ہماری تباہی کا ذمہ دار امریکہ ہے؟


دسمبرکی ٹھٹھرتی ہوئی رات ہے۔سردہوائیں پتوں سے ٹکرا کر سرسراہٹ کوجنم دے رہی ہیں۔ تاریکی نے قبرستان کے چاروں طرف ڈیرے ڈال دئیے ہیں۔ اس ہولناک ماحول میں احمد آہستہ آہستہ اپنے داداکی قبرکی جانب بڑھ رہاہے، جہاں وہ دوپہرکواپنے کچھ کاغذات بھول گیاتھا۔ احمدکواپناہاتھ بھی سجھائی نہیں دے رہا۔ ٹوٹی ہوئی ویران قبریں، برگدکی پرانی جڑیں اورتاریکی میں لپٹی ہوئی فضائیں اس کے اوسان خطاکیے دے رہی ہیں۔ کبھی یوں لگتاکہ پیچھے سے کوئی بلارہاہو، کبھی اندھیرے میں عجیب وغریب شکلیں نظرآتیں توکبھی دورکہیں بین کرنے کی آوازکانوں سے ٹکراتی۔قبرابھی دورتھی اور احمد کے اعصاب جواب دے رہے تھے۔ بدن پرلرزہ طاری تھااورپیشانی عرق آلود۔ وہ اسی خوف کے عالم میں غلطاں تھا کہ اچانک کاندھے پر ایک بوجھ محسوس ہواا۔وہ سمجھا کہ کوئی بھوت ہے۔ بس یہ خیال آنا تھا کہ وہ بے ہوش ہوکرگرنے لگا ۔ اسی اثنا میں کسی نے اسے تھام لیا۔یہ گورکن تھا۔
گورکن اسے اپنی کٹیامیں لے آیا۔پانی وغیرہ پلاکراسے سمجھانے لگا۔’’بیٹامیں شب و روز یہیں گذارتاہوں لیکن مجھے کوئی مردہ، کوئی بھوت تنگ نہیں کرتا۔یہ تمام آوازیں اور شبہات تمہارے ذہن کی ایجادہیں خارج میں ان کاکوئی وجودنہیں۔اپنے دماغ کوقابوکرلو،خارج کی تمام نادیدہ مخلوقات خودہی فناہوجائیں گی‘‘۔بات احمدکی سمجھ میں آگئ ۔اب وہ اعتمادسے اٹھااوراسی تاریک اورخوفناک ماحول میں قبرتک گیا،کاغذات اٹھائے اور اطمینان سے گھرچلاگیا۔
خارجی خوف کایہ معاملہ قبرستان تک محدودنہیں بلکہ یہ روزمرہ کی زندگی میں بھی پایاجاتاہے۔اس کی بہترین مثال امریکی بھوت ہے جو اکثر پاکستانیوں کے دماغ پربری طرح مسلط ہوگیاہے۔ چنانچہ معیشت کی تباہی،سیاسی اکھاڑ پچھاڑ، آئی ایس آئی اور فوجی سربراہ کی تقرری ہو یا کوئی اور مسئلہ ۔ یہ امریکہ گزیدہ لوگ ہرمعاملہ میں امریکہ کو قصور وار ٹہرا کر مطمئین ہو جاتے اور خودکوبری الذمہ قراردے دیتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ امور ایسے ہیں جن میں امریکی مداخلت عیاں ہے مثال کے طور پرڈرون حملے، آی ایم ایف کا تسلط وغیرہ لیکن ان سب کی بنیادی وجہ ہماری کمزوری ہے۔ ہماری مدافعت اتنی کمزور ہے کہ ہم کسی قسم کی مدافعت ک اہل ہی نہیں۔ چنانچہ ریمنڈ ڈیوس کا فرار، اسامہ کا قتل اور دیگر امور میں شکست ہماری کمزوری کی عکاس ہے۔
لیکن دوسری جانب ہزاروں معاملات ایسے ہیں جن میں امریکہ کو قصور وار ٹہرانا اسے بھوت ماننے کے مترادف ہے۔ٹریفک کی بدنظمی کاذمہ دارامریکہ نہیں ہم خودہیں، تعلیمی اداروں میں نقل ہم کرواتے ہیں، اداروں کی بدعنوانی ہمارے ہی دم سے تابندہ ہے، مساجدپرحملے ہمارے ہی تربیت یافتہ’’مجاہد‘‘کرتے ہیں، ملک کودولخت ہم نے ہی کیاہے۔ تعصب کے بیج ہم خودبوتے ہیں اورالزام دھرتے ہیں کہ’’یہ سب امریکہ کروارہاہے‘‘۔
اگرکوئی شخص قبرستان میں خوف کی وجہ سے مرجائے تودنیاکی کسی عدالت میں بھوتوں کوقاتل ثابت نہیں کیاجاسکتا۔بالکل اسی طرح اگرکوئی قوم’’امریکی بھوت‘‘کے خوف سے تباہ ہوجائے توقاتل وہ بھوت نہیں بلکہ وہ قوم ہے۔

