اسامہ بن لادن اور کنفیوژن


اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن 2 مئی سن 2011 کو ایبٹ آباد میں ایک فوجی آپریشن میں مارے گئے۔ اسامہ امریکی حکومت کے لئے "انتہائی مطلوب ” شخص کی حیثیت رکھتے تھے اور امریکہ نے ان کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی۔
اسامہ 10 مارچ 1957 کو سعودی عرب میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک انتہائی متمول خاندان اور کاروباری گروپ "بن لادن ” سے تھا۔انہوں نے امریکی افواج کے سعودی عرب میں قیام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔سعودی حکومت کی لاتعلقی کے بعد وہ طالبا ن حکومت کے زیر انتظام افغانستان میں قیام پذیر ہوئے اور اطلاعات کے مطابق القاعدہ کو منظم کیا۔ان پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر ، ستمبر 11 اور دیگر حملوں کے الزامات لگے۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد وہ روپوش ہوگئے۔ ان کےبارے میں متضاد بیانات آتے رہے یہاں تک کہ 2 مئی کو پاکستان اور امریکہ کے سرکاری ذرائع نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔
اسامہ کی ہلاکت پر پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں کنفیوژن پائی جاتی ہے۔ایک طبقہ انہیں حق پر سمجھتا ، انکے مبینہ اقدام کو سراہتا اور ان کی موت کو شہادت قرار دیتا ہے۔ دوسرا طبقہ انہیں دہشت گرد گردانتا ،انکےمبینہ حملوں کو ناجائز سمجھتا اور انکے قتل پر اطمینان کا اظہار کرتا ہے۔ ان دو طبقات کے علاوہ ایک گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو کنفیوژن کا شکا ر ہے۔ اسکی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ پہلے گروپ کی بات مانے یا دوسرے گروپ کی ۔پہلے طبقے کی با ت ماننے میں اسامہ بن لادن کے بم دھماکوں، معصوم لوگوں کی جانوں کے ضیاع اور املاک کو نقصان پہنچانے جیسے اقدامات کی توجیہہ کرنا پڑتی ہے ۔دوسری جانب دوسرے طبقے کے اتباع میں امریکہ کا غلبہ اور عالم اسلام کی شکست محسوس ہوتی ہے۔ یہ شش و پنج میں مبتلا گروپ چند افراد کا نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل ہے ۔
جب یہ طبقہ اس کنفیوژن کو رفع کرنے کے لئے مذہبی راہنمائوں سے رابطہ کرتا ہے تو وہ اس بارے میں اپنے فرقے اور رحجانات کے تحت اپنی رائے کا اظہار کردیتے ہیں ۔لیکن وہ ان اصولوں کی جانب کوئی اشارہ نہیں کرتے جن کی مدد سے ایک فرد موجودہ یا مستقبل کی کسی صورت حال میں راہ نمائی حاصل کرسکے۔ اس آرٹیکل کا بنیادی مقصد اسلامی ہدایات پر مبنی چند اصولوں کی راہنمائی کرنا ہے تاکہ ایک عام مسلمان ان کی روشنی میں ایک درست رائے قائم کرسکے۔
1۔پہلا اصول یہ ہے کہ اگر کسی خبر یا اہم بات کوتسلیم کرنے سے قبل تحقیق ضروری ہے ۔[سورہ الحجرات:6:49]۔ چنانچہ اسامہ بن لادن کے کیس میں اس بات کی تحقیق کرنی ہے کہ آیا انہوں نے ستمبر 11 اور دیگر مبینہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے یا نہیں۔ اگر اس بات کی براہ راست تصدیق نہیں ہوتی تو سنی سنائی باتوں کی بجائے نیوٹرل رہنا بہتر ہے۔
2۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ اسلام میں جنگ کا اقدام کرنا حکومت کا کام ہے نا کہ انفرادی گروہوں کا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسمس نے مکہ کی 13 سالہ دور نبوت میں کوئی جنگی اقدام نہیں کیا حالانکہ اس وقت مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے گئے۔ لیکن مدینہ میں ہجرت کے بعد ہی جہاد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کو دعوت دیتے رہے لیکن انہوں نے کوئی اعلان جہاد نہیں کیا۔ البتہ صحرائے سینا میں حکومت کے قیام کے بعد جہاد کا حکم ہوا۔
3۔تیسرا اصول یہ ہے کہ ہر حال میں حق بات کہنی، سننی اور ماننی ہے خواہ یہ کسی دشمن قوم کے حق میں کیوں نہ جاتی ہو[سورہ المائدہ۔5:2]۔چنانچہ اگر کسی معاملہ میں حق امریکہ ، ہندوستان یا دیگر مخالف ملکوں کے اقدام میں ہو تو اسے محض اس بنا پر رد نہیں کیا جاسکتا کہ یہ غیر مسلموں اور دشمنوں کی طرف سے کیا گیا ہے۔ لہٰذا اگر اسامہ بن لادن یا کوئی جہادی گروپ ان ممالک پر حملہ کرتا ہے تو انہیں بھی جوابی کاروائی کا حق ہے۔البتہ اس کی صورت سے اختلاف ہوسکتا ہے۔
4۔ ایک اور اصول یہ ہے کہ ہر معاملے کو کفر اور اسلام کی جنگ قرار دینا مناسب نہیں۔ زندگی کے بے شمار معاملات سماجی، سیاسی یا دیگر دائروں سے تعلق رکھتے ہیں۔چنانچہ محمود غزنوی کا ہندوستان پر حملہ، پانی پت کی لڑائی ، کشمیر کا معاملہ یا افغانستان میں روسی افواج کی شکست وغیرہ وہ امور ہیں جن کو کفر اور اسلام کے تناظر میں دیکھنا مناسب نہیں ہے۔چنانچہ اسامہ کے کیس میں بھی اس امر کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔
5۔ پانچواں اور آخری اصول یہ ہے کہ جب فتنوں کا دور ہو اور کچھ نہ معلوم ہورہا ہو کہ کون حق پر ہے کون باطل پر تو تمام ذیلی فرقوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا، نظم اجتماعی کو برقرار رکھنا اور واضح اصولوں کے تحت زندگی گذارنا عافیت کے لئے ناگزیر ہے۔۔ یہ اصول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے واضح ہوتا ہے۔”حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لوگ (اکثر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے "خیر” کی بابت دریافت کرتے رہتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علہا وآلہ وسلم سے شر اور فتنوں کی بابت پوچھا کرتا تھا اس خیا ل سے کہ کہیں مں کسی شر و فتنہ میں مبتلا نہ ہو جاؤں۔ ایک روز میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم جاہلیت میں گرفتار اور شر مںہ مبتلا تھے پھر خداوند تعالیٰ نے ہم کو اس بھلائی (یعنی اسلام) سے سرفراز کیا ! کیااس بھلائی کے بعد بھی کوئی برائی پش آنے والی ہے؟ فرمایا ہاں! میں نے عرض کیا کیا اس بدی و برائی کے بعد بھلائی ہو گی؟ فرمایا ہاں! لیکن اس میں کدورت شامل ہو گی۔ میں نے عرض کیا وہ کدورت کیا ہو گی؟ فرمایا کدورت سے مراد وہ لوگ ہیں جو میرے طریقہ کے خلاف طریقہ اختیار کر یں گے اور لوگوں کو میری راہ کے خلاف راہ بتائیں گے تو ان میں دین بھی دیکھے گا اور دین کے خلاف امور بھی ۔ عرض کیا کیا اس بھلائی کے بعد بھی برائی ہو گی؟ فرمایا ہاں! کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو بلائں گے جو ان کی بات مان لیں گے وہ ان کو دوزخ مِن دھکیل دیں گے۔ میں نے عرض کیاکہ یا رسول اللہ! ان کا حال مجھ سے بیا ن فرمائیے تو آپ نے فرمایا وہ ہماری قوم میں سے ہوں گے اور ہماری زبان میں گفتگو کریں گے۔ مں نے عرض کیا کہ اگر مں وہ زمانہ پاؤں تو آپ صلی اللہ علہر وآلہ وسلم مجھ کو کیا حکم دیتے ہیں ۔آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑو اور ان کے امام کی اطاعت کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر اس وقت مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور امام بھی نہ ہو۔ (تو کا کروں) فرمایا تو ان تمام فرقوں سے علحیدہ ہو جا خواہ تجھے کسی درخت کی جڑ مں پناہ لینا پڑے یہاں تک کہ اسی حالت میں تجھ کو موت آ جائے”۔[صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 817 ]

