گناہوں کی مغفرت کس طرح ہوتی ہے؟


توبہ ۔مضمون نمبر 2
توبہ کا تعلق گناہوں کی مغفرت سے بہت گہراہے۔ توبہ اللہ کی بارگاہ میں معافی کی ایک درخواست ہے جبکہ مغفرت اس درخواست کی قبولیت کا نام ہے۔توبہ کا مطلب لوٹنا اور رجوع کرنا جبکہ مغفرت کا مطلب ڈھانپ دینا یا چھپالینا ہے۔ گناہوں کی مغفرت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ انسان کے نامہ اعمال سے مٹ جائیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی کمزوری کو مد نظر رکھتے ہوئے مغفرت کا امکان رکھا ہے لیکن یہ معاملہ بے اصولی پر مبنی نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور عدل کے تقاضوں کے تحت ہے۔اس ضمن میں مندرجہ ذیل آیات ملاخطہ فرمائیں۔
۱۔اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون کر سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے [آل عمران۔135:3]
۲۔اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا (اور) مہربان پائے گا [النساء 110:4]
۳۔اگر تم بڑے ممنوعہ گناہوں سے پرہیز کرتے رہو تو ہم تمہاری کوتاہیوں کو مٹادیں گے اور ایک عزت والی جگہ میں داخل کردیں گے[النساء4: 31]
۴۔اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح و شام) کے اوقات میں اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ان کے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنیوالے ہیں[ھود 114:11]
گناہوں کی مغفرت کے اصول
قرآن و سنت کی روشنی میں گناہوں کی مغفرت کے قانون کی درج ذیل شرائط سامنے آتی ہیں۔
۱۔ اللہ کو یاد کرکےندامت کا احساس ہونا
۲۔ مغفرت اور بخشش طلب کرنا
۳۔جان بوجھ کر اصرار سے گریز کرنا
۴۔اللہ سے اچھی امید رکھنا
۵۔ اصلاح کی کوشش کرنا
۶۔بڑے گناہ اور حقوق العباد سے متعلق گناہ کے لئے توبہ اور ان کا ممکنہ ازالہ کی کوشش کرنا۔
۷۔ چھوٹی کوتاہیوں پر اجمالی توبہ کرنا اور نیک اعمال سے انہیں مٹانے کی کوشش کرنا
گناہوں کی مغفرت سے متعلق غلط فہمیاں:
اس ضمن میں عام طور پر درج ذیل غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔
۱۔ فضائل سے متعلق احادیث کے لئےمحدثین کی جرح و تعدیل کا میعار نرم ہے۔چنانچہ مجرد ایک عمل کی بنا پر بخش دئیے جانے والی روایا ت محل نظر ہیں جیسے کسی کتے کو پانی پلانے پر بخش دیا جانا یا فلاں تسبیح پڑھ لینے سے تمام گناہوں کا معاف ہوجاناوغیرہ جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوتا ہے۔” سعید بن عاص سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر تھا آپ نے وضو کے لئے پانی منگوا کر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے اور اچھی طرح وضو کرے اور خشوع وخضوع سے نماز ادا کرے تو وہ نماز اس کے تمام پچھلے گناہوں کے لئے کفارہ ہو جائے گی بشرطیکہ اس سے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو اور یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا”۔[ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 543 ]
۲۔ اسی طرح یہ اصول بھی قرآن میں وضاحت سے بیان ہوگیا ہے کہ کسی کی شفاعت کسی حق کو باطل یا باطل کو حق نہیں کرسکتی۔ یہی حقیقت کہ اس حدیث میں بیان ہوئی ہے” حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حشر کے دن سارے مومن جمع کئے جائیں گے وہ اس دن سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے یا ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی یہ حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں یہ بھی فرمایا کہ چوتھی بار میں ان کی شفاعت کروں گا اور یہ عرض کروں گا اے پروردگار اب دوزخ میں صرف وہ لوگ باقی وہ گئے ہیں جن کو قرآن نے روکا ہے۔ [صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 476]
۳۔کسی کی دعائے مغفرت کے معاملے میں بھی یہی قانون ہے۔
۴۔ جائز ایصال ثواب کے ضمن میں بھی یہی قانون ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوتا ہے” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب انسان مر جاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ تمام اعمال منقطع ہو جاتے ہیں صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔”[ صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1729 ]

One response to this post.

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s