Advertisements

9 responses to this post.

  1. Posted by Wasim Ghani on 28/05/2011 at 1:45 شام

    امریکہ بھوت ہو یا نہ ہو۔۔۔ لیکن یہ مسلمہ حقیقت ہے اور ہمیں اس پر یقین کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں اس وقت جو نظام رائج ہے وہ امریکہ کا سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کوئی قیاس آرائی نہیں بلکہ یہ حقیقت پر مبنی ہے، اب جہاں تک ملک میں پیدا ہونے والے مسائل کا تذکرہ ہے تو غلط راستے پر چل کر انسان اچھائی اختیار نہیں کر سکتا بشرطیکہ آپ کو کوئی اچھا راستہ نہ مل جائے۔ یہ غلط راستہ جو ہمارے حکمرانوں نے استعمال کیا ہوا ہے وہ یہی سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ ہمیں سہی راستہ تلاش کرنا ہے اور سہی راستہ وہی ہے جن پر چل کر ہمارے آباءاجداد نے اچھی اور آسان زندگیاں گزاریں ہیں، ان کے دور میں مال و دولت جمع کرنے کا کوئی کانسیپٹ نہیں ہوا کرتا تھا۔ بلکہ مال و دولت معاشرے کے تنگ دست لوگوں پر خرچ کرنے کو ترجیح دی جاتی تھی۔

    ٹریفک کے مسائل تو ان لوگوں کو ہیں جن کے پاس ذاتی گاڑیاں ہیں اور میرا خیال ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔

    جب بھی کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو میجورٹی کو مد نظر رکھا جاتا ہے، لیکن سرمایہ دارانہ نظام کا یہ خاصہ ہے کہ اس میں فرد واحد ہی پوری سلطنت کا مالک ہے اور ملک میں بننے والی تمام پالیسیاں صرف و صرف چند فیصد ایلیٹ کلاس ہی کی ترجمانی کرتی ہیں۔ جب صورتحال یہ ہے تو پھر کسی بھی معاشرے میں مساوات قائم کرنا اور حق داروں تک ان کا حق پہنچنا ناممکن ہوتا ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو سکے گا تو جو صورتحال پیدا ہوچکی ہے اس کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ ایسے سسٹم کے تحت جہاں غریب، غریب تر ہوتا جائے اور امیر، امیر تر ہوتا جارہا ہو، ایسے معاشرے سے آپ اگر اخلاقیات برقرار رکھنے کی توقع رکھتے ہیں تو میں اس کو سراسر حماقت سمجھتا ہوں اور کچھ نہیں۔

    جواب

    • السلام علیکم
      آپ کی گفتگو سے مجھے جزوی طور پر اتفاق ہے۔ اگر سرمایہ دارانہ نظام ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے تو پھر پاکستان کی تمام عدالتیں ختم کردینی چاہئیں اور ہر ملزم کو چھوٹ دے دینی چاہئے کہ وہ اس نظام کی بنیاد پر کچھ بھی کرتا پھرے اور مورد الزام امریکہ یا مغربی نظام کو قرار دے ۔

      جواب

      • Dear Professor,
        You are missing the basic point here. If Capitalism is the root cause of our problems, then the solution is to pull it out and implement the perfact system which Allah granted us with.