Advertisements

7 responses to this post.

  1. Posted by sariya siddiqui on 22/05/2011 at 3:17 صبح

    Assalam o alaikum sir
    I am your student in master jee. you were teaching banking… I really like your views!! and this blog..
    your obeidiently student sariya siddiqui

    جواب دیں

  2. Posted by Tahir Abdullah on 05/05/2011 at 10:10 صبح

    Dear Aqil Bhai……..AOA,
    Thank you very much for your subject message.
    I strongly agreed with your article or views on subject topic.
    So nice of you, keep it up, may Allah bless you.

    Best Regards.
    Tahir Abdullah

    جواب دیں

    • Walayku Assalam
      Thanx for ur encouraging remarks. When I saw ur email on the article, i thought ke ab aap mujhe phir khari khari sunayngay kionka, on political issues, we always have difference of opinion. But Alhamdulillah, U passed it. Thanx again for ur feedback as ur few words are precious to me.

      جواب دیں

  3. Posted by seemab qadeer on 04/05/2011 at 4:58 شام

    Very good article about right and wrong concerned with Islam and against Islam by quoting examples from Hidth for the guidance of Muslims provided they read for understanding and learning the correct message. Please correct the mistakes.

    جواب دیں

  4. Posted by aamir nadeem on 03/05/2011 at 8:52 صبح

    impressive but many mistakes in the writing so difficult to read.

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s