معین اختر کی موت۔ایک سوالیہ نشان


کیا بادشاہ کیا گدا،کیا امیر کیا فقیر،کیا فنکار اور کیا فن کے پرستار سب کے سب موت کےہاتھوں زندگی کی بازی ہار بیٹھے۔چنانچہ معین اختر بھی چالیس سال فن کی دنیا میں راج کرنے کے بعد ۲۲ اپریل ۲۰۱۱ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کا شمارپاکستان کے ممتاز ترین کامیڈین، اداکار اور کمپیئر ز میں ہوتا تھا۔ انکی خوبی یہ تھی کہ وہ بحیثیت ایک فنکارہرکردار میں ڈھل کر اس کا حق ادا کردیتے تھے۔
معین اختر جیسے عظیم، معروف اور بڑے فن کارکی موت ہماری زندگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔کیا انسان کا مقدر اس بے بسی سے مرجانا، مٹی میں مل کر فنا ہوجانا اور کبھی واپس نہ آنے کے لئے چلے جانا ہے؟ کیا تقدیر کی الٹ پھیر میں یہی سب کچھ لکھا ہے کہ انسان محنت کرکے ایک مقام بنائے ، دولت جمع کرے، آشیانہ تعمیر کرے اور جب سکون کی گھڑیاں شروع ہوں تو موت سب کچھ چھین کر لے جائے؟ یوں تو زندگی میں پہلے ہی خوشیاں کم اور پریشانیاں زیادہ ہیں لیکن یہ کیاکہ جب سارے طوفانوں سے گذر کر زندگی کی کشتی استحکام کے ساحل تک پہنچے تو موت کا حملہ اس نائو کو عمیق اندھیروں میں ڈبودے۔
یہ تمام سوال درست اور ساری شکایتیں بجا ہوتیں اگر زندگی کا خاتمہ موت پر ہوجاتا۔ لیکن موت تو ابدی زندگی میں داخل ہونے کا دروازہ ہے۔ یہ ایک محدود اور نامکمل دنیا سے لامحدود اور مکمل دنیا میں دخول کا ذریعہ ہے۔ یہ فنا درحقیقت بقا کی ضامن ہے۔ موت ایک ایسی زندگی کی ابتدا ہے جو کبھی ختم نہ ہوگی، جہاں کامیاب لوگوں کی بادشاہت ہمیشہ رہے گی، جہاں دولت دائمی ہوگی، جہاں لذت کامل ہوگی، جہاں کا عیش کبھی زوال پذیر نہ ہوگا، جہاں باغات ،نہریں، مشروبات، دودھ شہد، محلات، خدام، ملبوسات اور ان گنت نعمتیں ہونگی۔ اور سب سے بڑھ کر اللہ کی رضا ، انکی شفقت اور پیار بھری نگاہ ہوگی۔
اللہ نے اس مختصر اور عارضی دنیا کو امتحان بنا کر ہر شخص کو موقع دیا کہ وہ خدا کی کبھی نہ ختم ہونے والی جنت کاباسی بن جائے۔لیکن انسان نے ہمیشہ اسی دنیا کو جنت بنانے کی ناکام کوشش کی۔ دوسری جانب موت کا بے رحم شکنجہ اس مقام کو ایک ناقابل اعتبار مستقر ثابت کرتا رہا۔معین اختر کی موت اسی ابدی زندگی کا آغاز ہےاس مرحلے سے معین اختر تو گذر گئے اب آپ کی اور میری باری ہے۔ دیکھیں کہ آنے والا کل ہمیں ابدی طور پر کیا دیتا ہے؟ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا؟

کل من علیہا فان، ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال ولاکرام (سورہ رحمٰن)

Advertisements

4 responses to this post.

  1. Posted by Seemab Qadeer on 25/04/2011 at 4:12 صبح

    You are absolutely right when you have written that this life is a to beginning the life which is going to start after our death. Most of us have forgotten that and we have planned to live forever in this temporary world. Well sir you have drawn a wonderful picture in form of famous comedian by the name of Moin Akther.d May Allah bless you and your family for the wonderful article you have written and drawn us to the reality of this world.

    جواب دیں

  2. Posted by Hammad on 24/04/2011 at 11:14 شام

    سکون اور خوشی محض اسی میں نہیں کہ انسان کے پاس خوب دولت ہو . کام کر کے کچھ کر دکھانے اور لوگوں کی محبت اور تحسین سمیٹنے میں بھی ایک عجیب خوشی اور سکون پنہا ہوتا ہے . اسلئے دنیا کے امیر ترین لوگ محض دولت کیلئے نہیں بلکہ مشغولی میں سکون محسسوس کرتے ہیں . آپ کا یہ استدلال کہ وہ ساری عمر دولت جمع کر کے آخر میں اس سے سکون حاصل کرنا چاہتا تھا بنیادی طور پر غلط ہے .

    جواب دیں

    • میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ سکون اور خوشی کا حصول محض دولت سے نہیں بلکہ دیگر ذرائع سے بھی کیا جا سکتا ہے میں نے صرف دولت کو اس لئے زیادہ نمایاں کیا کیونکہ وہ بہت عام ہے

      جواب دیں

  3. Posted by Syed Wahajuddin Ahmed on 24/04/2011 at 5:48 شام

    It is an excellent tribute to Moin Akhter. I can not expect a more comprehensive tribute that would cover a deceased persons accomplishments in life with a lesson embedded in it that was so eloquently taught by none other than Hazrat Aqeel Alam Khan.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s