توبہ میں درپیش مشکلات اور ان کا علاج


توبہ ۔مضمون نمبر 5
عام طور پر ہمارے معاشرے میں لوگوں کو توبہ کرنے میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان میں سے چند کا بیان درج ذیل ہے:
۱۔گناہ یا انحراف سے لاعلمی: اگر گناہ کا علم ہی نہ تو توبہ ممکن نہیں۔ جیسے کسی کو علم ہی نہیں کہ دوسروں کی پیٹھ پیچھے برائی کرنا غیبت ہے۔اس لاعلمی کی بنا پر گناہ کرنا جائز نہیں ہوجاتا چنانچہ علم حاصل کرنا لازم ہے۔ یہ لاعلمی عام طور پر شریعت میں نہیں بلکہ اخلاقیات میں ہوتی ہے۔ اس کا علاج یہی ہے کہ علمی اشکالات اہل علم کی محفلوں میں سیکھے جائیں اور عملی مسائل اہل فن سے پوچھے جائیں ۔
۲۔گناہ کے اسبا ب سے لاعلمی: گناہ کا تو علم ہوگیا لیکن یہ پتا نہیں چل رہا کہ یہ گناہ کیوں ہورہا ہے۔ چنانچہ زبانی توبہ کرنے کے باوجود عملی طور پر ناکامی ہوتی ہے۔چنانچہ تو بہ کرنے سے قبل گناہ کا سبب معلوم کرنا بھی اہم ہے۔گناہ کے چنداسباب درج ذیل ہوسکتے ہیں۔
• جذبات کی مغلوبیت جیسے غصہ میں کسی کو گالی دے دینا یا شہوت کے زیر اثر بد فعلی کرلینا۔چنانچہ توبہ کرنے سے قبل جذبات سے آگاہی اور ان پر قابو پانا لازم ہے۔ اس سلسلے میں اسکالز اور ما ہرین سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔
• ماحول اور صحبت کی بنا پر گناہ پر مائل ہوجانا جیسے شرابیوں میں بیٹھ کر شرابی ہوجانا۔ توبہ کے لئے لازم ہے کہ بری صحبت کو ترک کردیا جائے۔ برا ماحول چھوڑنے کا مطلب جگہ یا ساتھیوں کی تبدیلی ہے۔ چنانچہ یہ دیکھیں کہ کون سے لوگ یا کون سے مقامات آپ کو گناہ میں ملوث کرتے ہیں۔ پھر ان سے کنارہ کشی اختیار کریں۔
• مفادات کا تحفظ جیسے تاجروں کا ناجائز ذخیرہ اندوزی کرنا۔ اسکا علاج یہ ہے کہ اللہ پر بھروسہ کریں اور غیر اختیاری امور میں ناجائز اقدام کی بجائے تفویض و صبر کا مظاہرہ کریں۔
• خواہشات میں افراط و تفریط بھی ایک گناہ کا سبب ہے ۔ مثال کے طور پر ایک شخص کو کئی گاڑیوں کو شوق ہے تو وہ اس شوق کو پورا کرنے کے لئے ناجائز اقدام کرتا ہے۔ اسی طرح جائز خواہشات اور تقاضوں کو دبانا بھی گناہ کی طرف لے جاسکتا ہے۔ جیسے ایک شخص قدرت کے باوجود تجرد کی زندگی گذاررہا ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ کسی گناہ میں ملوث ہوجائے۔ چنانچہ جائز خواہشات کو پورا کیا جائے اور ناجائز پر قناعت کی جائے۔
• بری عادت بھی گناہ کا ایک سبب ہے جیسے سستی کی بنا پر فجر کی نماز ترک کردینا۔اس کا علاج بری عادتوں سے آگاہی اور پھر خوش اسلوبی سے انہیں ترک کرنا ہے۔
• انا پرستی اور استکبارایک اور سبب ہے جس کا شکار سب سے پہلے ابلیس ہوا۔ انا کے بت کو توڑنے کے لئے تربیت اور تزکیہ کی ضرورت ہے۔
• ایک اور سبب تعصب و تاویلات ہیں جیسے دوسرے فرقے کے لوگوں کو کافر انکا کا قتل جائز قرار دینا۔ اس کا علاج مخالف کے نقطہ نظر کو نیوٹرل سے سننا، سمجھنا اور اسے غلطی کا مارجن دیتے ہوئے نیک نیت سمجھنا ہے۔
۳۔قوت ارادی کی کمزوری