        The problem of our society is the conflict of our system/constitution with our Aqeedah. As long as this conflict prevails, there is no hope for our revival. The corruption you mentioned is a direct result of these foreign agents who call themselves our rulers. People of Pakistan DID NOT vote for them. The election result is a clear indication of this fact. Recall figures!

        I shall help you in recalling it, the official statement said there was 44% voting. 44% of voters list which has just 78.6 million registered voters. That makes it just 41% of our total population. Do the maths, total percentage of people who voted = 44% of 41% of 170 million!

        This is somewhere near 20% of total. Democarcy = voice of majority.Here, the majority has REJECTED the whole political medium bcz the majority has rejected those who participate in capitalism! If our rulers are in minority and do not represent us, then how can WE be responsible for their problems??? Yes we are responsible by letting them stay on our heads and by not establishing Islamic State! Indeed Allah shall hold us accountable for neglacting this huge responsiblity.

        My sincere advice: Stop blaming people for what they not responsible for! Stop covering USA and its AGENSTs for their crimes against Muslim Ummah. Call Muslims to unite for Khilafah!

        Wassalam,
        Your Brother Abdullah

        جواب

  2. سلام مسنون
    مکرمی پروفیسر صاحب
    بہت اچھی مثال سے ایک اہم مسئلے کو واضح کیا۔ لیکن دھماکوں سے امریکہ کو یکسر بری الذمہ قرار دینا کلی طور پر مجھے درست معلوم نہیں ہوتا۔
    جس حکمت عملی کے ساتھ یہ کام ہو رہا ہے، بطور خاص فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے پیچھے بہت جدید تربیت شامل ہے اور یہ کام مقامی طالبان یا القاعدۃ کے نہ بس میں ہے اور نہ ان کا یہ طریقہ کار ہے

    جواب

    • وعلیکم السلام
      جواب کا شکریہ۔ میں آپ سے متفق ہوں کہ امریکہ کو بالکل بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ میرے مضمون کا بنیادی مقصد یہ توجہ دلانا ہے کہ محض امریکہ پر الزام دھرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ پہلے ہم اپنی داخلی خامیوں کو دور کریں تو مجال نہیں کہ امریکہ یا کوئی اور ریمنڈ ڈیوس کو لے جائے یا اسامہ کو ہماری سرزمیں پر ہلاک کرے یا ڈرون حملے جاری رکھے۔ گذشتہ کئ دہائیوں سے ہم اجتماعی سطح پر امریکہ کی دشمنی کا پرچار تو کررہے ہیں لیکن انفرادی سطح پر امریکہ شہریت، مصنوعات اور کلچر کے دلدادہ ہیں ۔ اس منافقانہ روئے سے ہم کسی اور کو نہیں بلکہ خود کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔

      جواب

  3. Posted by Niaz Sawati on 15/05/2011 at 7:01 شام

    America hamari tabahi ka mukammal zimme dar naheen bal k wo aik aise nizam (Capitalism) ka international sarparast hay jo Allah k bandon ko Allah ki bandgi se dur or iblees ki bandgi k qareeb karta hay. Islami Nizam mein neki karna aasaan aur badi kerna mushkil hojata hay magar Capitalism mein burai kerna aasaan aor neki kerna mushkil hoto hay plz understand. Niaz Hussain Swati

    جواب

  4. Posted by Seemab Qadeer on 12/05/2011 at 10:01 صبح

    What an excellent article as to how u have matched the ghost in the graveyard n ghost being America. Keep it up Professor.f

    جواب

  5. آپ ایک پروفیسر ہیں اور اپنے پروفیسر ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں۔ کوئی خواب غفلت سے جاگے یا نہ جاگے مگر آپ الصلاۃ خیر من النوم کی صدا لگاتے رہیئے۔ کوئی یہ تو نا کہہ سکے کہ کسی نے جگانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی

    جواب

    • السلام علیکم
      آپ کے مثبت اور مفید فیڈ بیک کا بہت شکریہ۔ بس اللہ کا پیغام اور مثبت تعمیری سوچ کو پھیلانے میں ہمیں ایک دوسرے کی معاونت کرنی چاہئے۔

      جواب

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s