توبہ کا قانون اور شرائط کیا ہیں؟


توبہ ۔مضمون نمبر 3
توبہ کا قانون قرآن میں بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ ذیل کی آیات ملاخطہ فرمائیں:
۱۔خدا انہیں لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو جہالت میں کسی بری حرکت کو کر بیٹھتے ہیں پھر جلد توبہ کر لیتے ہیں پس ایسے لوگوں پر خدا مہربانی کرتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے [النساء :17:4]
۲۔ پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا پھر اس کے بعد توبہ اور نیکو کار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہو جانے کے بعد بخشنے والا اور (ان پر) رحمت کرنے والا ہے[النحل 119:16]
ان آیات اور قرآن و حدیث کے دیگر اشارات کی بنیاد پر توبہ کے مندرجہ ذیل لوازمات سامنے آتے ہیں۔
۱۔ گناہ یا گناہوں پر دل سے نادم ہونا اور اللہ سے مغفرت طلب کرنا
۲۔گناہ پر اصرار نہ کرناجیسے حضرت آدم علیہ السلام کو جیسے ہی اپنی کوتاہی کا علم ہوا تو فوری طور پر مغفرت کے لئے لپکے لیکن شیطان نے اکڑ دکھائی اور اپنے گناہ پر اصرار کیا۔اصرار قولی بھی ہوسکتا ہے اور عملی بھی۔
۳۔توبہ میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کرنا یعنی فوری طور پر رجوع کرنا ہے۔فوری طور پر رجوع کرنے کا پیمانہ صرف وقت ہی نہیں کہ گناہ کرنے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر توبہ کی تو قبول ہوجائے گی وگرنہ یہ تاخیر کہلائے گی۔ فوری توبہ کا مفہوم یہ ہے کہ جونہی جہل خاتمہ ہو اور انسان اپنے معمول پر آجائے تو توبہ کرلی جائے۔
۴۔گناہ یا غلطی ترک کرنے کا مصمم ارادہ کرنا اور عملی اقدام کرنا
۵۔اگرغلطی کا ازالہ ممکن ہو توازالہ کرنا جیسے اگر کسی کا مال چرایا ہے تو وہ مال واپس کرنا یا کسی کا دل دکھایا ہے تو اس سے معافی مانگنا۔
۶۔ اگر گناہ یا جرم کا تعلق ریاست کے حقوق سے متعلق سے تو خود کو ریاست کے حوالے کردینا

کن لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی؟
۱۔ جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ایسوں کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوگی اور یہ لوگ گمراہ ہیں[آل عمران۔۹۰:۳]
۲۔ اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو (ساری عمر) برے کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آ موجود ہو تو اس وقت کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی (توبہ قبول ہوتی ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لیے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے۔[النساء 18:4]
۳۔خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے، اور انکے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے[البقرہ 7:2]
ان آیات سے درج ذیل نتائج سامنے آتےہیں۔
۱۔توبہ قبول نہ ہونے کی پہلی وجہ توبہ کو موت تک موخر کرنا ہے۔موت تک موخر کرنے سے مراد صرف موت کا یقین ہونا نہیں ہےبلکہ اس کا مفہوم موت کا متعین ہوجانا،سکرات موت کا طاری ہونا اورغیب کے پردے کا چاک ہوجانا ہے۔ جیسے فرعون جب غرق ہونے لگا تو اس نے غیب کا انکشاف دیکھ لیا چنانچہ اسکی توبہ قبول نہیں ہوئی۔ البتہ ایک شخص کو خبر ہو کہ اسے کینسر ہے اور اب وہ توبہ کر کرہا ہے تو اس کی توبہ پر موت تک موخر کرنے کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ نہ تو غیب اس پر منکشف ہوا اور نہ ہی وہ اس کی موت بالکل متعین ہے۔
۲۔ گناہوں کی زندگی کو اوڑھنا بچھونا بنا نا اور زندگی غیر سنجیدہ انداز میں گذارنااور پھر موت کے وقت توبہ کرنا ۔
۳۔ کفر کی حالت میں موت کے قریب پہنچنا بھی توبہ کا امکان معدوم کردیتا ہے۔
۴۔گناہوں کی زیادتی کی بنا پر دل پر مہر لگ جانا بھی توبہ کی عدم قبولیت کا ایک سبب ہے۔

8 responses to this post.

  1. Posted by Rizwan Ahmad on 01/06/2011 at 11:44 صبح

    jazak allah,bohut hi piari aur kam ki baten hen

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s