توبہ میں ایک سب سے بڑی مشکل قوت اردی کی کمی ہے۔ گناہ کا علم بھی ہوگیا اور سبب بھی پتا چل گیا۔ توبہ بھی کرلی لیکن کچھ دنوں بعد پھر وہی گناہ صادر ہوگیا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ توبہ کی بنیادی شرط آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کرنااور اس سے بچنے کے عملی اقدام کرنا ہے۔ لیکن ان اقدام پر بھر پور عمل کے باوجود بشری تقاضوں کے تحت اگر ناکامی ہو جائے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے کیونکہ اصول ہے کہ
لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا یعنی اللہ کسی پر اسکی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔لیکن یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص اس عذر کی بنا پر اسی تن دہی سے گناہ کرتا رہے ۔ توبہ کا لازمی نتیجہ اس گناہ کرنے کی تعداد یا مقدار میں کمی اور بالآخر نجات ہے۔
گناہ دوبارہ سرزد ہونے کی بنیادی وجہ قوت ارادی میں کمی ہے جس کا علاج کوئی آسان اور فوری نہیں ۔اس کےلئے جان توڑ محنت کرنا، نفس کو مختلف طریقو ں سے روکنا اور تربیت کرنا ہیں۔چنانچہ قوت ارادی کو مضبوط بنانا کے لئے جرمانہ یا سزا مقرر کرلیں کہ فلاں گناہ ہونے پر مال صدقہ کرنا ہے یا روزہ رکھنا ہے یا دس نفل پڑھنے ہیں یا کسی صاحب سے معذرت کرکے انا کو توڑنا ہے وغیرہ۔ لیکن جرمانہ نہ تو اتنا کم ہو کہ نفس کو کوئی تکلیف نہ ہو اور نہ ہی اتنا بھاری ہو کہ عمل درآمد ہی ممکن نہ ہو۔
جرمانے کے علاوہ کسی گناہ سے بچنے کے لئے قسم بھی کھائی جا سکتی ہے۔البتہ تربیت کا سب سے مناسب طریقہ اہل علم کی صحبت اور ان سے مشاورت ہے۔
۴۔ اللہ کے بارے میں غلط تصورات
توبہ کی ایک اور آفت اللہ تعالیٰ کے بارے میں خود ساختہ اور غلط تصورات کا ہونا ہے۔ جیسے ایک شخص اللہ کوغفور و رحیم مانتے ہوئے نافرمانی کرتا رہے اور یہ سمجھے کہ سب معاف ہوجائے گا ۔ یا کوئی اپنے گناہوں کی کثرت کی بنا پر اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجائے۔یا کسی کا تکیہ کسی بزرگ کی سفارش پر ہو۔ان غلط فہمیوں کا علاج اللہ کی صفات کا درست ادراک ہے۔

6 responses to this post.

  1. Posted by ij on 19/08/2016 at 4:05 شام

    GOOD WRITING,Mashallah.

    جواب دیں

  2. Posted by farooq mohiuddin on 18/05/2011 at 1:19 شام

    جزاک اللہ
    ماشا اللہ بہت اچھا لکھا ہے

    جواب دیں

  3. جزاک اللہ خيراٌ
    ميرا دل آپ کا شاگرد بننے کو اْچھل رہا ہے

    جواب دیں

  4. Posted by seemab qadeer on 18/05/2011 at 9:04 صبح

    Aqil bhai you given a lot of information in your article regarding forgiveness from Almighty and as to how we should train, learn,practice and change ourselves etc.

    جواب دیں

  5. Posted by بنیاد پرست on 18/05/2011 at 7:25 صبح

    ماشا اللہ بہت اچھا لکھا ہے۔
    اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے

    جواب دیں

تبصرہ کیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s