوری منصوبہ بندی کی اور جب فتح مل گئی تو ان الفاظ سے اسباب اور اپنی تدابیر پر خدا کے توکل اور نصرت کو فوقیت دی۔”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے یگانہ ہے۔ اس نے اپنا وعدہ(فتح مکہ) پورا کیا، اور اپنے بندے (محمدﷺ) کی مدد فرمائی اور تنہا تمام لشکروں کو شکست دی”۔(مسلم) ۔ یہاں آپ ﷺ نے تدابیر اور اسباب کی تحسین کی بجائے سارا کریڈٹ اللہ تعالیٰ کو دے دیا۔
توکل کاطریقہ کار
توکل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل طریقہ کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔
۱۔پہلے یہ جائزہ لیا جائے کہ کام جائز ہے یا ناجائز، ناجائز ہونے کی صورت میں کام کا ارادہ ترک کردیں۔اسی طرح یہ بھی دیکھیں کہ کام ممکن ہے کہ ناممکن۔
۲۔جائز کام کے لئے دیکھیں کہ کام کا کتنا حصہ آپ کے اختیا ر میں ہے۔جتنا حصہ اختیار میں ہے اس کے متعلق تدبیر، مشاروت، وسائل اور اسباب کو استعمال کریں۔
۳۔جتنا حصہ اختیا ر میں نہیں ہے پر بہت زیادہ تشویش میں مبتلا نہ ہوں۔
۴۔ اختیاری اور غیر اختیاری ہر معاملے میں اسباب، تدبیر اور وسائل پر بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کو ہر حکم یعنی فیصلہ کرنے والا اور قادر سمجھیں۔
۵۔ کامیابی کی صورت میں تمام کریڈٹ اللہ کو سونپ دیں کیونکہ تدبیر، وسائل اور اسباب سب اسی کے ہیں۔
۶۔ ناکامی کی صور ت میں صبر، استقامت سے کام لیں، ناکامی کے اسباب کا جائزہ لیں اور اگر ممکن ہو تو از سر نو ہمت کریں۔

توکل کے نتائج اور فوائد :
۱۔ خدا پر اعتماد اور ایمان میں اضافہ
۲۔ خدا سے ایک زندہ تعلق
۳۔ آخرت میں درجات کی بلندی
۴۔نفسیات کی اصلاح اور ٹینشن سے نجات
۵۔ عجلت پسندی سے نجات

4 responses to this post.

  1. Posted by NAWAB IKRAMULLAH KHAN on 18/04/2011 at 2:08 صبح

    اللهم صــل علٰی محمد و علٰی آل محمد كما صليت علٰی إبراهيم و علٰی آل إبراهيم انك حميد مجيداللهم بارك علٰی محمد و علٰی آل محمد كما بار كت علٰی إبراهيم و علٰی آل إبراهيم انك حميد مجيد

    جواب دیں

  2. Posted by seemab qadeer on 17/04/2011 at 5:49 شام

    Excellent article in which u clearly explained with the help of Quran-e-Hakim n the the Prophet(saw) way as 2 how (saw) practiced.

    جواب دیں

  3. very nice article

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s